روم (ویب ڈیسک) کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو چہارم نے مصنوعی ذہانت کے خطرات پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت انسانی شناخت اور باہمی تعلقات کی جگہ لے سکتی ہے، رائے عامہ پر اثر انداز ہو سکتی ہے اور سماجی تفریق کو مزید گہرا کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔
اپنے پیغام میں پوپ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے نظام دراصل اپنے تخلیق کاروں کے عالمی نقطہ نظر کی عکاسی کرتے ہیں اور ان اعداد و شمار میں موجود تعصبات کو دہرا کر انسانی سوچ کے دھارے کو تبدیل کر سکتے ہیں۔

پوپ لیو چہارم کی جانب سے یہ انتباہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنریٹو اے آئی تصاویر، موسیقی اور متن کی تیاری اور تبدیلی میں اس حد تک مہارت حاصل کر رہی ہے کہ اکثر اوقات اسے انسان کے بنائے ہوئے کام سے الگ کرنا ناممکن ہو جاتا ہے، 2023 میں سابق پوپ فرانسس کی ایک مصنوعی تصویر وائرل ہوئی تھی جس میں انہیں ایک سفید پفر جیکٹ پہنے دکھایا گیا تھا۔

اس کے بعد سے اے آئی کئی اہم شخصیات کا پسندیدہ ٹُول بن چکی ہے بشمول امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنہوں نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر کمپیوٹر کی تیار کردہ تصاویر شیئر کی ہیں۔

پوپ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اے آئی کی ترقی پر چند محدود کمپنیوں کا قبضہ ہے جو ایک بڑی طاقت بن کر ابھری ہیں، یہ ٹیکنالوجی حقیقت اور گمان کے درمیان فرق کو مشکل بنا رہی ہے، لیو چہارم نے ان نظاموں پر بھی تنقید کی جو اعداد و شمار کی بنیاد پر محض امکانات کو مستند علم کے طور پر پیش کرتے ہیں جبکہ حقیقت میں یہ صرف ایک تخمینہ ہوتے ہیں۔

اپنے خطاب کے آخر میں پوپ نے اے آئی کے حوالے سے مؤثر گورننس اور عالمی قوانین کی ضرورت پر زور دیا اور نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کا مطالبہ کیا تاکہ وہ سمجھ سکیں کہ الگورتھم کس طرح حقیقت کے بارے میں ان کے ادراک پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

خیال رہے کہ پوپ نے گزشتہ ماہ بھی فوجی مقاصد اور ہتھیاروں میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کی مذمت کرتے ہوئے متنبہ کیا تھا کہ زندگی اور موت کے فیصلے مشینوں کے سپرد کرنا ایک سنگین غلطی ہوگی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: مصنوعی ذہانت لیو چہارم اے آئی پوپ نے

پڑھیں:

کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک

ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے فرار ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔اسپیشل انویسٹی گیشن (ایس آئی ایو) نے دعویٰ کیا ہےکہ گلشنِ معمار، عمر بروہی گوٹھ میں گرفتار ڈاکوؤں کی نشاندہی پر ان کے فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپا مارا تو ملزمان نے فائرنگ کردی جس سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔ایس آئی یو کا کہنا ہے کہ فائرنگ کےدوران ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار  تینوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔13 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں بینک کے باہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہوگیا  تھا جب کہ ملزمان بینک سے نکالے گئے 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ لوٹ کر فرار ہوگئے تھے۔ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں پولیس نے تفتیشی رپورٹ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرائی تھی جس میں واردات میں نامعلوم خاتون کے ملوث ہونے کاانکشاف بھی کیا گیا تھا۔پولیس نے بتایا تھا کہ کلفٹن تین تلوار کے قریب ڈکیتی واردات کے دوران ڈاکٹر آکاش کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کے واقعے میں گرفتار ملزمان کے بینکوں کے باہر رقم چھیننے اور تاجر کو لوٹنے کے واقعات میں ملوث ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی