نئی امریکی دفاعی حکمت عملی میں چیلنجز کا تعین، چین سرفہرست، پھر روس اور ایران
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
دستاویز میں اشارہ کیا گیا ہے کہ واشنگٹن بیجنگ کے ساتھ وسیع تر فوجی رابطوں کے ذرائع استعمال کرنے کے لیے تیار ہے، جبکہ ساتھ ہی چین کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت کی رفتار اور حجم کا اعتراف بھی کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی وزارت دفاع پینٹاگون نے سال 2026ء کی قومی دفاعی حکمت عملی کی دستاویز جاری کر دی ہے، جو 34 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس دستاویز میں بین الاقوامی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے واشنگٹن کی عسکری اور سیکورٹی ترجیحات کا تعین کیا گیا ہے، جس میں خاص طور پر چین، روس، ایران اور مشرق وسطیٰ پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ پالیسی میں چین پر سب سے زیادہ توجہ دی گئی ہے، اس کے بعد روس اور ایران کو نمایاں چیلنجز کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ تاہم امریکی نئی دفاعی حکمت عملی میں داخلی خطرات کو اولین ترجیح قرار دیا گیا ہے جبکہ واشنگٹن کی جانب سے اب اپنے اتحادیوں کو پہلے کے مقابلے میں محدود پیمانے پر مدد فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ جمعہ کے روز سامنے آنے والی نئی حکمتِ عملی کے تحت اب امریکی محکمہ دفاع کی اولین ترجیح امریکہ اور مغربی نصف کرہ کی سلامتی ہو گی۔ چار سال قبل شائع ہونے والی نیشنل ڈیفینس سٹریٹیجی میں چین کی طرف سے لاحق خطرات کو امریکہ کی اولین دفاعی ترجیح قرار دیا گیا تھا۔
چین: بحر ہند و الکاہل میں فوجی ڈیٹرنس اور طاقت کا توازن
"قومی دفاعی حکمت عملی" کی دستاویز، جو پینٹاگون کی پالیسیوں کی رہنمائی کرتی ہے، اس میں کہا گیا ہے کہ بحر ہند و الکاہل کے خطے میں چین سب سے نمایاں اسٹریٹجک چیلنج ہے۔ دستاویز میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ کسی بھی فریق کو بالادستی قائم کرنے سے روکنے کے لیے عسکری ڈیٹرنس کو ایک بنیادی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جائے گا، نہ کہ براہ راست تصادم کو۔ اس کا مقصد اسٹریٹجک استحکام کو برقرار رکھنا اور کشیدگی کے امکانات کو کم کرنا ہے۔ دستاویز میں اشارہ کیا گیا ہے کہ واشنگٹن بیجنگ کے ساتھ وسیع تر فوجی رابطوں کے ذرائع استعمال کرنے کے لیے تیار ہے، جبکہ ساتھ ہی چین کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت کی رفتار اور حجم کا اعتراف بھی کیا گیا ہے۔
واشنگٹن نے واضح کیا کہ اس کا مقصد چین پر غلبہ پانا یا اسے مفلوج کرنا نہیں ہے، بلکہ مقصد یہ ہے کہ کسی بھی فریق کو امریکہ یا اس کے اتحادیوں پر اپنی مرضی مسلط کرنے سے روکا جائے۔ یہ مقصد طاقت کے ایسے توازن کے ذریعے حاصل کیا جائے گا جو علاقائی امن کو برقرار رکھنے میں مددگار ہو۔ اس کے لیے حکمت عملی میں مضبوط ڈیٹرنس کی تعمیر اور اتحادیوں کو بااختیار بنا کر "اجتماعی دفاع" کو مضبوط کرنے پر توجہ دی گئی ہے تاکہ وہ بڑا کردار ادا کر سکیں، جس سے ایک ایسا فریم ورک تیار ہو جہاں مقابلے کو تصادم کے بجائے مذاکرات کے ذریعے مینیج کیا جا سکے۔
روس: ایک قابلِ قابو خطرہ اور یورپ پر توجہ
روس کے حوالے سے امریکی دفاعی حکمت عملی میں کہا گیا ہے کہ روس ایک مسلسل خطرہ رہے گا، تاہم اسے قابو میں رکھا جا سکتا ہے، خاص طور پر نیٹو کے مشرقی حصے پر۔ دستاویز کے مطابق یوکرین کی جنگ نے ثابت کیا ہے کہ روس کی عسکری اور صنعتی صلاحیتیں اب بھی برقرار ہیں، اس کے علاوہ ماسکو کے پاس دنیا کا سب سے بڑا ایٹمی ذخیرہ اور خلا و سائبر اسپیس میں اہم صلاحیتیں موجود ہیں۔پینٹاگون نے کہا ہے کہ وہ روسی خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی افواج کو ہمہ وقت تیار رکھے گا اور نیٹو میں فعال کردار ادا کرتا رہے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ، یورپی خطے میں امریکی افواج کی تعیناتی اور سرگرمیوں کو خطرات کی نوعیت اور اتحادیوں کی صلاحیتوں کے مطابق دوبارہ ترتیب دیا جا رہا ہے۔ دستاویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اقتصادی اور آبادیاتی لحاظ سے نیٹو کی برتری کے پیش نظر، ماسکو یورپ پر اپنی بالادستی قائم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ امریکہ یورپ میں اپنی موجودگی برقرار رکھے گا، لیکن اس کی اسٹریٹجک ترجیح امریکہ کا دفاع اور چین کو روکنے کی کوششوں پر مرکوز رہے گی۔
ایران: جوہری روک تھام اور صلاحیتوں کی بحالی کے خدشات
امریکی حکمت عملی میں کہا گیا ہے کہ واشنگٹن ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے سخت گیر موقف جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس میں ایران کے جوہری ڈھانچے کو نشانہ بنانے والی سابقہ فوجی کارروائیوں اور حالیہ 12 روزہ جنگ کے دوران اسرائیل کی حمایت کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ دوسری طرف، دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ایران، گزشتہ مہینوں میں پہنچنے والے "تکلیف دہ نقصانات" کے باوجود، اپنی روایتی افواج کو دوبارہ منظم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مذاکراتی عمل میں تعطل کے باعث جوہری راستے پر دوبارہ گامزن ہونے کے امکانات اب بھی موجود ہیں۔ مزید برآں، یہ خبردار کیا گیا ہے کہ تہران کے علاقائی اتحادی، حملوں کے باوجود اپنی صلاحیتوں کو بحال کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں، جس سے علاقائی کشیدگی برقرار رہے گی اور استحکام کے مواقع متاثر ہوں گے۔ اس تناظر میں، امریکی حکمت عملی براہ راست مداخلت کو کم کرنے اور علاقائی اتحادیوں، بالخصوص اسرائیل اور خلیجی شراکت داروں کو اپنا دفاع خود کرنے کے قابل بنانے پر مبنی ہے۔ مقصد ایک ایسا مربوط علاقائی نظام بنانا ہے جو امریکی مداخلت پر کم انحصار کرے۔
مشرق وسطیٰ: ایران کا مقابلہ کرنے کیلئے اتحادیوں پر ڈیٹرنس کا بوجھ
امریکی دفاعی حکمت عملی میں ایک ایسے مشرق وسطیٰ کا تصور پیش کیا گیا ہے جو "زیادہ مستحکم" ہو، جہاں علاقائی اتحادی سلامتی اور دفاع میں مرکزی کردار ادا کریں۔ واشنگٹن کی توجہ اس بات پر ہے کہ شرکاء کو سیکورٹی چیلنجز، خاص طور پر ایران اور اس کے اتحادیوں کو روکنے کی ذمہ داری سنبھالنے کے قابل بنایا جائے۔دستاویز میں بعض علاقائی فریقوں کے درمیان تعاون اور انضمام کے تسلسل پر زور دیا گیا ہے۔ تاہم، امریکہ اپنی ایسی عسکری صلاحیت برقرار رکھے گا جو ضرورت پڑنے پر "ٹارگٹڈ اور فیصلہ کن" مداخلت کر سکے، تاکہ خطے میں طویل مدتی استحکام کے حالات پیدا کیے جا سکیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: دفاعی حکمت عملی میں میں کہا گیا ہے کہ دستاویز میں کرنے کے لیے کہ واشنگٹن کیا گیا ہے کرنے کی دیا گیا
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔