سعودی پریس ایجنسی کی جانب سے ہفتے کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں سعودی عرب کے علاقے الباحہ میں واقع وادی الاحسبہ کی منفرد جغرافیائی ساخت اور حیاتیاتی تنوع کو اجاگر کیا گیا ہے۔ یہ وادی ایک موسمی آبی گزرگاہ ہے جو المخواہ گورنریٹ سے شروع ہو کر تقریباً 100 کلومیٹر کا سفر طے کرتی ہوئی تہامہ کے میدانوں سے گزرتے ہوئے بحیرۂ احمر میں جا گرتی ہے۔

وادی الاحسبہ اور اس کے اطراف کا علاقہ سردیوں اور بہار کے موسم میں سیاحوں کے لیے ایک مقبول مقام بن چکا ہے۔ وادی کے دلکش مناظر موسمی جنگلی پودوں سے مزین ہوتے ہیں جن میں لیونڈر، سداب، جنگلی پودینہ، سدر کے درخت اور سرسبز و شاداب علاقے شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: سعودی عرب میں ورلڈ کرکٹ فیسٹیول 2026 کا شاندار آغاز، پاکستانی ٹیم نے دھاک بٹھا دی

سعودی پریس ایجنسی کا کہنا ہے کہ وادی الاحسبہ الباحہ کے سب سے زیادہ زرخیز علاقوں میں شمار ہوتی ہے، جس کے باعث یہ زرعی پیداوار اور مقامی غذائی تحفظ کے لیے نہایت اہم حیثیت رکھتی ہے۔

وادی میں واقع الاحسبہ ڈیم، جو 2012 میں تعمیر کیا گیا تھا، المخواہ اور غامد الزناد کے علاقوں کے لیے پینے کے پانی کا بنیادی ذریعہ ہے۔ یہ ڈیم تقریباً 15 کنوؤں کو پانی فراہم کرتا ہے۔ ڈیم کی لمبائی 895 میٹر، اونچائی 22 میٹر جبکہ ذخیرہ کرنے کی گنجائش تقریباً 11 ملین مکعب میٹر ہے۔

ڈیم کے اطراف میں 3,600 مربع میٹر پر مشتمل ایک پارک بھی قائم کیا گیا ہے جو سیاحوں کے لیے قدرتی تفریح گاہ فراہم کرتا ہے اور مقامی سیاحت کو فروغ دیتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق شدید بارشوں کے دوران ڈیم کے دروازے اضافی پانی خارج کرتے ہیں، جس سے زیرِ زمین پانی کی سطح میں اضافہ ہوتا ہے اور کسانوں کے کنوؤں کو فائدہ پہنچتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: قدرتی تنوع اور ثقافتی ورثے کے ساتھ جازان شہر سعودی عرب کا اہم سیاحتی مرکز

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق وادی الاحسبہ تازہ پانی اور زرخیز زمین کی بدولت الباحہ کے اہم ترین زرعی علاقوں میں شامل ہے اور یہ ماحولیاتی تحفظ اور ترقی کے درمیان توازن کی ایک بہترین مثال ہے، جو اسے تہامہ میں ایک نمایاں آبی وسیلہ اور ماحولیاتی سیاحت کا مرکز بناتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

سعودی عرب سیاحت قدرتی مناظر.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: سیاحت قدرتی مناظر وادی الاحسبہ کے لیے

پڑھیں:

سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا

نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔  نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل