بھارتی ایئرلائنز کا سنگین بحران، انڈیگو کی پرواز کو 5 روز میں دوسری مرتبہ بم کی دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
بھارت میں فضائی سلامتی اور قومی ایئرلائنز کی مالی حالت سنگین بحران کی واضح تصویر پیش کر رہی ہے جہاں انڈیگو کی پرواز کو 5 روز میں دوسری مرتبہ بم کی دھمکی موصول ہوئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق دہلی سے پونے جانے والی انڈیگو کی پرواز کو صرف 5 دنوں میں دوسری مرتبہ بم کی دھمکی موصول ہوئی، جس پر ایئر ٹریفک کنٹرول نے فوری طور پر ایپرن کنٹرول کو اطلاع دی، جس کے بعد طیارے کو آئسولیشن بے میں منتقل کر دیا گیا۔
رواں ہفتے کے دوران ہی انڈیگو کی ایک اور پرواز کو سکیورٹی دھمکی کے بعد لکھنؤ منتقل کیا گیا تھا۔
ماہرین کے مطابق ایک ہی روٹس پر بار بار بم دھمکیاں بھارتی فضائی سلامتی کے نظام کی کمزوری کو بے نقاب کر رہی ہیں جبکہ ان واقعات کو حکومتی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی منظم کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
عالمی جریدے بلومبرگ نے بھارتی میڈیا کے پروپیگنڈے کے برعکس اصل معاشی اور انتظامی بحران کو منظرِ عام پر لایا ہے اور رپورٹ میں بتایا کہ ایئر انڈیا لمیٹڈ کو رواں مالی سال میں ریکارڈ سالانہ خسارے کا سامنا ہے۔
بلومبرگ کے مطابق جون میں ہونے والے ڈریم لائنر کے مہلک حادثے میں 240 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جس کے بعد ایئر انڈیا کو تقریباً 1.
رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان کی فضائی حدود بند ہونے کے بعد بھارتی ایئرلائنز کو یورپ اور امریکا کے لیے طویل، پیچیدہ اور مہنگے راستے اختیار کرنا پڑ رہے ہیں، جس سے ایوی ایشن اخراجات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔
بزنس انٹیلیجنس پلیٹ فارم ٹوفلرکے مطابق ایئر انڈیا نے گزشتہ تین سال میں 322.1 ارب روپے کا نقصان اٹھایا ہے، جو بھارتی ایوی ایشن سیکٹر میں شدید بدانتظامی اور سیاسی مداخلت کی واضح مثال ہے۔
ماہرین کے مطابق ایئر انڈیا کا بڑھتا ہوا خسارہ سیاسی دباؤ، ناقص انتظام اور حفاظتی غفلت کا نتیجہ ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ جون میں ہونے والا حادثہ بھارتی ایوی ایشن تاریخ کی سنگین حفاظتی ناکامیوں میں شمار کیا جا رہا ہے اور پاکستانی فضائی حدود کی بندش نے بھارتی ایئرلائنز کے اخراجات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے جبکہ بھارتی ایوی ایشن سیکٹر پہلے ہی تاخیر، پروازوں کی منسوخی اور انتظامی بحران کا شکار تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بھارتی ایئرلائنز ایئر انڈیا انڈیگو کی ایوی ایشن پرواز کو کے مطابق کے بعد
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔