وفاقی اردو یونیورسٹی کا مالی بحران
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260125-03-3
وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی ایک بار پھر شدید مالی بحران کی لپیٹ میں ہے، اور اس بار صورتِ حال اس حد تک سنگین ہو چکی ہے کہ اساتذہ اور ملازمین کی تمام منتخب ایسوسی ایشنز کو مشترکہ ہنگامی اجلاس بلانا پڑا۔ اجلاس میں اساتذہ اور ملازمین کو درپیش معاشی مشکلات، زیر ِ التواء واجبات، تنخواہوں میں تاخیر اور بڑھتے ہوئے مالی دباؤ پر سنجیدہ تشویش کا اظہار کیا گیا۔ شرکاء نے بجا طور پر اس امر کی نشاندہی کی کہ حکومت کی جانب سے دی جانے والی موجودہ گرانٹ ناکافی ہے اور موجودہ حالات میں یونیورسٹی کا نظام چلانا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔ ایسے میں دیگر سرکاری جامعات کی طرز پر وفاقی اردو یونیورسٹی کے لیے بیل آؤٹ پیکیج دینا ناگزیر ہو چکا ہے۔ یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ جب دیگر جامعات کو مالی بحران سے نکالنے کے لیے خصوصی پیکیجز دیے جا سکتے ہیں تو اردو یونیورسٹی کو اس حق سے کیوں محروم رکھا جا رہا ہے؟ کیا قومی زبان کے نام پر قائم اس وفاقی ادارے کی اہمیت محض تقاریر اور تقریبات تک محدود ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اردو یونیورسٹی سمیت پبلک یونیوسٹیوں کو بتدریج بے وقعت کیا جارہا ہے جب کہ یہی چند یونوسٹیاں متوسط اور نچلے طبقے کے ہزاروں طلبہ کے لیے آگے بڑھنے کا واحد سہارا بھی ہیں۔ دیکھا جائے تو مالی بحران کا تسلسل تعلیمی سرگرمیوں کو براہِ راست متاثر کر رہا ہے۔ اساتذہ ذہنی دباؤ کا شکار ہیں، ملازمین شدید معاشی مشکلات میں مبتلا ہیں اور اس کا براہِ راست اثر طلبہ کے تعلیمی مستقبل پر پڑ رہا ہے۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو خدشہ ہے کہ یہ بحران محض مالی نہ رہے بلکہ تعلیمی اور انتظامی تباہی میں تبدیل ہو جائے۔ حکومت ِ وفاق، بالخصوص وزارتِ تعلیم اور اعلیٰ تعلیمی کمیشن کو اس معاملے کو ہنگامی بنیادوں پر دیکھنا ہوگا۔ وقتی اعلانات یا جزوی گرانٹس اس مسئلے کا حل نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک جامع بیل آؤٹ پیکیج کے ذریعے نہ صرف موجودہ واجبات ادا کیے جائیں بلکہ مستقبل کے لیے پائیدار مالی منصوبہ بندی بھی کی جائے۔ وفاقی اردو یونیورسٹی کا بحران دراصل قومی ترجیحات کا آئینہ دار ہے۔ اگر ہم واقعی تعلیم اور قومی زبان کے فروغ کے خواہاں ہیں تو اس ادارے کو محض زندہ رکھنے نہیں بلکہ مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ بصورتِ دیگر یہ بحران صرف ایک یونیورسٹی کا نہیں رہے گا بلکہ پورے تعلیمی نظام پر ایک اور بدنما داغ بن جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وفاقی اردو یونیورسٹی یونیورسٹی کا مالی بحران کے لیے
پڑھیں:
ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
سٹی 42: ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی لاہور پہنچ گئے ۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایرانی ہم منصب کا استقبال کیا۔
گورنرپنجاب سردار سلیم حیدر خان ودیگرایئرپورٹ پر موجود تھے۔ایرانی وزیر داخلہ نے مزاراقبال اور دربار بی بی پاکدامن پر حاضری دی ۔
وزیر داخلہ محسن نقوی اور گورنر پنجاب سلیم حیدر خان بھی ہمراہ تھے۔
ایرانی وزیر داخلہ نے مزار اقبال پر پھول رکھے ،امن و استحکام کیلئے دعا کی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی