data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

غزہ ایک بار پھر عالمی طاقتوں کی سفارتی تجربہ گاہ بنتا دکھائی دے رہا ہے، جہاں امن کے نام پر ایسے فیصلے مسلط کیے جا رہے ہیں جن میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والی قوم یعنی فلسطینیوں کی آواز ہی غائب ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ کے لیے قائم کیے گئے نام نہاد ’’بورڈ آف پیس‘‘ نے اسی تلخ حقیقت کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے کہ عالمی طاقتیں مشرقِ وسطیٰ میں امن نہیں بلکہ اپنے مفادات کا نقشہ ازسرِنو ترتیب دینا چاہتی ہیں۔ اس بورڈ کی تشکیل بظاہر غزہ کی تعمیر ِ نو، عبوری حکمرانی اور سیکورٹی کے استحکام کے لیے کی گئی ہے، مگر اس کے خدوخال، نامزد شخصیات اور فیصلہ سازی کا انداز اس منصوبے کو پہلے ہی متنازع بنا چکا ہے۔ سب سے نمایاں اور چونکا دینے والا پہلو یہ ہے کہ اس بورڈ میں فلسطینی عوام یا ان کی کسی مستند نمائندہ قیادت کو شامل کرنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی گئی۔ یہ امر بذاتِ خود اس منصوبے کی نیت اور سمت پر سوالیہ نشان ہے۔ ایک ایسے خطے کے مستقبل کا فیصلہ، جس نے دہائیوں تک قبضے، محاصرے، بمباری اور اجتماعی سزا کا سامنا کیا ہو، وہاں کے اصل وارثوں کے بغیر کرنا کسی بھی اخلاقی، سیاسی یا قانونی اصول سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ناقدین بجا طور پر اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ ’’بورڈ آف پیس‘‘ دراصل امن کا نہیں بلکہ کنٹرول کا ایک نیا فریم ورک ہے، جس کے ذریعے غزہ کو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر بیرونی قوتوں کے زیر ِ اثر رکھا جائے گا۔

بورڈ میں شامل کی گئی شخصیات خود اپنی جگہ گہرے سوالات کو جنم دیتی ہیں۔ ٹونی بلیئر، جن کا نام عراق جنگ اور مشرقِ وسطیٰ میں مغربی مداخلت کی علامت سمجھا جاتا ہے، کی نامزدگی فلسطینیوں کے لیے کسی صدمے سے کم نہیں۔ اسی طرح امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر، عالمی مالیاتی اداروں سے وابستہ ارب پتی شخصیات اور سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کے نمائندے اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس بورڈ کا جھکاؤ انسانی ہمدردی سے زیادہ سیاسی انجینئرنگ اور معاشی کنٹرول کی طرف ہے۔ امن اگر واقعی مقصد ہوتا تو سب سے پہلے فلسطینی سیاسی دھڑوں، سول سوسائٹی، ماہرین تعلیم اور مقامی قیادت کو اس عمل کا حصہ بنایا جاتا۔ امریکا کی جانب سے غزہ میں بین الاقوامی استحکام فورس کے قیام اور ایک امریکی میجر جنرل کو اس کا کمانڈر مقرر کرنا بھی اس منصوبے کی عسکری نوعیت کو عیاں کرتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس خطے نے طویل عرصے تک فوجی قبضے اور سیکورٹی آپریشنز کا سامنا کیا ہو، وہاں مزید سیکورٹی فورسز امن کیسے لا سکتی ہیں؟ تاریخ شاہد ہے کہ غزہ میں تشدد کی بنیادی وجہ سیکورٹی کی کمی نہیں بلکہ سیاسی ناانصافی، قبضہ، محاصرہ اور خود ارادیت سے انکار ہے۔ ان بنیادی مسائل کو حل کیے بغیر کسی بھی ’’استحکام فورس‘‘ کا قیام محض ایک اور طاقت کا مظاہرہ ہوگا۔

اسرائیل کی جانب سے فلسطینی ٹیکنوکریٹس پر مشتمل کمیٹی پر اعتراض بھی اس پوری صورتحال کی پیچیدگی کو مزید بڑھا دیتا ہے۔ ایک طرف اسرائیل فلسطینی خود انتظامی ڈھانچے کو مسترد کرتا ہے، دوسری طرف امریکا ایک ایسا بورڈ قائم کر رہا ہے جو بظاہر غزہ کی مقامی انتظامیہ کے اوپر نگران ادارے کے طور پر کام کرے گا۔ اس تضاد سے واضح ہوتا ہے کہ غزہ کے مستقبل کے حوالے سے کوئی شفاف اور متفقہ وژن موجود نہیں، بلکہ ہر فریق اپنی شرائط مسلط کرنے کی کوشش میں ہے۔ فلسطینی مزاحمتی گروہوں کی جانب سے اس بورڈ پر تنقید اس امر کی غماز ہے کہ زمینی حقائق اور عوامی جذبات کو نظر انداز کر کے کوئی بھی عبوری نظام پائیدار ثابت نہیں ہو سکتا۔ اگر غزہ کے عوام اس نظام کو اپنے خلاف ایک نئے سازشی فریم ورک کے طور پر دیکھیں گے تو اس کی ساکھ ابتدا ہی سے مشکوک ہو جائے گی۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب امدادی بحران، تباہ شدہ انفرا اسٹرکچر، بے گھر آبادی اور مسلسل اسرائیلی کارروائیاں غزہ کی روزمرہ حقیقت بنی ہوئی ہیں، وہاں بیرونی منصوبہ سازوں کے وعدے کھوکھلے محسوس ہوتے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کا یہ دعویٰ کہ ’’بورڈ آف پیس‘‘ امریکی سرپرستی میں امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کو آگے بڑھائے گا، درحقیقت ایک ایسے امن تصور کی عکاسی کرتا ہے جو طاقت کے توازن اور اسٹرٹیجک مفادات پر مبنی ہے، نہ کہ انصاف اور مساوات پر۔ امن وہ نہیں جو بندوقوں کے سائے میں نافذ کیا جائے، بلکہ وہ ہے جو عوام کی مرضی، عزتِ نفس اور بنیادی حقوق کے اعتراف سے جنم لیتا ہے۔ فلسطینیوں کو غیر مسلح کرنے، مزاحمت کو کچلنے اور اقتصادی مراعات کے ذریعے خاموش کرانے کی سوچ تاریخ میں بارہا ناکام ہو چکی ہے۔

آخرکار سوال یہی ہے کہ کیا غزہ کے لیے بنایا گیا یہ ’’امن بورڈ‘‘ واقعی امن لا سکے گا یا یہ بھی ماضی کے بے شمار منصوبوں کی طرح ایک اور ناکام تجربہ ثابت ہوگا؟ جب تک فلسطینیوں کو اپنے مستقبل کے فیصلوں میں مرکزی حیثیت نہیں دی جاتی، جب تک قبضے اور محاصرے کا خاتمہ نہیں ہوتا، اور جب تک انصاف کو امن کی بنیاد نہیں بنایا جاتا، تب تک کسی بھی بورڈ، فورس یا فریم ورک سے پائیدار استحکام کی امید رکھنا خود فریبی کے سوا کچھ نہیں۔ غزہ کو امن کی نہیں، انصاف کی ضرورت ہے، اور یہی وہ حقیقت ہے جسے عالمی طاقتیں مسلسل نظر انداز کرتی آ رہی ہیں۔

ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بورڈ ا ف پیس کی جانب سے غزہ کے کے لیے

پڑھیں:

سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک

حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔

ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔

اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔

آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔

موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔

یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔

حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔

عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔

بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔

وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی