data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امیگریشن اہلکار کے ہاتھوں 37 سالہ امریکی شہری رینی گڈ کی ہلاکت کے معاملے میں تفتیش کرنے کی کوشش کرنے والی امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) کی ایک سینئر ایجنٹ نے استعفا دے دیا۔ خبر رساں اداروں کے مطابق ٹریسی مورگن نامی ایجنٹ ایف بی آئی کے منیاپولس فیلڈ آفس میں ایک سینئر سپروائزر تھیں، جنہوں نے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ ‘‘’آئی سی ای‘ کے اہلکار جوناتھن راس کے خلاف ایک سول رائٹس انکوائری شروع کرنے کی کوشش کی تھی۔اس انکوائری کا مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ آیا راس نے گڈ کو غیر ضروری طاقت استعمال کرتے ہوئے قتل کیا یا نہیں۔ رینی گڈ، جن کی 3بچے ہیں، رواں ماہ کے شروع میں منیاپولس میں اپنے گاڑی میں موجود تھیں جب وفاقی امیگریشن اہلکار نے انہیں گولی مار کر ہلاک کیا۔ اس واقعے نے امریکا میں وسیع بحث اور تنقید پیدا کی، کیونکہ کچھ حکام نے کہا کہ گڈ نے گاڑی سے اہلکار کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی، جبکہ دیگر نے اسے انتہائی طاقت کا استعمال قرار دیا ہے۔ ایف بی آئی کی اعلیٰ قیادت نے مبینہ طور پر مورگن پر دباؤ ڈالا کہ وہ اس مقدمے کو آگے نہ بڑھائیں اور اسے روک دیں، جس کے بعد انہوں نے اپنے عہدے سے استعفا دے دیا۔ امریکی محکمہ انصاف نے بھی اس واقعے کی تفتیش میں ریاستی محکموں کو شراکت کرنے سے روک دیا، جس پر مقامی حکام نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یہ بھی رپورٹ کیا گیا ہے کہ گڈ کی ہلاکت کے بعد وفاقی سطح پر اور بھی متعدد قانونی اور سیاسی سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ کچھ وفاقی و ریاستی وکلا نے عدالتی عمل اور شواہد کی بنیاد پر مزید تحقیقات کی درخواست کی ہے، جبکہ کچھ وفاقی پراسیکیوٹرز نے بھی اپنے عہدوں سے استعفا دے دیا تھا کیونکہ انہیں معاملے میں مناسب کارروائی نہ ہونے پر اختلاف تھا۔ ابھی تک ایف بی آئی یا امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے اس واقعے اور مورگن کے استعفے پر کوئی سرکاری تبصرہ سامنے نہیں آیا۔

انٹرنیشنل ڈیسک گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایف بی ا ئی

پڑھیں:

کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔

 ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔

انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔

بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • گوجرانوالہ: ایجنٹ مافیا کے خلاف ایف آئی اے کا کریک ڈاؤن، 15 گرفتار
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل  کے پی انعام یوسف زئی مستعفی
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار