شاہد آفریدی اور عالمی کرکٹرز ایسوسی ایشن کا بنگلا دیش کو ورلڈ کپ سے نکالنے پر ردِعمل
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی:پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی اور عالمی کرکٹرز ایسوسی ایشن نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے بنگلا دیش کو خارج کیے جانے کے فیصلے پر تشویش اور مایوسی کا اظہار کیا ہے۔
شاہد آفریدی نے کہا کہ آئی سی سی کے دہرے معیار نے انہیں مایوس کیا ہے کیونکہ پاکستان کے دورے کے لیے بھارتی سیکیورٹی خدشات تسلیم کیے گئے لیکن بنگلا دیش کے معاملے میں یہی سمجھ بوجھ اور انصاف دکھانے سے گریز کیا گیا، تسلسل، برابری اور انصاف ہی عالمی کرکٹ گورننس کی بنیاد ہیں اور امتیازی رویہ کھیل کی روح کو مجروح کرتا ہے۔
سابق کپتان نے مزید کہا کہ آئی سی سی کو اختلافات بڑھانے کے بجائے کرکٹ کی دنیا میں پل بنانے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ کھیل کی ساکھ اور عالمی معیار برقرار رہے۔
دوسری جانب عالمی کرکٹرز ایسوسی ایشن نے بھی بنگلا دیش کی غیر موجودگی پر افسوس ظاہر کیا۔ ایسوسی ایشن کے صدر نے کہا کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے بنگلا دیش کی غیر موجودگی کھیل کے لیے ایک اداس لمحہ ہے اور اس سے کرکٹ کی عالمی ہم آہنگی متاثر ہوتی ہے۔
یہ ردِعمل اس فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں بنگلا دیش کو ورلڈ کپ سے خارج کر دیا گیا، جس نے کرکٹ کے شائقین اور بین الاقوامی حلقوں میں بحث و مباحثہ کو جنم دیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایسوسی ایشن عالمی کرکٹ ورلڈ کپ سے بنگلا دیش
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران پر امریکی جارحیت کے بعد عالمی توانائی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ برطانوی خام تیل 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات کا مربن خام تیل 108 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہونے لگا ہے، جو عالمی منڈی میں توانائی کی بڑھتی ہوئی بے یقینی کی عکاسی کرتا ہے۔ادھر قدرتی گیس کی قیمت بھی بڑھ کر 2.95 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو (MMBtu) ہو گئی ہے، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ میں کشیدگی کے اثرات مزید نمایاں ہو رہے ہیں۔