پاک سعودی تعلقات میں میڈیا کا کردار پل کی حیثیت رکھتا ہے، ذکاءاللہ محسن
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
جدہ( نمائندہ خصوصی )دارلحکومت الریاض سے پاک۔میڈیاکے صدر ذکاءاللہ محسن کے اعزاز میں پرتکلف تقریب، سعودی-پاکستان تعلقات اور صحافیوں کے مسائل زیر بحث
جدہ میں پاکستانی صحافت اور اوورسیز کمیونٹی کے لیے ایک اہم اور یادگار تقریب منعقد ہوئی، جس میں پاکستان میڈیا کے صدر ذکاءاللہ محسن کے اعزاز میں پاکستان جرنلسٹ فورم کے چیئرمین امیر محمد خان نے خصوصی عشائیہ ترتیب دیا۔ تقریب میں سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات،پرگفتگو ہوئ
ا خالد نواز چیمہ اور پاکستان جرنلسٹ فورم کے جنرل سیکرٹری جمیل راٹھور بھی موجود تھے۔ تمام شرکاء نے مل کر پاکستانی میڈیا کی موجودگی کو سعودی عرب میں پاکستانی کمیونٹی کے لیے اعتماد اور رابطے کا ذریعہ قرار دیا۔
سعودی-پاکستان تعلقات کا زکر کرتے ہوئے ذکاءاللہ محسن نے کہا کہ میڈیا اور صحافی برادری دونوں ممالک کے تعلقات میں پل کا کردار ادا کر رہی ہے اور صحافت صرف خبر نہیں بلکہ دوستی اور سفارت کاری کا آلہ بھی ہے۔
صحافی برادری کے مسائل: موجودہ دور میں صحافیوں کو درپیش چیلنجز، حفاظتی مسائل اور پیشہ ورانہ حقوق پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اور کمیونٹی کی آواز بلند کرنے کے مواقع پر زور دیا گیا
چیئرمین امیر محمد خان نے کہا:
” کہ پاکستانی میڈیا اور اوورسیز کمیونٹی صرف خبر نہیں بلکہ قومی تشخص اور عوامی خدمت کا طاقتور ذریعہ بھی ہے۔”
صدر پاکستان میڈیا ذکاءاللہ محسن نے کہا:
“ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم صحافیوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کریں اور پیشہ ورانہ معیار کو برقرار رکھیں، کیونکہ صحافت صرف پیشہ نہیں بلکہ ایک قومی مشن ہے۔”
تقریب کے اختتام پر شرکاء نے متفقہ طور پر کہا کہ وہ پاکستانی کمیونٹی، اوورسیز صحافیوں اور دونوں ممالک کے تعلقات کے فروغ کے لیے مستقل تعاون جاری رکھیں گے، اور میڈیا کے ذریعے عوامی خدمت اور قومی وقار کو مضبوط کرنے کا عزم کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: میں پاکستان کے لیے
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔