نام نہاد بورڈ آف پیس امریکی و صیہونی ایجنڈے کو تحفظ فراہم کرنے کی سازش ہے، شیخ احمد نوری
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
ممبر گلگت بلتستان کونسل و صدر مجلسِ علماء مکتبِ اہلِ بیت بلتستان شیخ احمد علی نوری نے میڈیا کو جاری اپنے ایک بیان کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام نہاد غزہ بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ اسلام ٹایمز۔ ممبر گلگت بلتستان کونسل و صدر مجلسِ علماء مکتبِ اہلِ بیت بلتستان شیخ احمد علی نوری نے میڈیا کو جاری اپنے ایک بیان کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام نہاد غزہ بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ نام نہاد بورڈ آف پیس درحقیقت عالمی امن کے نام پر امریکی و صہیونی ایجنڈے کو تحفظ فراہم کرنے کی ایک سازش ہے، جس کا مقصد اسرائیل کے ہاتھوں فلسطین اور بالخصوص غزہ میں جاری انسانیت سوز مظالم سے عالمی توجہ ہٹانا ہے۔ ایسے فورمز، جو اسرائیلی جارحیت، نسل کشی اور جنگی جرائم پر خاموش ہوں، وہ امن کے نہیں بلکہ ظلم کے حامی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے معصوم فلسطینی بچوں، عورتوں اور نہتے شہریوں کے قتلِ عام میں امریکہ مکمل طور پر شریکِ جرم ہے، اور امریکی صدر کے امن کے دعوے صریحاً جھوٹ اور کھلی منافقت ہیں۔ پاکستان جیسے اسلامی اور نظریاتی ملک کا ایسے متنازع پلیٹ فارم کا حصہ بننا نہ صرف قومی وقار کے منافی ہے بلکہ امتِ مسلمہ کے اجتماعی جذبات کے بھی سراسر خلاف ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ مظلوموں کی حمایت اور ظالم کے خلاف واضح مؤقف پر مشتمل ہونا چاہیے، لہٰذا امریکہ کی سرپرستی میں قائم کسی بھی فورم میں شمولیت ہمارے اصولی مؤقف کو کمزور کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فارم 47 کی بنیاد پر قائم حکومت اپنی غیر مستحکم سیاسی حیثیت اور کرسی بچانے کے لیے ایسے متنازع، قوم دشمن اور امت دشمن فیصلوں میں شامل نہ ہو، کیونکہ اس طرح کے اقدامات قومی وقار، خودمختاری اور عوامی اعتماد کو مزید مجروح کرتے ہیں۔انہوں نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اس فیصلے پر نظرثانی کرے، امریکی و صہیونی دباؤ کو مسترد کرے اور فلسطینی عوام کی غیر مشروط سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت کا عملی اعلان کرے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ عالمی سطح پر حق، انصاف اور مظلوموں کے ساتھ کھڑا ہو نہ کہ قابض اور جارح قوتوں کے ساتھ۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجلسِ علماء مکتبِ اہلِ بیت بلتستان اسرائیلی جارحیت، امریکی سامراج اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف اپنی آواز بلند کرتی رہے گی اور کسی بھی صورت میں امتِ مسلمہ کے اصولی مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بورڈ آف پیس نام نہاد انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔