گورنر پنجاب سلیم حیدر کا دورۂ اسکاٹ لینڈ، پاکستانی کمیونٹی سے خطاب
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر نے اپنے دورۂ اسکاٹ لینڈ کے دوران پاکستان قونصلیٹ گلاسگو میں پاکستانی کمیونٹی کے چیدہ چیدہ رہنماؤں سے خطاب کیا۔
اسکاٹ لینڈ میں قونصل جنرل آف پاکستان رانا ثمر جاوید نے گورنر پنجاب کے اعزاز میں دیے گئے عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستانی کمیونٹی اسکاٹ لینڈ کی زندگی کے ہر شعبے میں شاندار خدمات انجام دے رہی ہے۔
گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر نے پاکستانی کمیونٹی کے مسائل سنے اور کہا کہ حکومت بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہے، ہم زمینوں پر قبضوں، ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے فراڈ اور آپ لوگوں کے تحفظ کے سلسلے میں خصوصی اقدامات کر رہے ہیں، ملک میں لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال اگرچہ مثالی نہیں لیکن یہ ماضی کی نسبت بہت بہتر ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جمہوریت کا سفر جاری ہے اور ان شاء اللّٰہ جاری رہے گا، بھارت کے ساتھ جنگ میں فتح کے بعد بیرونی دنیا میں پاکستان کے وقار میں زبردست اضافہ ہوا ہے، ہم اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی قوت ہیں اور ہمارے میزائل دنیا کے کسی بھی کونے میں پہنچ سکتے ہیں، افواجِ پاکستان عوام سے ہیں اور استحکامِ پاکستان کے لیے ہمیں اپنی افواج کو پوری طرح سپورٹ کرنے کی ضرورت ہے۔
گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر نے کہا کہ یہ بات یقینی ہے کہ پاکستان کی مضبوط افواج ہی ایک مضبوط پاکستان کی ضامن ہیں۔
گور نر پنجاب کی اسکاٹ لینڈ آمد پر ایئرپورٹ پر ان کا استقبال قونصل جنرل آف پاکستان رانا ثمر جاوید اور ممتاز سیاسی و سماجی رہنماؤں چوہدری اسلم اور چوہدری ندیم نے کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پاکستانی کمیونٹی گورنر پنجاب اسکاٹ لینڈ سلیم حیدر
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔