Islam Times:
2026-06-02@22:10:49 GMT

عراق کی مجبوریاں

اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT

عراق کی مجبوریاں

اسلام ٹائمز: اگرچہ عراقی حکومت نے امریکی قبضے کے بعد ابتدائی سالوں میں اپنے مالیات پر زیادہ کنٹرول حاصل کر لیا تھا، لیکن عراقی معیشت پر امریکہ کا کنٹرول اور پائیدار اثر و رسوخ مطلوبہ نتائج کے حصول میں مانع رہا، یہاں تک کہ بغداد اپنی خود مختاری اور آزادی کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن امریکی اثر و رسوخ ہمیشہ اسکی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے۔ اسوقت، عراق میں ڈالر کی سپلائی پر سخت پابندیوں نے اس ملک میں ایک غیر رسمی اور متوازی مارکیٹ بنا دی ہے، جس نے مرکزی بینک کی طرف سے مقرر کردہ سرکاری شرح مبادلہ اور بلیک مارکیٹ ریٹ کے درمیان قیمت کا بڑا فرق پیدا کر دیا ہے۔ تحریر: رضا دہقانی

عراق کا قومی دارالحکومت امریکہ کے چنگل میں ہے، کیونکہ عراق کی معیشت پر امریکہ کا قبضہ ہے۔ 2003ء میں عراق پر قبضے کے بعد سے، امریکہ نے عراق کی تیل کی آمدنی کو مکمل طریقے سے اپنے کنٹرول میں کیا ہوا ہے، جس سے واشنگٹن کو بغداد کی سیاست اور معیشت اور یہاں تک کہ ایران سے متعلق علاقائی توازن پر بھی وسیع اثر و رسوخ حاصل ہے۔ امریکی حکومت نے 2003ء میں عراق پر قبضے کے بعد سے تیل کی آمدن سے حاصل ہونے والے ڈالروں کے ذریعے ملک کی تیل کی آمدنی کو مؤثر طریقے سے کنٹرول کیا ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق، اس کنٹرول نے واشنگٹن کو بغداد کے معاملات میں مداخلت کرنے کے لیے غیر معمولی اثر و رسوخ فراہم کیا ہے اور ساتھ ہی اسے عراق میں امریکہ مخالف کمپین کے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک ہتھیار فراہم کیا ہے۔

رائٹرز نے لکھا کہ عراق کی تیل کی آمدنی پر واشنگٹن کا کنٹرول بنیادی طور پر "امریکہ کے مرکزی بینک" میں اس کے انتظام کے ذریعے استعمال کیا جاتا ہے۔ یعنی عراق کی تیل کی آمدن امریکی سنٹرل بینک میں آتی ہے اور عراق امریکہ کی مرضی کے بغیر اسے خرچ نہیں کرسکتا۔ امریکہ عراق پر 2003ء کے حملے کے بعد، امریکہ کی زیر قیادت عبوری حکومت نے عراق ڈیولپمنٹ فنڈ قائم کیا اور اس کے اثاثے نیویارک کے فیڈرل ریزرو بینک میں جمع کرنے کا اعلان کیا۔ بنیادی طور یہ فنڈ عراق کے تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی کو جمع کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا، جس کا مقصد اسے تعمیر نو اور ترقی کے لیے استعمال کرنا تھا اور انھیں صدام حسین کی صدارت سے متعلق مقدمات اور دعووں سے بچانا تھا۔

اس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے اس سلسلے میں ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا تھا، جس کی بعد کے تمام صدور نے (اس نظام کو برقرار رکھنے کے لیے) توسیع کی۔ عراق ڈیولپمنٹ فنڈ آخرکار ایک اکاؤنٹ بن گیا جسے عراق کے مرکزی بینک نے فیڈرل ریزرو بینک آف امریکہ میں رکھا، ایک ایسی صورتحال جو آج تک جاری ہے۔ عراق پر واشنگٹن کے اثرورسوخ کی بڑی وجہ یہی ہے۔ رائٹرز کے مطابق، یہ دیکھتے ہوئے کہ تیل عراق کی آمدنی کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔ ملک کے بجٹ کا تقریباً 90 فیصد حصہ اسی پر مشتمل ہے اور یہ صورتحال عراق کے اقتصادی اور سیاسی استحکام پر واشنگٹن کو کافی اثر و رسوخ فراہم کرتی ہے۔

جب عراقی حکومت نے امریکی افواج کو 2020ء میں ملک چھوڑنے کو کہا تو واشنگٹن نے عراق کو امریکی سینٹرل بینک میں تیل کی آمدنی تک رسائی سے محروم کرنے کی دھمکی دی۔ اس دھمکی کی وجہ سے بغداد اپنے فیصلے سے پیچھے ہٹ گیا۔ متعدد رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ اس کنٹرول نے بغداد کو حکومتی بجٹ مختص کرنے، ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی اور داخلی سلامتی کو یقینی بنانے میں زیادہ تر واشنگٹن کی منظوری پر منحصر کر دیا ہے۔ امریکہ ادائیگیوں میں تاخیر یا محدود کرکے عراقی حکومتوں پر سیاسی دباؤ ڈالتی ہے۔۔ ایک اور معاملہ تیل کے شعبے میں عراق کے غیر ملکی معاہدوں یا اس علاقے میں ملکی قانون سازی سے متعلق ہے، جو کہ امریکہ کی رضامندی کے بغیر عملی طور پر ناممکن ہے۔

اس کی ایک مثال "عراق تیل اور گیس کے قانون" کا مسودہ ہے، جس کی منظوری  امریکی اور یورپی ممالک کے دباؤ کی وجہ سے ملتوی کر دی گئی تھی۔ اس التوا نے ثابت کیا کہ امریکہ اور مغربی ممالک کی تیل کمپنیاں اپنے مفادات کی ضمانت دینے والے قوانین کو منظور کرنے کے لیے بہت زیادہ دباؤ ڈال رہی ہیں۔ تیل کی آمدنی کو دباؤ کے طور پر استعمال کرنے سے امریکہ کو عراق کی سلامتی اور فوجی مسائل میں مداخلت کرنے کا موقع ملتا ہے۔ اس سلسلے میں، عراقی فوج اور پولیس کے لیے مختص فنڈز بعض اوقات امریکی افواج کے ساتھ تعاون یا واشنگٹن کی مخصوص پالیسیوں کے نفاذ پر مشروط ہوتے ہیں۔

اگرچہ عراقی حکومت نے امریکی قبضے کے بعد ابتدائی سالوں میں اپنے مالیات پر زیادہ کنٹرول حاصل کر لیا تھا، لیکن عراقی معیشت پر امریکہ کا کنٹرول اور پائیدار اثر و رسوخ مطلوبہ نتائج کے حصول میں مانع رہا، یہاں تک کہ بغداد اپنی خود مختاری اور آزادی کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن امریکی اثر و رسوخ ہمیشہ اس کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے۔ اس وقت، عراق میں ڈالر کی سپلائی پر سخت پابندیوں نے اس ملک میں ایک غیر رسمی اور متوازی مارکیٹ بنا دی ہے، جس نے مرکزی بینک کی طرف سے مقرر کردہ سرکاری شرح مبادلہ اور بلیک مارکیٹ ریٹ کے درمیان قیمت کا بڑا فرق پیدا کر دیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: تیل کی آمدنی عراقی حکومت کرنے کے لیے قبضے کے بعد کی تیل کی آمدنی کو حکومت نے عراق کے عراق کی میں ایک

پڑھیں:

پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ

روم (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ ہوگیا۔

 نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لئے ویزا ختم کرنے کے معاہدے پر دستخط کی تقریب اٹلی وزارت خارجہ روم میں منعقد ہوئی۔ معاہدہ سفارتی وفود کے تبادلوں میں آسانی اور روابط مضبوط کرے گا۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان