Jasarat News:
2026-06-02@22:09:34 GMT

وفاقی اردو یونیورسٹی کا مالی بحران

اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260125-03-3
وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی ایک بار پھر شدید مالی بحران کی لپیٹ میں ہے، اور اس بار صورتِ حال اس حد تک سنگین ہو چکی ہے کہ اساتذہ اور ملازمین کی تمام منتخب ایسوسی ایشنز کو مشترکہ ہنگامی اجلاس بلانا پڑا۔ اجلاس میں اساتذہ اور ملازمین کو درپیش معاشی مشکلات، زیر ِ التواء واجبات، تنخواہوں میں تاخیر اور بڑھتے ہوئے مالی دباؤ پر سنجیدہ تشویش کا اظہار کیا گیا۔ شرکاء نے بجا طور پر اس امر کی نشاندہی کی کہ حکومت کی جانب سے دی جانے والی موجودہ گرانٹ ناکافی ہے اور موجودہ حالات میں یونیورسٹی کا نظام چلانا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔ ایسے میں دیگر سرکاری جامعات کی طرز پر وفاقی اردو یونیورسٹی کے لیے بیل آؤٹ پیکیج دینا ناگزیر ہو چکا ہے۔ یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ جب دیگر جامعات کو مالی بحران سے نکالنے کے لیے خصوصی پیکیجز دیے جا سکتے ہیں تو اردو یونیورسٹی کو اس حق سے کیوں محروم رکھا جا رہا ہے؟ کیا قومی زبان کے نام پر قائم اس وفاقی ادارے کی اہمیت محض تقاریر اور تقریبات تک محدود ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اردو یونیورسٹی سمیت پبلک یونیوسٹیوں کو بتدریج بے وقعت کیا جارہا ہے جب کہ یہی چند یونوسٹیاں متوسط اور نچلے طبقے کے ہزاروں طلبہ کے لیے آگے بڑھنے کا واحد سہارا بھی ہیں۔ دیکھا جائے تو مالی بحران کا تسلسل تعلیمی سرگرمیوں کو براہِ راست متاثر کر رہا ہے۔ اساتذہ ذہنی دباؤ کا شکار ہیں، ملازمین شدید معاشی مشکلات میں مبتلا ہیں اور اس کا براہِ راست اثر طلبہ کے تعلیمی مستقبل پر پڑ رہا ہے۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو خدشہ ہے کہ یہ بحران محض مالی نہ رہے بلکہ تعلیمی اور انتظامی تباہی میں تبدیل ہو جائے۔ حکومت ِ وفاق، بالخصوص وزارتِ تعلیم اور اعلیٰ تعلیمی کمیشن کو اس معاملے کو ہنگامی بنیادوں پر دیکھنا ہوگا۔ وقتی اعلانات یا جزوی گرانٹس اس مسئلے کا حل نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک جامع بیل آؤٹ پیکیج کے ذریعے نہ صرف موجودہ واجبات ادا کیے جائیں بلکہ مستقبل کے لیے پائیدار مالی منصوبہ بندی بھی کی جائے۔ وفاقی اردو یونیورسٹی کا بحران دراصل قومی ترجیحات کا آئینہ دار ہے۔ اگر ہم واقعی تعلیم اور قومی زبان کے فروغ کے خواہاں ہیں تو اس ادارے کو محض زندہ رکھنے نہیں بلکہ مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ بصورتِ دیگر یہ بحران صرف ایک یونیورسٹی کا نہیں رہے گا بلکہ پورے تعلیمی نظام پر ایک اور بدنما داغ بن جائے گا۔

اداریہ سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: وفاقی اردو یونیورسٹی یونیورسٹی کا مالی بحران کے لیے

پڑھیں:

وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا

وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیا جائےگا۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے وضاحت کی کہ بجٹ سے پہلے کوئی قانون سازی نہیں ہورہی۔

واضح رہے کہ قبل ازیں قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس 5 جون کو طلب کیا گیا تھا، تاہم آج قومی اقتصادی کونسل کا 3 جون کو ہونے والا اجلاس اچانک ملتوی کردیا گیا تھا، جس کے بعد واضح ہوگیا تھا کہ 5 جون کو بجٹ پیش نہیں ہوگا۔

قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس ملتوی ہونے کے بعد میڈیا پر یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ حکومت بجٹ سے قبل کوئی اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے، تاہم طارق فضل چوہدری نے ایسی خبروں کی تردید کی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews تاریخ کا اعلان طارق فضل چوہدری وفاقی بجٹ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا