چین کے ساتھ تجارتی معاہدہ، ٹرمپ کی کینیڈا کو ایک بار پھر سخت وارننگ
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
واشنگٹن(نیوز ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر کینیڈا کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے اگر کینیڈا نے چین کے ساتھ تجارتی معاہدہ کیا تو تمام کینیڈین مصنوعات پر فوری طور پر 100 فیصد ٹیرف عائد کر دیا جائے گا۔
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں امریکی صدر نے واضح طور پر کہا کہ کینیڈا چین کیلئے امریکی منڈی میں ’’ڈراپ آف پورٹ‘‘ نہیں بن سکتا، چین کینیڈا کو نگل جائے گا۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ایک امریکی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں انکشاف کیا کہ وینزویلا کے صدر مادورو کی گرفتاری کے دوران امریکا نے ’’ڈس کامبو بولیٹر‘‘ نامی خفیہ ہتھیار استعمال کیا، جس سے روسی اور چینی ساختہ دفاعی نظام ناکارہ ہو گئے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ چین کے اثر و رسوخ کو شمالی امریکا میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔