مصنوعی ذہانت انسانی شناخت اور رشتوں کے لیے خطرہ ہے: پوپ لیو چہارم
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
روم (ویب ڈیسک) کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو چہارم نے مصنوعی ذہانت کے خطرات پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت انسانی شناخت اور باہمی تعلقات کی جگہ لے سکتی ہے، رائے عامہ پر اثر انداز ہو سکتی ہے اور سماجی تفریق کو مزید گہرا کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔
اپنے پیغام میں پوپ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے نظام دراصل اپنے تخلیق کاروں کے عالمی نقطہ نظر کی عکاسی کرتے ہیں اور ان اعداد و شمار میں موجود تعصبات کو دہرا کر انسانی سوچ کے دھارے کو تبدیل کر سکتے ہیں۔
پوپ لیو چہارم کی جانب سے یہ انتباہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنریٹو اے آئی تصاویر، موسیقی اور متن کی تیاری اور تبدیلی میں اس حد تک مہارت حاصل کر رہی ہے کہ اکثر اوقات اسے انسان کے بنائے ہوئے کام سے الگ کرنا ناممکن ہو جاتا ہے، 2023 میں سابق پوپ فرانسس کی ایک مصنوعی تصویر وائرل ہوئی تھی جس میں انہیں ایک سفید پفر جیکٹ پہنے دکھایا گیا تھا۔
اس کے بعد سے اے آئی کئی اہم شخصیات کا پسندیدہ ٹُول بن چکی ہے بشمول امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنہوں نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر کمپیوٹر کی تیار کردہ تصاویر شیئر کی ہیں۔
پوپ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اے آئی کی ترقی پر چند محدود کمپنیوں کا قبضہ ہے جو ایک بڑی طاقت بن کر ابھری ہیں، یہ ٹیکنالوجی حقیقت اور گمان کے درمیان فرق کو مشکل بنا رہی ہے، لیو چہارم نے ان نظاموں پر بھی تنقید کی جو اعداد و شمار کی بنیاد پر محض امکانات کو مستند علم کے طور پر پیش کرتے ہیں جبکہ حقیقت میں یہ صرف ایک تخمینہ ہوتے ہیں۔
اپنے خطاب کے آخر میں پوپ نے اے آئی کے حوالے سے مؤثر گورننس اور عالمی قوانین کی ضرورت پر زور دیا اور نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کا مطالبہ کیا تاکہ وہ سمجھ سکیں کہ الگورتھم کس طرح حقیقت کے بارے میں ان کے ادراک پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
خیال رہے کہ پوپ نے گزشتہ ماہ بھی فوجی مقاصد اور ہتھیاروں میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کی مذمت کرتے ہوئے متنبہ کیا تھا کہ زندگی اور موت کے فیصلے مشینوں کے سپرد کرنا ایک سنگین غلطی ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: مصنوعی ذہانت لیو چہارم اے آئی پوپ نے
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔