مطلقہ بہن بھی مرحوم بھائی کی فیملی پنشن کی حقدار قرار
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) صدرمملکت آصف علی زرداری نے ایک تاریخی فیصلے میں ای او بی آئی (EOBI) کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے متوفی ملازم نصیر احمد اعوان کی مطلقہ بہن، مجیدہ پروین کو فوری طور پر فیملی پنشن کے واجبات ادا کرے۔ صدرِ مملکت نے وفاقی محتسب کے سابقہ فیصلے کے خلاف دائر کردہ اپیل منظور کرتے ہوئے قرار دیا کہ مطلقہ بہن کی مالی و سماجی حیثیت بیوہ بہن سے کم نہیں ہے، لہٰذا قانون کا اطلاق دونوں پر مساوی ہونا چاہیے۔ایوانِ صدر کے کنسلٹنٹ برائے قانونی امور، جسٹس (ر) عرفان قادر نے سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ آئین پاکستان کا آرٹیکل 25 تمام
شہریوں کو مساوی حقوق فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ چونکہ ای او بی آئی ماضی میں ایک بیوہ بہن کو پنشن فراہم کر چکا ہے، اس لیے اسی نوعیت کے کیس میں مطلقہ بہن کو اس حق سے محروم رکھنا ناانصافی اور بدانتظامی ہے۔ عدالت نے ای او بی آئی کے اس مؤقف کو مسترد کر دیا کہ ضوابط میں مطلقہ بہن کا ذکر نہیں ہے، اور قرار دیا کہ بیوہ اور مطلقہ بہن کے درمیان امتیاز برتنے کا کوئی پیمانہ موجود نہیں ہے۔واضح رہے کہ بلدیہ ٹاؤن کراچی کی رہائشی مجیدہ پروین کے بھائی نصیر احمد 2019 میں دوران ملازمت انتقال کر گئے تھے، جن کی کفالت میں دو بہنیں تھیں۔ ای او بی آئی نے طویل عرصے تک پنشن کے اجرا میں لیت و لعل سے کام لیا، جس کے خلاف معروف قانون دان محمد ابراہیم فاروقی نے قانونی معاونت فراہم کی۔ صدرِ مملکت سیکرٹریٹ نے فیصلے کی نقول چیئرمین ای او بی آئی اور وفاقی محتسب کو فوری عملدرآمد کے لیے ارسال کر دی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: او بی ا ئی
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔