Jasarat News:
2026-06-02@22:10:12 GMT

ٹرمپ کی قلابازیاں

اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260125-03-4
ٹرمپ اکثر اپنا موقف بدل لیتے ہیں یہ ایک ہفتے میں ایک دفعہ یا دو دفعہ ہو سکتا ہے کبھی یوکرین کی طرف اور کبھی روس کی طرف آجاتے ہیں کبھی ایران کے خلاف بار بار فوجی کارروائیوں کی دھمکیاں دیتے رہے اور کبھی معاملہ ٹھنڈا کر دیتے ہیں دنیا کے حساس معاملات میں وہ ایسے داؤ پیچ لڑاتے رہے کہ جیسے وہ پراپرٹی ایجنٹ ہوں ویسے ان کا رئیل اسٹیٹ کا بڑا بزنس ہے شاید اسی باعث ان کے بہت زیادہ جھگڑالو شخصیت ہونے کا احساس سامنے آتا ہے جو کسی کی بھی رائے اور آزادی کو اہمیت دینے کے لیے تیار نہیں اور وہ اجتماعی طور پر دوسروں کو حقیر سمجھنے اور صرف طاقت کو اپنی مرضی کا اختیار دینے پر یقین رکھتے ہیں۔ گرین لینڈ کے معاملے پر بھی یہ بات سامنے آتی ہے کہ وہ اپنے مفاد کے سامنے اپنے اتحادیوں کے مفادات کی بھی کوئی خاص پروا نہیں رکھتے، انہیں صرف ایک چیز کا خیال ہے اور وہ ہے امریکا یا زیادہ بہتر طور پر کہا جائے کہ ان کا اپنا آپ، ان کے نظریے اور اقتدار کہ… مجھے کیا فائدہ ہے۔

وہ گرین لینڈ پر قبضہ کرنے یا خریدنے کی بات کرتے ہیں حالانکہ گرین لینڈ پر پہلے ہی امریکی فوج موجود ہے اور 1951 کے ایک معاہدے کے تحت امریکا وہاں مزید فوجی اڈے بھی قائم کر سکتا ہے تو پھر آخر وہ کیا چاہتے ہیں؟ اس سوال کا جواب وہ اسی طرح دیتے ہیں کہ میں اس کا مالک بننا چاہتا ہوں یعنی وہ اپنے آپ اور امریکا کو ایک بریکٹ میں رکھتے ہیں لہٰذا ان کی نظر اپنی کامیابی اپنا جیتنا سب سے اہم ہے ان کی پالیسیوں کی قلابازیاں بھی حیران کن ہوتی ہیں۔ کچھ ہی دنوں پہلے ایران پر حملے کے لیے وہ ضد پر اڑے ہوئے تھے اور اب وہ گرین لینڈ کے بارے میں یہی گردان کر رہے ہیں ان کی یہ باتیں بے اصولی کے تمام ریکارڈ توڑ رہی ہیں۔ ٹرمپ کو یقینا امریکا کا ایسا صدر کہا جا سکتا ہے جو سب سے زیادہ تبدیلی لائے ہیں، ملک کے اندر بھی اور ملک کے باہر بھی دنیا بھر کی حکومتیں ان کے بیانات ان کی معاہدوں کی خلاف ورزیوں سے تشویش کا شکار ہیں، دوسری طرف دنیا کی بڑی طاقتیں ماسکو اور بیجنگ خاموشی سے ان کی یہ فاول پلے دیکھ رہی ہیں شاید اس لیے کہ انہیں اس میں اپنے لیے امکانات نظر آ رہے ہیں خاص طور سے وینزویلا کے صدر کا معاملہ، ایران کے آیت اللہ کو قتل کی دھمکیاں۔

حال ہی میں ڈیوس میں معاشی فورم کے اسٹیج سے فرانسیسی صدر نے کہا کہ یہ ہم کیسی دنیا کی طرف قدم بڑھا رہے ہیں جہاں کوئی اصول نہیں اور جہاں بین الاقوامی قوانین کو پاؤں تلے روندا جا رہا ہے اور جہاں صرف ایسے قانون کی اہمیت نظر آتی ہے جو سامراجی خواہش کے مطابق ہو۔ افسوس یہ بات دنیا کے رہنماؤں کو اس وقت سمجھ میں آرہی ہے جب انہیں خود اپنے معاملے میں تشویش محسوس ہو رہی ہے ورنہ اس سے پہلے دنیا میں جہاں کہیں جو کچھ ہو رہا تھا وہ سب ان کے کرنے والے عسکری اتحاد میں شامل تھے اب چونکہ گرین لینڈ پر قبضے کی ضد کے باعث 76 سالہ پرانا ناٹو عسکری اتحاد خطرے میں نظر آرہا ہے تو تمام یورپ اس بارے میں بہت زیادہ خوفزدہ ہے اور ان کی سمجھ میں نہیں آ رہا کہ وہ اس معاملے کا، اس صورتحال کا کس طرح سامنا کرے، اگرچہ امریکا میں ان کے بیانات اور ان کی پالیسیوں کا دفاع کرنے والا ایک بہت بڑا خوش آمدی ٹولہ ہے جو اس کوشش میں ہے کہ ان کے تمام ہی بیانات کا دفاع کیا جا سکے۔ گرین لینڈ کے بارے میں وہ دنیا کو اطمینان دلاتے ہیں کہ دراصل ٹرمپ اس برفانی خطے کو خریدنا چاہتے ہیں اس پر حملہ نہیں کرنا چاہتے۔ ٹرمپ اپنے حامیوں کے ذریعے دنیا کو یہ بتا رہے ہیں کہ امریکا کے لیے اپنے مفادات اہم ہیں اور ان کے لیے وہ دنیا بھر میں جہاں چاہے جیسے چاہے کار روائی کر سکتا ہے، یہ بات تیسری دنیا کے لیے نئی نہیں البتہ ان کے اتحادیوں کے لیے نئی بھی ہے اور تشویشناک بھی ہے۔

غزالہ عزیز سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: گرین لینڈ رہے ہیں سکتا ہے یہ بات ہے اور نہیں ا کے لیے

پڑھیں:

ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر

 ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔ 

پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 

اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔

ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔  

رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔

متعلقہ مضامین

  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق