data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(اسٹاف رپورٹر) سردی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی بچوں میں مختلف بیماریوں کے کیسز رپورٹ ہونے لگے اور اسپتالوں میں رش لگ گیا۔تفصیلات کے مطابق کراچی میں سردی کے بڑھتے موسم کے اثرات نمایاں ہو گئے ہیں جہاں سرکاری اور نجی اسپتالوں کی ایمرجنسی اور او پی ڈی میں بچوں کی بڑی تعداد رپورٹ ہو رہی ہے۔سربراہ شعبہ ایمرجنسی نیشنل انسٹیٹیوٹ آف چلڈرن ہیلتھ ڈاکٹر حیات بزدار نے بتایا کہ قومی ادارہ صحت کی ایمرجنسی میں یومیہ 100 سے زائد بچے مختلف بیماریوں کے ساتھ آرہے ہیں، چلڈرن اسپتال گلشن اقبال کی ایمرجنسی اور او پی ڈی میں بھی روزانہ تقریباً 80 بچے رپورٹ ہو رہے ہیں۔شہر کے سرکاری اسپتالوں کے پیشنٹ ایڈ فاؤنڈیشن میں بھی بچوں کا رش جاری ہے۔ زیادہ تر بچے نزلہ، زکام، کھانسی اور ڈی ہائیڈریشن کی شکایات کے ساتھ اسپتال پہنچ رہے ہیں۔ڈاکٹر حیات بزدار نے کہا کہ سردی کے موسم میں بچے کم پانی پیتے ہیں، جس کی وجہ سے ان میں ڈی ہائیڈریشن کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔سربراہ شعبہ ایمرجنسی نے والدین سے اپیل کی کہ وہ بچوں کو مناسب پانی پلائیں اور سردی سے بچاؤ کے لیے احتیاطی اقدامات کریں تاکہ بیماریوں کے خطرات کم ہوں۔انڈس اسپتال کی ایمرجنسی میں بھی سردی کے اثرات کے باعث بچوں کی بڑی تعداد رپورٹ ہوئی ہے، جس سے صحت کے محکمے الرٹ ہیں اور والدین سے احتیاط کی ہدایت کی گئی ہے۔

اسٹاف رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کی ایمرجنسی

پڑھیں:

طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم

ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ  کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق