سابق وزیر اعلیٰ و نون لیگ کے صوبائی صدر نے کہا کہ سابق صوبائی حکومتوں کی وعدہ خلافیوں، غلطیوں، نااہلیوں اور کوتاہیوں کے باعث گلگت بلتستان کے عوام اور نظام کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ بروقت اقدامات اور فوری فیصلوں سے ہی مداوا ممکن ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سابق وزیر اعلیٰ و صدر مسلم لیگ (ن) گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمٰن نے کہا ہے کہ احتجاج کی پاداش میں گلبر خان کے دور حکومت میں برطرف کئے گئے پولیس اہلکاروں کو بحال کیا جائے، سابق صوبائی حکومتوں کی وعدہ خلافیوں، غلطیوں، نااہلیوں اور کوتاہیوں کے باعث گلگت بلتستان کے عوام اور نظام کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ بروقت اقدامات اور فوری فیصلوں سے ہی مداوا ممکن ہے، ہماری کوششوں اور وزیر اعظم سیکرٹریٹ سے رابطوں کے نتیجے میں سوست کسٹم میں ضبط شدہ ریلیف سامان گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ کو فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حافظ حفیظ الرحمن نے میڈیا کو جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ محکمہ پولیس میں ایک سو سے زائد اہلکاروں کی برطرفی کے فیصلے پر فوری نظرثانی کی ضرورت ہے۔ ان نوجوانوں کو قواعد و ضوابط کی پابندی کے لیے ایک اور موقع دیا جانا چاہیے۔ پولیس کے ان اہلکاروں سے نظم و ضبط کی غلطی ہوئی ہے، مگر ان کی غلطیوں کی وجہ یہ ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ، کچھ وزراء اور ممبران اسمبلی وعدہ کر کے مکر گئے، جھوٹ بولتے رہے اور اہلکاروں کور بار بار اشتعال دلایا۔ یہ تمام نوجوان تربیت یافتہ ہیں اور اپنی غلطی کا احساس رکھتے ہوئے مستقبل میں قواعد و ضوابط کی مکمل پابندی کے عزم کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔ لہذا نوکری سے برطرفی کے فیصلے پر نظرثانی کی جائے اور کم سے کم سزا پر غور کیا جائے۔

حفیظ الرحمٰن نے مزید کہا کہ پولیس اہلکاروں اور اساتذہ کے ساتھ سابق وزیر اعلیٰ گلبر خان اور دیگر ذمہ داران نے الاونسز میں اضافے اور ٹائم سکیل جیسے نکات پر وعدے کیے اور داد سمیٹی۔ تاہم بجٹ سازی کے دوران پولیس کے الاونسز میں اضافے اور اساتذہ کے ٹائم سکیل کے اخراجات کو جان بوجھ کر ریگولر بجٹ کا حصہ نہیں بنایا گیا۔ اس دوران اضافی بجٹ کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا گیا اور اپنی کمی کوتاہی چھپانے کیلئے انتظامی افسران اور پولیس افسران پر اضافی بجٹ پر عملدرآمد نہ کرنے کے الزامات لگا کر عوام اور اداروں کے بیچ بداعتمادی پیدا کرنے کی ناکام کوشش تک کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت محکمہ پولیس اور اساتذہ کی جانب سے وعدوں پر عملدرآمد کے لیے وزیر اعلیٰ اور حکومت کے دیگر ذمہ داران سے بار بار رابطے کیے گئے، مگر انہیں دھتکارا گیا اور اشتعال دلایا گیا جس کے نتیجے میں پولیس کے ان اہلکاروں سے غلطی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعاتی غلطی پر نوکری سے برطرفی کی سزا بہت زیادہ ہے، لہذا نگران وزیر اعلیٰ، چیف سیکرٹری اور آئی جی پی گلگت بلتستان سے درخواست ہے کہ وہ فوری طور پر ان نوجوانوں کی اپیل پر نظرثانی کریں اور انہیں ایک اور موقع فراہم کریں۔

سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگر آئندہ انتخابات میں گلگت بلتستان کے عوام مسلم لیگ (ن) کو حکومت بنانے کا موقع دیں گے تو بروقت فیصلوں، اصلاحات اور فوری اقدامات سے عوام کا حکومت پر اعتماد بحال کریں گے۔ وفاقی حکومت کے تعاون سے وسائل کے نئے ذرائع پیدا کر کے گلگت بلتستان کو ترقی کے نئے ماڈل میں داخل کریں گے اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے قابل عمل اقدامات سامنے لائیں گے۔ دوسری جانب حافظ حفیظ الرحمن کے وزیر اعظم سیکرٹریٹ سے کامیاب رابطوں کے نتیجے میں سوست کسٹم میں ضبط شدہ ریلیف سامان گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کو فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سوست میں کسٹم حکام کی جانب سے قدرتی آفات کے متاثرین کے لیے لائے گئے جدید ریلیف سامان کی ضبطی اور نیلامی کے فیصلے کے حوالے سے حافظ حفیظ الرحمن نے وزیر اعظم پاکستان سے براہ راست رابطہ کیا تھا ان کی کوششوں کے بعد وزیر اعظم کی ہدایت پر چیئرمین ایف بی آر نے خصوصی سمری تیار کر کے وزیر اعظم پاکستان کو ارسال کی، جس کے بعد اس سامان کو گلگت بلتستان حکومت کے حوالے کرنے کی منظوری دیدی گئی ہے۔

اس جدید ریلیف سامان میں سردیوں کے موسم کے لیے خصوصی ٹینٹ بھی شامل ہیں، جو شدید سردی میں متاثرین کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوں گے۔ یہ سامان سب ڈویژن گوجال کے متاثرہ گاؤں اور دیگر علاقوں کے لوگوں کے لیے بڑا ریلیف فراہم کرے گا جس سے قدرتی آفات سے متاثرہ افراد کو فوری اور موثر مدد فراہم کی جا سکے گی۔گلگت بلتستان حکومت نے سیلاب سے متاثرہ اضلاع ہنزہ غذر، دیامر، سکردو اور گانچھے میں امدادی سرگرمیوں کو تیز کرنے کے لئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو سے بھی رابطہ کیا ہے، محکمہ داخلہ کی جانب سے کسٹمز حکام کو لکھے گئے خط میں درخواست کی گئی ہے کہ سوست ڈرائی پورٹ پر نیلامی کے لئے رکھے گئے تقریباً 11 ٹن امدادی سامان بشمول 200 ٹینٹوں کو فوری طور پر جی بی ڈی ایم اے کے حوالے کیا جائے، حکام کا موقف ہے کہ مون سون سیلاب کی وجہ سے سرکاری اسٹاک ختم ہو چکا ہے اور سردیوں کے آغاز کے باعث متاثرہ خاندانوں کو خیموں اور دیگر امدادی اشیاء کی سخت ضرورت ہے لہذا اس سامان کو نیلامی کی فہرست سے نکال کر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ریلیف آپریشن کے لئے فراہم کیا جائے تاکہ شفاف طریقے سے مستحقین میں تقسیم کیا جا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سابق وزیر اعلی گلگت بلتستان ریلیف سامان حفیظ الرحمن حافظ حفیظ نے کہا کہ کیا جائے کے لیے

پڑھیں:

ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف

ویب ڈیسک :مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف نے گلگت میں عوامی جلسے سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ میں وہ نواز شریف ہوں جو کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، گلگت بلتستان کی سڑکوں کی حالت دیکھ کر افسوس ہوا،پوچھنا چاہتا ہوں کہ گلگت بلتستان کو نظر انداز کیوں کیا گیا ؟

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

میاں نوازشریف نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوامی جوش و جذبہ دیکھ کر خوشی ہوئی ،ہم نےگلگت اور ملحقہ علاقوں میں بہترین شاہراہیں بچھائی تھیں۔

چاہتا ہوں جی بی میں ترقی اور لوگوں کو روزگار ملے، 50 ارب روپے کی لاگت سے گلگت سے سکردو تک سڑک تعمیر کی گئی تھی ،گلگت کے عوام کا پیسہ ان پر کیوں نہیں لگایا گیا؟ہم نے ہائیڈرل پاور منصوبے شروع کیے، اب تک مکمل کیوں نہیں ہوئے؟

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف کل گلگت بلتستان کا ایک روزہ دورہ کریں گے
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف