سو دن سے زائد قید میں رہنے والے سونم وانگچُک جودھپور جیل میں قیدیوں کی زندگی بہتر بنانے کے خواہاں
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
ان کی اہلیہ نے گرفتاری کے الزامات کی مسلسل تردید کی ہے، جبکہ ان کی رہائی کے لئے دائر درخواست سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سماجی کارکن اور سائنس دان سونم وانگچک نے جودھپور سینٹرل جیل میں قید کے دوران بھی اصلاحی اور تعمیری سرگرمیاں جاری رکھیں۔ انہوں نے جیل کے بیرکس کو موسم کے مطابق بہتر بنانے کے لئے تھرما میٹر اور دیگر آلات فراہم کرنے کی درخواست کی ہے، تاکہ شدید گرمی میں ٹھنڈک اور سردیوں میں مناسب حرارت برقرار رکھی جا سکے۔
سونم وانگچک کی اہلیہ گیتانجلی انگمو نے سوشل میڈیا پر اس بات کا انکشاف کیا کہ جیل میں بھی سونم کا اختراعی ذہن پوری طرح سرگرم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ ملاقات کے دوران سونم نے بتایا کہ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی اور اس کے حل سے متعلق کئی کتابیں منگوائی ہیں، جن میں Ants: Workers of the World بھی شامل ہے۔
گیتانجلی کے مطابق جیل عملہ بھی اکثر سونم وانگچک سے اپنے بچوں کی تربیت اور تعلیم کے حوالے سے مشورے لیتا ہے، جس پر وہ فخر محسوس کرتے ہیں۔ سونم وانگچک کو ستمبر 2025ء میں لداخ میں ریاستی درجہ اور چھٹے شیڈول کے مطالبے پر ہوئے پرتشدد مظاہروں کے بعد نیشنل سکیورٹی ایکٹ (این ایس اے) کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ انہیں 26 ستمبر کو لداخ سے جودھپور سینٹرل جیل منتقل کیا گیا، جہاں وہ اب تک 100 دن سے زائد عرصے سے قید ہیں۔
ان کی اہلیہ نے گرفتاری کے الزامات کی مسلسل تردید کی ہے، جبکہ ان کی رہائی کے لئے دائر درخواست سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت ہے۔ قابلِ ذکر ہے کہ جودھپور سینٹرل جیل تقریباً 147 سال پرانی ہے اور یہاں ماضی میں سلمان خان، مہپال مدیرنا، آسارام باپو، لارنس بشنوئی سمیت کئی معروف اور بدنام قیدی رہ چکے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سونم وانگچک
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔