چین کے طاقتور فوجی جنرل کے خلاف بدعنوانی کی تحقیقات شروع
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
چین نے اپنی فوج کے ایک اعلیٰ ترین عہدیدار کے خلاف بدعنوانی کے الزامات پر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
چینی وزارتِ دفاع کے مطابق سینٹرل ملٹری کمیشن کے سینئر نائب چیئرمین جنرل ژانگ یو شیا اور ایک اور اعلیٰ فوجی افسر لیو ژین لی پر ’’سنگین نظم و ضبط کی خلاف ورزی‘‘ کا شبہ ہے، جو عام طور پر بدعنوانی کے الزامات کے لیے استعمال کی جانے والی اصطلاح ہے۔
ژانگ یو شیا چین کی فوج کے اعلیٰ ترین جنرل اور طاقتور پولیٹ بیورو کے رکن بھی ہیں، جبکہ لیو ژین لی فوجی منصوبہ بندی کے شعبے کے سربراہ ہیں۔
دونوں عہدیداروں کے خلاف تحقیقات کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چین میں صدر شی جن پنگ کی قیادت میں بدعنوانی کے خلاف وسیع مہم جاری ہے۔
چینی حکام کے مطابق دونوں افسران قانون اور پارٹی نظم و ضبط کی سنگین خلاف ورزیوں کے شبہ میں زیرِ تفتیش ہیں۔ اطلاعات کے مطابق حالیہ دنوں میں دونوں عہدیدار ایک اہم اجلاس میں شریک نہیں ہوئے تھے، جس کے بعد ان کے خلاف تحقیقات کی افواہیں گردش کر رہی تھیں۔
صدر شی جن پنگ نے بدعنوانی کو کمیونسٹ پارٹی کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف سخت کارروائی کا عزم ظاہر کیا ہے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ بدعنوانی کے خلاف مہم بعض اوقات سیاسی مخالفین کو ہٹانے کے لیے بھی استعمال کی جاتی ہے۔
چین میں گزشتہ برسوں کے دوران کئی اعلیٰ فوجی عہدیدار بدعنوانی کے الزامات پر برطرف یا پارٹی سے نکالے جا چکے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فوج کے اندر احتساب کا عمل مزید سخت ہو رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بدعنوانی کے کے خلاف
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔