منی سوٹا میں خاتون کی ہلاکت کی تحقیقات‘ ایف بی آئی ایجنٹ مستعفی
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امیگریشن اہلکار کے ہاتھوں 37 سالہ امریکی شہری رینی گڈ کی ہلاکت کے معاملے میں تفتیش کرنے کی کوشش کرنے والی امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) کی ایک سینئر ایجنٹ نے استعفا دے دیا۔ خبر رساں اداروں کے مطابق ٹریسی مورگن نامی ایجنٹ ایف بی آئی کے منیاپولس فیلڈ آفس میں ایک سینئر سپروائزر تھیں، جنہوں نے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ ‘‘’آئی سی ای‘ کے اہلکار جوناتھن راس کے خلاف ایک سول رائٹس انکوائری شروع کرنے کی کوشش کی تھی۔اس انکوائری کا مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ آیا راس نے گڈ کو غیر ضروری طاقت استعمال کرتے ہوئے قتل کیا یا نہیں۔ رینی گڈ، جن کی 3بچے ہیں، رواں ماہ کے شروع میں منیاپولس میں اپنے گاڑی میں موجود تھیں جب وفاقی امیگریشن اہلکار نے انہیں گولی مار کر ہلاک کیا۔ اس واقعے نے امریکا میں وسیع بحث اور تنقید پیدا کی، کیونکہ کچھ حکام نے کہا کہ گڈ نے گاڑی سے اہلکار کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی، جبکہ دیگر نے اسے انتہائی طاقت کا استعمال قرار دیا ہے۔ ایف بی آئی کی اعلیٰ قیادت نے مبینہ طور پر مورگن پر دباؤ ڈالا کہ وہ اس مقدمے کو آگے نہ بڑھائیں اور اسے روک دیں، جس کے بعد انہوں نے اپنے عہدے سے استعفا دے دیا۔ امریکی محکمہ انصاف نے بھی اس واقعے کی تفتیش میں ریاستی محکموں کو شراکت کرنے سے روک دیا، جس پر مقامی حکام نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یہ بھی رپورٹ کیا گیا ہے کہ گڈ کی ہلاکت کے بعد وفاقی سطح پر اور بھی متعدد قانونی اور سیاسی سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ کچھ وفاقی و ریاستی وکلا نے عدالتی عمل اور شواہد کی بنیاد پر مزید تحقیقات کی درخواست کی ہے، جبکہ کچھ وفاقی پراسیکیوٹرز نے بھی اپنے عہدوں سے استعفا دے دیا تھا کیونکہ انہیں معاملے میں مناسب کارروائی نہ ہونے پر اختلاف تھا۔ ابھی تک ایف بی آئی یا امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے اس واقعے اور مورگن کے استعفے پر کوئی سرکاری تبصرہ سامنے نہیں آیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایف بی ا ئی
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔