امریکا میں آلودہ دودھ سے بچوں میں فوڈ پوائزننگ
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا میں آلودہ دودھ سے بچوں میں فوڈ پوائزننگ کے کیس سامنے آگئے۔ صحت کے حکام نے کہا ہے کہ بچوں کے فارمولا دودھ کی تیاری میں استعمال ہونے والا مکمل چکنائی والا خشک دودھ، جو کمپنی بائے ہارٹ تیار کرتی ہے، وہ دودھ ممکنہ طور پر اس آلودگی کا ذریعہ ہے، جس کے باعث درجنوں بچے فوڈ پوائزننگ کا شکار ہوئے۔حکام کے مطابق امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کی جانب سے کیے گئے ٹیسٹوں میں بیکٹیریا کی ایک قسم پائی گئی جو بیماری کا سبب بن سکتی ہے اور یہ 2ایسے نمونوں میں موجود تھی جن کا تعلق بچوں کے دودھ سے تھا۔ ادارے نے بتایا کہ ایک بند ڈبیا میں موجود بیکٹیریا ایک بیمار بچے کے نمونے سے مطابقت رکھتا تھا، جبکہ یہی بیکٹیریا اس آلودگی سے بھی میل کھاتا تھا جو نامیاتی مکمل چکنائی والے دودھ کے پاؤڈر کے نمونوں میں پائی گئی، جنہیں کمپنی بائے ہارٹ نے خود جمع کر کے جانچ کے لیے پیش کیا تھا۔ فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے ٹیسٹوں میں بائے ہارٹ کو فراہم کیے گئے مکمل چکنائی والے خشک دودھ کے ایک نمونے میں بھی آلودگی پائی گئی، جو کمپنی کے تیار کردہ حتمی دودھ کے نمونے میں موجود جرثومے سے مطابقت رکھتی تھی۔ ادارے نے ایک بیان میں کہا کہ یہ نتائج حتمی نہیں ہیں اور آلودگی کے اصل ماخذ کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہے۔ اس سے قبل فرانس میں بھی جمعہ کے روز حکام نے صارفین کو یہ یقین دہانی کرانے کی کوشش کی کہ وہ تمام بچوں کے دودھ کی مقداریں، جن کے آلودہ ہونے کا شبہہتھا، مارکیٹ سے واپس لے لی گئی ہیں۔ یہ اقدام 2شیر خوار بچوں کی موت کے حالات جاننے کے لیے جاری تحقیقات کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ فرانس میں بچوں کے دودھ کی صنعت کو کئی ہفتوں سے بحران کا سامنا ہے، جب مختلف کمپنیوں نے ایسے محصولات واپس منگوا لیے جن میں زہریلا مادہ سیریولیڈ موجود ہونے کا خدشہ تھا، جو اسہال اور قے کا باعث بن سکتا ہے۔ فرانسیسی وزیرِ صحت اسٹیفانی ریست نے جمعہ کے روز کہا کہ مشتبہ آلودہ دودھ کو مارکیٹ سے واپس لے لیا گیا ہے۔ خصوصی طور پر کمپنی نیسلے نے 6 جنوری کو یورپی ممالک میں بچوں کے دودھ کی کئی کھیپیں واپس منگوائی تھیں۔ فرانسیسی تفتیش کار 2شیر خوار بچوں کی موت کے حالات کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بچوں کے دودھ دودھ کی ا لودگی ا لودہ
پڑھیں:
گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل فلوریڈا اور کیلیفورنیا میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر چھوڑنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد خطرناک مچھروں کی افزائش روکنا اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانا ہے۔ تاہم اس منصوبے نے ماہرین ماحولیات اور ناقدین میں کئی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یہ اتفاق نہیں: مچھر دوسروں کو چھوڑ کر آپ کے ہی پیچھے کیوں پڑجاتے ہیں؟
گوگل کے ’ڈی بگ‘ پروگرام کے تحت ایسے نر مچھر چھوڑے جائیں گے جنہیں ’اچھے مچھر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے بیکٹیریا وولباخیا موجود ہوں گے جو جنگلی مادہ مچھروں کے ساتھ ملاپ کے بعد انڈوں کو پھوٹنے سے روک دیں گے یوں خطرناک مچھروں کی نسل بتدریج کم ہوتی جائے گی۔
گوگل کے مطابق یہ نر مچھر نہ کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں اس لیے یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد اچھے کیڑوں کے ذریعے برے کیڑوں کا خاتمہ ہے۔
ماہرین کے مطابق مچھر دنیا کے مہلک ترین کیڑوں میں شمار ہوتے ہیں جو ڈینگی، زیکا اور چکن گنیا جیسی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔
خاص طور پر ایڈیز ایجپٹی نسل کے مچھر ہر سال کروڑوں افراد کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔
مزید پڑھیے: مچھروں کو ملیریا سے بچانے کے لیے دوا ڈھونڈ لی گئی، آپ بھی چکرا گئے نا!
گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی کیڑے مار ادویات وقت کے ساتھ کم مؤثر ہو رہی ہیں اور ان کے ماحولیاتی اثرات بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اس لیے ایک نئے اور محفوظ طریقہ کار کی ضرورت ہے۔
کمپنی کے سائنس دانوں کے مطابق اس منصوبے میں نہ تو جینیاتی تبدیلی کی گئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے زہریلے کیمیکل استعمال کیے جائیں گے۔
جدید مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظام کے ذریعے مچھروں کی افزائش اور چھانٹی کی جائے گی تاکہ بڑے پیمانے پر ان کی رہائی ممکن ہو سکے۔
مزید پڑھیں: برازیل میں مچھر فیکٹری کا افتتاح، ہر ہفتے 19 کروڑ کی پیداوار، لیکن کیوں؟
گوگل اس منصوبے کے لیے وفاقی منظوری کا منتظر ہے۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اس وقت کمپنی کی درخواستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔
منصوبے کے مطابق پہلے سال فلوریڈا میں ایک کروڑ 60 لاکھ مچھر چھوڑے جائیں گے جبکہ باقی مچھر دوسرے مرحلے میں چھوڑے جائیں گے۔
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مچھروں کی رہائی کے طویل المدتی ماحولیاتی اثرات غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے قدرتی غذائی زنجیر متاثر ہو سکتی ہے اور ماحولیاتی توازن بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘: آئس لینڈ میں پہلی بار مچھر نمودار، یہ آ کیسے گیا؟
کچھ حلقوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ عوامی صحت کے نام پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حیاتیاتی نوعیت کے وسیع منصوبوں میں کس حد تک اختیار دیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گڈ مچھر بیڈ مچھر گوگل گوگل کے ’گڈ مچھر‘ اور ’بیڈ مچھر‘