طلبہ کی کردار سازی کیسے کی جائے؟پیس ایسوسی ایشن
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (پ ر)طلبہ کی کردار سازی اور مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہمیں جدید خطوط پر کام کرنا پڑے گا، سوشل میڈیا کے پرفتن دور اور گیجیٹس کی دنیا کے چکاچوند کی وجہ سے اساتذہ پر پہلے سے زیادہ بھاری ذمہ داریاں عاید ہوتی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار پیس ایسوسی ایشن کے چیئرمین بابر خان جدون نے تنظیم کے اورنگی اور سائٹ چیپٹر کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں کیا۔انہوں نے کہا ہم خاموش تماشائی نہیں، ہم وقت کے دھاروں کو موڑنے والے ہیں، طلبہ کو یہ ذہین نشین کرانا ہوگا کہ ان کے ہیروز کون ہیں، انہیں عظیم صحابہ کرامؓ کی کامیابیوں اور اسلامی تاریخ کے علاوہ تحریک پاکستان اور نظریہ پاکستان کے بارے میں بھی آگاہی ہونی چاہیے۔ سائٹ کے مقامی کانفرنس ہال میں ہونے والے غیرمعمولی اجلاس میں اورنگی ٹاون اور سائٹ کے نجی اسکولوں کے پرنسپلز نے کثیرتعداد میں شرکت کی۔ اجلاس میں رمضان المبارک کے دوران طلبہ کی ہم نصابی سرگرمیوں کے لیے ایک جامع پلان پیش کیا گیا۔ پیس ایسوسی ایشن پاکستان کے سینئر نائب صدر جمیل اصغرنے اپنے خطاب میں پیس ایسوسی ایشن کے مقاصد اور منشور پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پیس کا کسی بھی تنظیم سے کوئی موازنہ یا مقابلہ نہیں۔انہوں نے پرنسپلز اور اساتذہ کی ذمے داریوں پر روشنی ڈالی اور ایسوسی ایشن کی طرف سے ہر قسم کے تعاون کا یقین دلایا۔ اجلاس پیس کے سیکرٹری جنرل انصر محمود، وقار برق، سجاد تنولی اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پیس ایسوسی ایشن
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔