ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی نمایاں طور پر بڑھا دی ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق امریکا نے خطے میں بحری اور فضائی طاقت کو متحرک کرتے ہوئے طیارہ بردار بحری جہاز، جنگی جہاز، جدید لڑاکا طیارے اور ہزاروں اضافی فوجی تعینات کر دیے ہیں۔ اس پیش قدمی کو خطے میں ایک بار پھر غیر معمولی عسکری تناؤ کی علامت قرار دیا جا رہا ہے، جس کی نوعیت گزشتہ برس کی کشیدہ صورتحال سے مشابہ بتائی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں مزید اضافہ، ایک اور بحری بیڑہ روانہ

امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکا نے ایران کے ساتھ ممکنہ تصادم کے خدشات کے پیش نظر مشرقِ وسطیٰ میں فوجی سرگرمیوں میں تیزی کر دی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی بحری بیڑہ بحرِ ہند میں داخل ہو چکا ہے، جب کہ بحریہ اور فضائیہ کے مشترکہ اثاثے خطے کے مختلف حصوں میں تعینات کیے جا رہے ہیں۔ ان میں طیارہ بردار بحری جہاز، میزائل بردار جنگی جہاز اور جدید جنگی طیارے شامل ہیں۔

JUST IN???????????????????? US sending fully loaded USS Abraham Lincoln (CVN-72) with F-35, F-16, F-22 and F-15 jets heading toward Persian Gulf.

ALERT ???? TENSION HIGH IN MIDDLE EAST ???? pic.twitter.com/BC8dqKHUFY

— RKM (@rkmtimes) January 21, 2026

رپورٹ کے مطابق اس عسکری نقل و حرکت کے تحت کم از کم 5,700 اضافی امریکی فوجی اہلکار بھی خطے میں بھیجے گئے ہیں، جو پہلے سے موجود امریکی افواج کے ساتھ مل کر مختلف دفاعی اور ممکنہ جنگی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ خاص طور پر قطر میں واقع العدید ایئر بیس ایک بار پھر امریکی فوجی سرگرمیوں کا مرکزی نکتہ بن گیا ہے، جہاں سے فضائی آپریشنز اور کمانڈ اینڈ کنٹرول کی صلاحیتوں کو مضبوط کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ اقدامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے پس منظر میں سخت بیانات دے چکے ہیں اور ممکنہ فوجی کارروائی کے اشارے بھی دیے جا رہے ہیں۔

امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ فوجی پیش قدمی ’روک تھام‘ کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے، تاکہ ایران یا اس کے اتحادی کسی بھی اشتعال انگیز اقدام سے باز رہیں۔

BREAKING

IRAN Vows to 'Sink & Humble' USS Abraham Lincoln & it's strike group with Hypersonic Strikes as US Armada Enters IRAN's Backyard
I guess Iran forgot the USA is already at the fence!
Iran couldn't keep it's own airspace secure during the 12 day war & never used this tech pic.twitter.com/wIabCqb7DV

— Lee Golden (@LeeGolden6) January 25, 2026

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا کی یہ عسکری تیاری نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ واشنگٹن اپنے مفادات اور اتحادیوں کے دفاع کے لیے طاقت کے استعمال سے گریز نہیں کرے گا۔ تاہم ناقدین خبردار کر رہے ہیں کہ اس نوعیت کی فوجی نقل و حرکت سے خطے میں غلط فہمی یا کسی اچانک تصادم کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔

امریکی اخبار کے مطابق موجودہ صورتحال میں مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی طاقتوں کی عسکری کشمکش کا مرکز بنتا دکھائی دے رہا ہے، جہاں کسی بھی غلط اندازے کے نتائج نہایت سنگین ہو سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: کے مطابق کی فوجی

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی