چین کے ساتھ تجارتی معاہدہ، ٹرمپ کی کینیڈا کو ایک بار پھر سخت وارننگ
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
واشنگٹن(نیوز ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر کینیڈا کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے اگر کینیڈا نے چین کے ساتھ تجارتی معاہدہ کیا تو تمام کینیڈین مصنوعات پر فوری طور پر 100 فیصد ٹیرف عائد کر دیا جائے گا۔
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں امریکی صدر نے واضح طور پر کہا کہ کینیڈا چین کیلئے امریکی منڈی میں ’’ڈراپ آف پورٹ‘‘ نہیں بن سکتا، چین کینیڈا کو نگل جائے گا۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ایک امریکی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں انکشاف کیا کہ وینزویلا کے صدر مادورو کی گرفتاری کے دوران امریکا نے ’’ڈس کامبو بولیٹر‘‘ نامی خفیہ ہتھیار استعمال کیا، جس سے روسی اور چینی ساختہ دفاعی نظام ناکارہ ہو گئے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ چین کے اثر و رسوخ کو شمالی امریکا میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔
اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔
60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔
فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔
اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔
دوسری جانب 52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔