سیاسی اور قانونی غیر یقینی کے باوجود شکیب الحسن کے لیے قومی ٹیم کے دروازے دوبارہ کھل گئے
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے ایک اہم اور غیر متوقع فیصلے میں اسٹار آل راؤنڈر شکیب الحسن کو ایک بار پھر قومی ٹیم کے انتخاب کے لیے زیرِ غور لانے کا اعلان کر دیا ہے۔ سیاسی پس منظر اور قانونی پیچیدگیوں کے باوجود بی سی بی کا کہنا ہے کہ فٹنس، دستیابی اور لاجسٹک معاملات کی تکمیل کی صورت میں شکیب کو ہوم اور اوے دونوں سیریز کے لیے منتخب کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ٹی20 ورلڈ کپ، بھارت میں محفوظ نہیں، بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے ٹیم بھیجنے سے انکار کردیا
بی سی بی کا یہ فیصلہ ہفتے کی شب ہونے والے 8 گھنٹے طویل بورڈ اجلاس کے بعد سامنے آیا، جس کے بعد حکام نے تصدیق کی کہ شکیب الحسن کا نام دوبارہ سلیکٹرز کے ریڈار پر آ چکا ہے۔
بی سی بی میڈیا کمیٹی کے چیئرمین امجد حسین نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ اگر شکیب فٹ ہوں، دستیاب ہوں اور میچ وینیو تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہوں تو بورڈ اور سلیکشن پینل کو ان پر غور کرنے میں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔
امجد حسین کے مطابق شکیب نے خود ہوم اور اوے دونوں سیریز کھیلنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے اور اپنی دستیابی کی تصدیق بھی کی ہے۔ تاہم شکیب الحسن سے اس فیصلے پر ردعمل کے لیے رابطہ نہ ہو سکا۔
The Bangladesh Cricket Board has decided to retain former captain and ex-Awami League MP Shakib Al Hasan in its central contract list and reopen the door for his return to international cricket, subject to government clearance.
— IndiaToday (@IndiaToday) January 25, 2026
شکیب الحسن جنوری 2024 میں عوامی لیگ کے ٹکٹ پر مگورا-1 سے رکنِ پارلیمنٹ منتخب ہوئے تھے، تاہم جولائی اور اگست 2024 کی عوامی تحریک کے بعد حکومت کے خاتمے سے لے کر اب تک وہ ملک سے باہر ہیں۔ ان کی آخری بین الاقوامی میچ ستمبر 2024 میں بھارت کے خلاف کانپور ٹیسٹ تھا۔ 5 اگست 2024 کے بعد ان پر بنگلہ دیش میں متعدد مقدمات درج کیے گئے، جن میں قتل کا مقدمہ بھی شامل ہے، جس کے باعث ان کی وطن واپسی قانونی طور پر غیر یقینی بن چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیشی کرکٹر شکیب الحسن نئی مشکل میں پھنس گئے، بولنگ ایکشن رپورٹ
سیاسی سوالات پر بات کرتے ہوئے امجد حسین نے کہا کہ اگر حکومت کسی قانونی کارروائی کا فیصلہ کرتی ہے تو وہ بی سی بی کا معاملہ نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق بورڈ نے اپنے صدر کو ہدایت دی ہے کہ اس معاملے پر حکومت سے رابطہ رکھا جائے۔
بی سی بی کے ایک اور ڈائریکٹر آصف اکبر نے واضح کیا کہ بورڈ کی دلچسپی صرف ایک کرکٹر کی حیثیت سے شکیب میں ہے، نہ کہ ان کے سیاسی پس منظر میں۔
یاد رہے کہ شکیب الحسن نے جنوبی افریقہ کے خلاف میرپور ٹیسٹ کے بعد ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا ارادہ ظاہر کیا تھا، تاہم سیاسی وابستگی کے خلاف احتجاج کے باعث وہ بنگلہ دیش واپس نہ آ سکے۔ بی سی بی نے اس تاثر کی تردید کی کہ یہ فیصلہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے بنگلہ دیش کی عدم شمولیت پر ہونے والی تنقید سے توجہ ہٹانے کے لیے کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:شکیب الحسن اپنا آخری ٹیسٹ کھیلنے ڈھاکا جائیں گے؟
فی الحال شکیب الحسن بیرونِ ملک فرنچائز لیگز میں سرگرم ہیں اور اس وقت سعودی عرب میں جاری ایک ٹورنامنٹ میں شرکت کر رہے ہیں۔ دوسری جانب بی سی بی نے ڈائریکٹر اشتیاق صادق کے استعفے اور 27 کھلاڑیوں کو مرکزی کنٹریکٹس کے لیے زیرِ غور لانے کا بھی اعلان کیا ہے۔
یوں اگرچہ بی سی بی نے شکیب الحسن کے لیے دروازہ دوبارہ کھول دیا ہے، مگر ان کی بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی اب بھی سیاسی اور قانونی پیچیدگیوں سے جڑی ہوئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش کرکٹ بی سی بی شکیب الحسن عوامی لیگ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش کرکٹ شکیب الحسن عوامی لیگ
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔