شام سے امریکی فوج کے مکمل انخلا پر غور کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے انکشاف کیا ہے کہ واشنگٹن شام میں تیز رفتاری سے رونما ہونے والی پیش رفت کے پیش نظر وہاں سے مکمل فوجی انخلا کے امکان پر غور کر رہا ہے۔ اخبار نے اپنے رپورٹ میں حکام کے حوالے سے بتایا کہ سیرین ڈیموکریٹک فورسز کو پہنچنے والی شکست نے امریکی محکمہ دفاع کو شام میں امریکی فوجی مشن کی افادیت پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔اخبار کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے اندر جاری غور و خوض میں متعدد ممکنہ منظر نامے شامل ہیں، جن میں امریکی فوجی موجودگی کو کم کرنے سے لے کر مکمل انخلا تک کے آپشنز ہیں، جبکہ اس کے اثرات کا جائزہ داعش کے خلاف اقدامات، شمال اور مشرقی شام میں سیکورٹی توازن، اور علاقائی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات پر بھی لیا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس معاملے میں حتمی فیصلہ ابھی تک نہیں ہوا اور مباحثے اب بھی سیکورٹی اور سیاسی تخمینوں سے جڑے ہوئے ہیں، جن میں مقامی فورسز کے ساتھ مستقبل کا رابطہ، انتہا پسندی کے گروہوں کے دوبارہ ابھرنے کے خطرات، اور مشرق وسطی میں امریکی کردار سے متعلق وسیع تر امور شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق حکام نے بتایا کہ شام کی سرکاری فورسز امریکی فورسز کے کچھ مقامات کے انتہائی قریب پہنچ گئی ہیں جہاں کْردوں کے خلاف کارروائیوں کے دوران امریکی اہل کار موجود تھے، اور کم از کم ایک امریکی ڈرون کو اپنی تنصیبات کے قریب گرایا گیا۔ ایک اہل کار نے مزید کہا کہ 24 گھنٹوں کے دوران، شام کی فورسز نے سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے کیمپوں پر حملہ کیا، جو ایسے بنیادی مراکز میں واقع ہیں جہاں امریکی موجودگی ہے۔چند روز قبل امریکا نے تقریباً 9 ہزار قیدیوں میں سے 7 ہزار قیدیوں کو عراق منتقل کرنا شروع کیا تھا، اس خدشے کے پیش نظر کہ سابق جنگجو اور ان کے خاندان کے افراد حکومت کی جانب سے قید خانوں پر کنٹرول کے دوران فرار ہو سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
فائل فوٹو۔بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز کے دوران بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 17دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے یہ آپریشنز 24 مئی کے ٹرین واقعہ کے بعد کیے، جو مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ کے اضلاع میں کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کی ہلاکت سے ان علاقوں میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو بہت زیادہ نقصان ہوا، ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، بڑی مقدار میں بارودی مواد اور آئی ای ڈیز برآمد کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔ ان علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی اداروں کی ملک گیر انسدادِ دہشت گردی مہم بھرپور انداز میں جاری رہے گی اور ملک سے بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرے کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔