data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ڈیووساکنومی فورم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کہہ رہے تھے کہ وہ دنیا کے ممالک اور رہنے والوں کی کیئر کر رہے ہیں لیکن وہاں بیٹھے ہوئے دنیا بھر کے حکمران اور معاشی ماہرین کو چند ہفتےقبل وہ یاد آرہا تھا کہ وینزویلا میں امریکی حملے میں گرفتار صدر نکولس مادورو کو نیویارک پہنچا دیا گیا ۔
ڈیووساکنومی فورن ڈونلڈ ٹرمپ سوئس الپس میں واقع ڈیووس پہنچے تو وہاں جمع کاروباری، ٹیکنالوجی کے بڑے سرمایہ اور سیاست دانوں کو دو متضاد پیغامات دیے گئے۔ یہ ٹرمپ کا تازہ ترین جنون تھا یعنی یہ خیال کہ امریکہ کو آرکٹک خطے میں روس اور چین سے لاحق خطرات کے مقابلے کے لیے گرین لینڈ پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا چاہیے۔
اس موقف کی تمہید میں ٹرمپ یورپی اتحادیوں سے ایک بڑی محاذ آرائی کر چکے تھے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے یورپی ممالک، بشمول برطانیہ، پر مزید سخت ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی ۔ اور ساتھ یہ طعنہ بھی دیا کہ اگر امریکا جنگِ اعظیم دوئم میں یورپ کی مدد نہیں کر تا تو آج پورا یورپ جرمنی بول رہا ہوتا،ٹرمپ یہ سب کچھ کر کے وہ اس لیے کہہ رہے تھے تاکہ وہ گرین لینڈ پر ڈنمارک کی خودمختاری کی حمایت سے دستبردار ہو جائیں۔ اسی دوران نیٹو کو بھی امریکی خواہشات کا محض ایک کھلونا قرار دینے کا تاثر دیا گیا۔دوسرا اور بظاہر متضاد پیغام امریکی انتظامیہ کے نسبتاً حقیقت پسند عناصر کی جانب سے دیا جا رہا تھا، جن میں خاص طور پر امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ شامل ہیں۔ وہ مختلف عشائیوں میں دنیا کے سرکردہ کاروباری رہنماو ¿ں کو یقین دلا رہے تھے کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں، حالات کو اپنے طور پر آگے بڑھنے دیا جائے۔اعصاب شکن ہفتے میں یہ مشورہ درست ثابت ہوا۔ ٹرمپ کی آتش زباں اور جارحانہ تقاریر کے چند ہی گھنٹوں بعد یہ خبر سامنے آئی کہ نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے کے ساتھ ملاقات میں آرکٹک سے متعلق ایک فریم ورک معاہدہ طے پا گیا ہے اور ٹیرف کی دھمکی الپس کی سرد ہوا میں تحلیل ہو گئی ہے ۔

دنیا اور خاص طور پر یو رپ حقیقت یہ معلوم ہ وتی ہے کہ منطقی اعتبار سے ٹرمپ کا مو قف شدید تضادات کا شکار ہے۔ عملی سطح پر یہ نسبتاً اچھی خبر ہے کیونکہ اس سے تلخی پر مبنی کشیدگی کا وہ سلسلہ رک گیا جو ٹرانس اٹلانٹک تعلقات کی پہچان بنتا جا رہا تھا۔ تاہم جیسے ہی یورپ میں یہ نئی اکثریتی سوچ ابھری کہ ٹرمپ کی تجارتی پابندیوں کے جواب میں سنجیدہ جوابی اقدامات، یعنی امریکہ کے ساتھ تجارتی جنگ کی تیاری ضروری ہے، ویسے ہی امریکہ نے قدم پیچھے ہٹا لیا۔س موقعے پر ٹرمپ کو لفظ بہ لفظ سنجیدہ لینا آسان ہے مگر یہ درست نہیں۔ جیسا کہ ڈیلویئر سے ڈیموکریٹک سینیٹر اور ٹرمپ کے پرانے ناقد کرس کونز نے صدر کی تقریر کے بعد مجھ سے گفتگو میں کہا: ’یہ یا تو محض جھنجھلاہٹ اور غیر اہم ثابت ہوگا یا پھر ایک مکمل تباہی۔‘تباہی ٹل گئی، مگر بے چینی اور اضطراب برقرار ہے۔ یورپی فریق یہ دعویٰ کرے گا کہ ڈنمارک کے دفاع میں ٹرمپ کے دبائو کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے سے ہی انہیں پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا گیا۔

برطانیہ کے وزیر اعظم کیئراسٹارمر یہ مو ¿قف اختیار کریں گے کہ ان کی ٹیم کے امریکی انتظامیہ سے قائم روابط، جن میں ان کے بزنس مشیر ورن چندر بھی شامل ہیں، جنہوں نے ٹرمپ کے گرد موجود سخت گیر ’میگا‘ (میک امریکہ گریٹ اگین) حلقوں، حتیٰ کہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مشیر سٹیفن ملر (جو گرین لینڈ کو ضم کرنے کے حامی تھے) سے بھی تعلقات بنا رکھے ہیں، کسی سمجھوتے تک پہنچنے میں مددگار ثابت ہوئے۔اب امریکہ کو آرکٹک میں ایک بڑا اور زیادہ نمایاں کردار دیا جائے گا، مگر نیٹو کے ساتھ کھلی مخالفت کے بغیر۔ کسی نہ کسی طرح ڈنمارک کو مطمئن کیا جائے گا، اگرچہ ٹرمپ اب بھی یہ کہتے ہیں کہ گرین لینڈ امریکہ کے زیر انتظام ہونا چاہیے۔پسپائی کی ایک وجہ امریکہ میں آئندہ وسط مدتی انتخابات بھی ہیں۔ گرین لینڈ سے متعلق جارحانہ مو ¿قف امریکی عوام میں مقبول نہیں رہا، کیونکہ گرین لینڈ خریدنے کے خلاف رائے رکھنے والوں کی تعداد حامیوں سے دگنی ہے۔

قاضی جاوید گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: گرین لینڈ

پڑھیں:

انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران

ایران کی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار محسن رضاعی نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا ردعمل شدید اور وسیع ہوگا۔

ایرانی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق محسن رضائی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ اگر امریکہ نے ایران کے انفرا اسٹرکچر پر مزید حملے کیے تو ایران کا جوابی اقدام شدید اور بتدریج وسیع ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ شلمچہ میں زائرین پر حملہ اور انفرا اسٹرکچر پر حملوں کی امریکی دھمکیاں مایوسی اور بے بسی کے سوا کچھ نہیں ہیں۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل