امریکا کی نئی دفاعی حکمت عملی: سرحدوں کی حفاظت اور چین کو محدود کرنے کا منصوبہ
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
امریکی پینٹاگون نے اپنی نئی قومی دفاعی حکمت عملی جاری کر دی ہے، جس میں ملک کی سرحدوں کے تحفظ، عالمی اتحادیوں کے کردار اور چین و روس جیسے بڑے حریفوں سے نمٹنے کے حوالے سے اہم تبدیلیاں دکھائی گئی ہیں۔ یہ منصوبہ ’طاقت کے ذریعے امن‘ کے اصول پر مبنی ہے اور امریکا کی نئی عسکری ترجیحات کا خاکہ پیش کرتا ہے۔
پچھلی حکومتوں پر تنقیدنئی حکمت عملی میں سابقہ امریکی انتظامیہ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ پینٹاگون کے مطابق پچھلی حکومت نے اتحادی ممالک کو اپنے دفاعی فرائض سنجیدگی سے نہ لینے کی اجازت دی، جبکہ حریفوں کو مضبوط ہونے کا موقع ملا۔ داخلی طور پر سرحدیں غیر محفوظ رہیں اور مغربی نصف کرہ میں منشیات اور دہشت گرد تنظیمیں مزید طاقتور ہو گئیں۔
The US military will prioritise protecting the homeland and deterring China while providing "more limited" support to allies in Europe and elsewhere, according to a Pentagon strategy document https://t.
— Al Jazeera English (@AJEnglish) January 24, 2026
ملک کی حفاظت پر زوراس حکمت عملی کا بنیادی مقصد امریکا کی سرحدوں اور ملک کی حفاظت ہے۔ پینٹاگون نے کہا ہے کہ وہ ملک کے آسمانوں، سمندری راستوں اور اہم علاقوں جیسے پاناما کینال، میکسیکو کی خلیج اور گرین لینڈ کو محفوظ بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔ اس میں جدید نیوکلیئر دفاع، سائبر سیکورٹی اور ممکنہ دہشت گردانہ خطرات کا مقابلہ شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں:مصنوعی ذہانت کی دنیا میں چین امریکا کو پیچھے چھوڑنے کے قریب پہنچ گیا
چین کو روکنے کی حکمتنئی دفاعی دستاویز میں چین کو براہ راست خطرہ قرار نہیں دیا گیا بلکہ اس کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ حکمت عملی میں واضح کیا گیا ہے کہ مقصد چین کو نقصان پہنچانا یا اسے رسوا کرنا نہیں بلکہ یہ یقینی بنانا ہے کہ وہ امریکہ یا اس کے اتحادیوں پر غالب نہ آ سکے۔
روس کو بھی خطرہ قرار دیا گیا ہے لیکن اسے ’قابلِ انتظام‘ سمجھا گیا ہے۔ امریکی حکمت عملی میں کہا گیا ہے کہ یورپی اتحادی خود روس کے خطے میں مسائل حل کریں، جبکہ امریکا صرف اپنے ملک کی حفاظت پر توجہ دے گا۔ روس کے پاس سب سے بڑا نیوکلیئر ہتھیاروں کا ذخیرہ ہے اور اس کی فوجی طاقت ابھی بھی مؤثر ہے۔
اتحادی ممالک سے تعاون کی توقعنئی دفاعی حکمت عملی میں کہا گیا ہے کہ امریکا اب اتحادی ممالک سے اپنی ذمہ داریوں میں حصہ لینے کا مطالبہ کرے گا۔ اسرائیل کو ’مثالی اتحادی‘ قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ دیگر ممالک بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کریں تاکہ امریکہ اپنے داخلی دفاع پر توجہ مرکوز کر سکے۔
Pentagon’s new strategy names defending the US homeland and Western Hemisphere as the TOP priority — Politico
China remains a THREAT, but no longer the main one, Europe is downgraded pic.twitter.com/g2NMWjEaFn
— RT (@RT_com) January 24, 2026
عسکری صنعت کی مضبوطیحکمت عملی میں امریکی دفاعی صنعت کو مضبوط کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ مقامی پروڈکشن میں سرمایہ کاری، پرانی پالیسیوں کا خاتمہ، اور جدید ٹیکنالوجیز جیسے مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال اس کا حصہ ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ امریکہ خود اور اپنے اتحادیوں کے لیے اعلیٰ معیار کے ہتھیار تیزی سے تیار کر سکے۔
بشکریہ: رشیا ٹوڈے
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی حکمت عملی چین روس یورپ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا امریکی حکمت عملی چین یورپ حکمت عملی میں کی حفاظت دیا گیا ملک کی گیا ہے چین کو
پڑھیں:
صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
نیویارک (آئی پی اس )امریکی وزیرخارجہ مارکوروبیو نے متنبہ کیا کہ صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کے ساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منیلا میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایران کے ساتھ ڈیل کی پاسداری کی، ایران اس وقت امریکا کے ساتھ ڈیل کے لیے تیار نہیں، ممکن ہے کہ اگلے چند دنوں میں اپنا مقف تبدیل کر لے، انہوں نے ساتھ ہی خبردار کیا کہ صورتحال برقرار رہی تو ایران کو اس کی بھاری قیمت چکانا ہوگی۔
مارکو روبیو کا کہنا تھا جب بھی ایران امریکا ڈیل ہوتی ہے اسے ایران کو چلانے والے لوگ خراب کردیتے ہیں، انہوں نے دعوی کیا کہ ایران اب بھی ڈیل کے لیے براہِ راست اور بالواسطہ درخواستیں کر رہا ہے، ایران چاہے تو مشرق وسطی کا امیر ترین ملک بن سکتا ہے لیکن اسے چلانے والے انتہا پسند مذہبی رہنماں کو معاشی معاملات کا علم ہی نہیں، انہیں دلچسپی حزب اللہ، حماس، حوثیوں اور دیگر ملیشیاں کو رقومات دینے میں ہے جن کی سرپرستی میں دہشت گردی ہوتی ہے ۔
مارکو روبیو کا حوثیوں کے حوالے سیکہنا تھا کہ ایران نے حوثیوں کو اس تنازع میں شامل کردیا ہے، اب دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے، امید ہیحوثی حملے روک دیں گے۔مارکو روبیو نے سعودی عرب کو امریکا کا اہم اسٹریٹجک شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدہ کرنا قابل فہم ہے، مارکوروبیو کا کہنا تھا کہ سعودی عرب پر امن سول جوہری پروگرام چاہتا ہے، سعودی عرب یا دیگر ممالک کے ساتھ کسی بھی سول جوہری معاہدے میں حفاظتی اقدامات شامل ہوں گے، سول جوہری معاہدے کانگریس کی منظوری سے ہوں گے۔
مارکوروبیو کا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ عالمی فوجداری عدالت میں پاگل اورجنونی لوگ ہیں، امریکا اس کا حصہ نہیں بنے گا، اگر اگر لوگ اس احمق تنظیم کا حصہ بننا چاہتے ہیں تو وہ ایسا کر سکتے ہیں لیکن ہم اس کا حصہ نہیں بنیں گے اور وہ امریکی شہریوں پر اپنے دائرہ اختیار کا اطلاق نہیں کر سکیں گے۔ یوکرین روس جنگ سے متعلق امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ روس یوکرین جنگ میں بہت خونریزی ہوئی، یوکرین نے اس کی بہت بھاری قیمت اداکی ہے، امریکا یوکرین جنگ کے خاتمیکے لیے تعمیری کردارادا کرنیکے لیے تیار ہے۔ چین کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے مارکوروبیو کا کہنا تھا کہ چین کیساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا اگلی خبرپاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم