Jasarat News:
2026-07-24@01:07:02 GMT

ٹرمپ کی قلابازیاں

اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260125-03-4
ٹرمپ اکثر اپنا موقف بدل لیتے ہیں یہ ایک ہفتے میں ایک دفعہ یا دو دفعہ ہو سکتا ہے کبھی یوکرین کی طرف اور کبھی روس کی طرف آجاتے ہیں کبھی ایران کے خلاف بار بار فوجی کارروائیوں کی دھمکیاں دیتے رہے اور کبھی معاملہ ٹھنڈا کر دیتے ہیں دنیا کے حساس معاملات میں وہ ایسے داؤ پیچ لڑاتے رہے کہ جیسے وہ پراپرٹی ایجنٹ ہوں ویسے ان کا رئیل اسٹیٹ کا بڑا بزنس ہے شاید اسی باعث ان کے بہت زیادہ جھگڑالو شخصیت ہونے کا احساس سامنے آتا ہے جو کسی کی بھی رائے اور آزادی کو اہمیت دینے کے لیے تیار نہیں اور وہ اجتماعی طور پر دوسروں کو حقیر سمجھنے اور صرف طاقت کو اپنی مرضی کا اختیار دینے پر یقین رکھتے ہیں۔ گرین لینڈ کے معاملے پر بھی یہ بات سامنے آتی ہے کہ وہ اپنے مفاد کے سامنے اپنے اتحادیوں کے مفادات کی بھی کوئی خاص پروا نہیں رکھتے، انہیں صرف ایک چیز کا خیال ہے اور وہ ہے امریکا یا زیادہ بہتر طور پر کہا جائے کہ ان کا اپنا آپ، ان کے نظریے اور اقتدار کہ… مجھے کیا فائدہ ہے۔

وہ گرین لینڈ پر قبضہ کرنے یا خریدنے کی بات کرتے ہیں حالانکہ گرین لینڈ پر پہلے ہی امریکی فوج موجود ہے اور 1951 کے ایک معاہدے کے تحت امریکا وہاں مزید فوجی اڈے بھی قائم کر سکتا ہے تو پھر آخر وہ کیا چاہتے ہیں؟ اس سوال کا جواب وہ اسی طرح دیتے ہیں کہ میں اس کا مالک بننا چاہتا ہوں یعنی وہ اپنے آپ اور امریکا کو ایک بریکٹ میں رکھتے ہیں لہٰذا ان کی نظر اپنی کامیابی اپنا جیتنا سب سے اہم ہے ان کی پالیسیوں کی قلابازیاں بھی حیران کن ہوتی ہیں۔ کچھ ہی دنوں پہلے ایران پر حملے کے لیے وہ ضد پر اڑے ہوئے تھے اور اب وہ گرین لینڈ کے بارے میں یہی گردان کر رہے ہیں ان کی یہ باتیں بے اصولی کے تمام ریکارڈ توڑ رہی ہیں۔ ٹرمپ کو یقینا امریکا کا ایسا صدر کہا جا سکتا ہے جو سب سے زیادہ تبدیلی لائے ہیں، ملک کے اندر بھی اور ملک کے باہر بھی دنیا بھر کی حکومتیں ان کے بیانات ان کی معاہدوں کی خلاف ورزیوں سے تشویش کا شکار ہیں، دوسری طرف دنیا کی بڑی طاقتیں ماسکو اور بیجنگ خاموشی سے ان کی یہ فاول پلے دیکھ رہی ہیں شاید اس لیے کہ انہیں اس میں اپنے لیے امکانات نظر آ رہے ہیں خاص طور سے وینزویلا کے صدر کا معاملہ، ایران کے آیت اللہ کو قتل کی دھمکیاں۔

حال ہی میں ڈیوس میں معاشی فورم کے اسٹیج سے فرانسیسی صدر نے کہا کہ یہ ہم کیسی دنیا کی طرف قدم بڑھا رہے ہیں جہاں کوئی اصول نہیں اور جہاں بین الاقوامی قوانین کو پاؤں تلے روندا جا رہا ہے اور جہاں صرف ایسے قانون کی اہمیت نظر آتی ہے جو سامراجی خواہش کے مطابق ہو۔ افسوس یہ بات دنیا کے رہنماؤں کو اس وقت سمجھ میں آرہی ہے جب انہیں خود اپنے معاملے میں تشویش محسوس ہو رہی ہے ورنہ اس سے پہلے دنیا میں جہاں کہیں جو کچھ ہو رہا تھا وہ سب ان کے کرنے والے عسکری اتحاد میں شامل تھے اب چونکہ گرین لینڈ پر قبضے کی ضد کے باعث 76 سالہ پرانا ناٹو عسکری اتحاد خطرے میں نظر آرہا ہے تو تمام یورپ اس بارے میں بہت زیادہ خوفزدہ ہے اور ان کی سمجھ میں نہیں آ رہا کہ وہ اس معاملے کا، اس صورتحال کا کس طرح سامنا کرے، اگرچہ امریکا میں ان کے بیانات اور ان کی پالیسیوں کا دفاع کرنے والا ایک بہت بڑا خوش آمدی ٹولہ ہے جو اس کوشش میں ہے کہ ان کے تمام ہی بیانات کا دفاع کیا جا سکے۔ گرین لینڈ کے بارے میں وہ دنیا کو اطمینان دلاتے ہیں کہ دراصل ٹرمپ اس برفانی خطے کو خریدنا چاہتے ہیں اس پر حملہ نہیں کرنا چاہتے۔ ٹرمپ اپنے حامیوں کے ذریعے دنیا کو یہ بتا رہے ہیں کہ امریکا کے لیے اپنے مفادات اہم ہیں اور ان کے لیے وہ دنیا بھر میں جہاں چاہے جیسے چاہے کار روائی کر سکتا ہے، یہ بات تیسری دنیا کے لیے نئی نہیں البتہ ان کے اتحادیوں کے لیے نئی بھی ہے اور تشویشناک بھی ہے۔

غزالہ عزیز سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: گرین لینڈ رہے ہیں سکتا ہے یہ بات ہے اور نہیں ا کے لیے

پڑھیں:

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔

امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔

تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف