ایران سے بڑھتی کشیدگی، امریکا کی مشرقِ وسطیٰ میں بڑی فوجی پیش قدمی، بحری بیڑہ بحرِ ہند پہنچ گیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی نمایاں طور پر بڑھا دی ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق امریکا نے خطے میں بحری اور فضائی طاقت کو متحرک کرتے ہوئے طیارہ بردار بحری جہاز، جنگی جہاز، جدید لڑاکا طیارے اور ہزاروں اضافی فوجی تعینات کر دیے ہیں۔ اس پیش قدمی کو خطے میں ایک بار پھر غیر معمولی عسکری تناؤ کی علامت قرار دیا جا رہا ہے، جس کی نوعیت گزشتہ برس کی کشیدہ صورتحال سے مشابہ بتائی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں مزید اضافہ، ایک اور بحری بیڑہ روانہ
امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکا نے ایران کے ساتھ ممکنہ تصادم کے خدشات کے پیش نظر مشرقِ وسطیٰ میں فوجی سرگرمیوں میں تیزی کر دی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی بحری بیڑہ بحرِ ہند میں داخل ہو چکا ہے، جب کہ بحریہ اور فضائیہ کے مشترکہ اثاثے خطے کے مختلف حصوں میں تعینات کیے جا رہے ہیں۔ ان میں طیارہ بردار بحری جہاز، میزائل بردار جنگی جہاز اور جدید جنگی طیارے شامل ہیں۔
JUST IN???????????????????? US sending fully loaded USS Abraham Lincoln (CVN-72) with F-35, F-16, F-22 and F-15 jets heading toward Persian Gulf.
ALERT ???? TENSION HIGH IN MIDDLE EAST ???? pic.twitter.com/BC8dqKHUFY
— RKM (@rkmtimes) January 21, 2026
رپورٹ کے مطابق اس عسکری نقل و حرکت کے تحت کم از کم 5,700 اضافی امریکی فوجی اہلکار بھی خطے میں بھیجے گئے ہیں، جو پہلے سے موجود امریکی افواج کے ساتھ مل کر مختلف دفاعی اور ممکنہ جنگی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ خاص طور پر قطر میں واقع العدید ایئر بیس ایک بار پھر امریکی فوجی سرگرمیوں کا مرکزی نکتہ بن گیا ہے، جہاں سے فضائی آپریشنز اور کمانڈ اینڈ کنٹرول کی صلاحیتوں کو مضبوط کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ اقدامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے پس منظر میں سخت بیانات دے چکے ہیں اور ممکنہ فوجی کارروائی کے اشارے بھی دیے جا رہے ہیں۔
امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ فوجی پیش قدمی ’روک تھام‘ کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے، تاکہ ایران یا اس کے اتحادی کسی بھی اشتعال انگیز اقدام سے باز رہیں۔
BREAKING
IRAN Vows to 'Sink & Humble' USS Abraham Lincoln & it's strike group with Hypersonic Strikes as US Armada Enters IRAN's Backyard
I guess Iran forgot the USA is already at the fence!
Iran couldn't keep it's own airspace secure during the 12 day war & never used this tech pic.twitter.com/wIabCqb7DV
— Lee Golden (@LeeGolden6) January 25, 2026
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا کی یہ عسکری تیاری نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ واشنگٹن اپنے مفادات اور اتحادیوں کے دفاع کے لیے طاقت کے استعمال سے گریز نہیں کرے گا۔ تاہم ناقدین خبردار کر رہے ہیں کہ اس نوعیت کی فوجی نقل و حرکت سے خطے میں غلط فہمی یا کسی اچانک تصادم کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔
امریکی اخبار کے مطابق موجودہ صورتحال میں مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی طاقتوں کی عسکری کشمکش کا مرکز بنتا دکھائی دے رہا ہے، جہاں کسی بھی غلط اندازے کے نتائج نہایت سنگین ہو سکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔