طالبان حکومت میں افغانستان کی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی، سابق وزیر خزانہ کا بڑا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
طالبان حکومت میں افغانستان کی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی، سابق وزیر خزانہ کا بڑا انکشاف WhatsAppFacebookTwitter 0 25 January, 2026 سب نیوز
کابل:(آئی پی ایس) افغان طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان کی معیشت شدید بحران کا شکار ہو چکی ہے اور ماہرین مستقبل کو مزید تاریک قرار دے رہے ہیں۔
سابق افغان وزیر خزانہ انوار الحق احدی نے افغانستان انٹرنیشنل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں طالبان حکومت کے معاشی ترقی سے متعلق دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔
انوار الحق احدی کے مطابق افغانستان میں سرمایہ کاری کے لیے نہ تو کوئی واضح قانونی فریم ورک موجود ہے اور نہ ہی ریاستی ادارے آزادانہ طور پر کام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اہم اداروں پر طالبان حمایت یافتہ افراد کی اجارہ داری ہے جس کے باعث سرمایہ کار عدم تحفظ کا شکار ہیں۔
سابق وزیر خزانہ نے انکشاف کیا کہ ملک میں سرمایہ کاروں کے لیے نہ مناسب سکیورٹی دستیاب ہے اور نہ ہی تربیت یافتہ انسانی وسائل موجود ہیں، جس کے باعث سرمایہ کاری کے مواقع تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی پابندیاں اور واضح معاشی پالیسیوں کی عدم موجودگی نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان میں دہشت گردی اور خراب معاشی حالات کے باعث بے روزگاری کی شرح 75 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں سرگرم دہشت گرد گروہ نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ طالبان کے زیرِ کنٹرول افغانستان کو 2026 میں ایک بڑے معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق طالبان کی ناقص پالیسیاں ملک میں سیکیورٹی، انسانی اور معاشی بحران کی بنیادی وجہ ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ طالبان کی عسکریت پسندانہ پالیسیوں کے باعث افغانستان کے پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ اقتصادی تعلقات شدید متاثر ہو رہے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربین الاقوامی جریدے کی واشنگٹن میں کامیاب پاکستانی سفارتکاری کی کُھل کر تعریف بین الاقوامی جریدے کی واشنگٹن میں کامیاب پاکستانی سفارتکاری کی کُھل کر تعریف سینیٹر جیسیکا راموس نے نیویارک میں کمیونٹی سروس کے لیے او پی جی ایف کے چیئرمین کو سراہا پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری شادی پر فوجداری و دیوانی کارروائی ہو سکتی ہے، سپریم کورٹ پاکستان اور اٹلی کے تعلقات میں نئی پیشرفت، اطالوی سفیر کا 10 ہزار ویزوں اور ملتان میں ویزا سینٹر کے قیام کا اعلان اسحاق ڈار کا بنگلہ دیشی وزیر خارجہ سے رابطہ، باہمی تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کیلئے پاکستان کے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلانCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے حکومت نے فاٹا اور پاٹا کو حاصل مختلف ٹیکس رعایتوں میں مزید توسیع نہ دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے تحت 30 جون 2026ء کے بعد انکم ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ ختم ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے جاری مذاکرات میں آئی ایم ایف نے ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتوں میں مزید کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتیں مزید کم کرنے سے تقریباً 40 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے۔
وفاقی حکومت نے 30 جون 2026ء کے بعد ٹیکس چھوٹ میں مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختلف ٹیکس استثنیٰ ختم کر کے محصولات اکٹھے کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سابق فاٹا اور پاٹا کے لیے انکم ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گا جبکہ یکم جولائی 2026ء کے بعد فاٹا اور پاٹا کے رہائشی افراد اور کمپنیوں پر عام ٹیکس قوانین لاگو ہونے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس بھی مرحلہ وار بڑھائے جانے کا امکان ہے اس سلسلے میں سابق فاٹا اور پاٹا کی صنعتوں پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 12 فی صد کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ سابق قبائلی علاقوں میں درآمدی صنعتی خام مال پر بھی 12 فی صد سیلز ٹیکس عائد ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق فاٹا اور پاٹا کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ بھی یکم جولائی 2026ء کو ختم ہونے کا امکان ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں کے سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبل کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا۔ اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026 تک برقرار رہے گا جبکہ مقامی طور پر تیار کردہ سائلوز پر سیلز ٹیکس چھوٹ بھی 30 جون 2026 کو ختم ہو جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔