سعودی عرب کی وادی الاحسبہ قدرتی مناظر کی وجہ سے سیاحوں میں مقبول
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
سعودی پریس ایجنسی کی جانب سے ہفتے کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں سعودی عرب کے علاقے الباحہ میں واقع وادی الاحسبہ کی منفرد جغرافیائی ساخت اور حیاتیاتی تنوع کو اجاگر کیا گیا ہے۔ یہ وادی ایک موسمی آبی گزرگاہ ہے جو المخواہ گورنریٹ سے شروع ہو کر تقریباً 100 کلومیٹر کا سفر طے کرتی ہوئی تہامہ کے میدانوں سے گزرتے ہوئے بحیرۂ احمر میں جا گرتی ہے۔
وادی الاحسبہ اور اس کے اطراف کا علاقہ سردیوں اور بہار کے موسم میں سیاحوں کے لیے ایک مقبول مقام بن چکا ہے۔ وادی کے دلکش مناظر موسمی جنگلی پودوں سے مزین ہوتے ہیں جن میں لیونڈر، سداب، جنگلی پودینہ، سدر کے درخت اور سرسبز و شاداب علاقے شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: سعودی عرب میں ورلڈ کرکٹ فیسٹیول 2026 کا شاندار آغاز، پاکستانی ٹیم نے دھاک بٹھا دی
سعودی پریس ایجنسی کا کہنا ہے کہ وادی الاحسبہ الباحہ کے سب سے زیادہ زرخیز علاقوں میں شمار ہوتی ہے، جس کے باعث یہ زرعی پیداوار اور مقامی غذائی تحفظ کے لیے نہایت اہم حیثیت رکھتی ہے۔
وادی میں واقع الاحسبہ ڈیم، جو 2012 میں تعمیر کیا گیا تھا، المخواہ اور غامد الزناد کے علاقوں کے لیے پینے کے پانی کا بنیادی ذریعہ ہے۔ یہ ڈیم تقریباً 15 کنوؤں کو پانی فراہم کرتا ہے۔ ڈیم کی لمبائی 895 میٹر، اونچائی 22 میٹر جبکہ ذخیرہ کرنے کی گنجائش تقریباً 11 ملین مکعب میٹر ہے۔
ڈیم کے اطراف میں 3,600 مربع میٹر پر مشتمل ایک پارک بھی قائم کیا گیا ہے جو سیاحوں کے لیے قدرتی تفریح گاہ فراہم کرتا ہے اور مقامی سیاحت کو فروغ دیتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق شدید بارشوں کے دوران ڈیم کے دروازے اضافی پانی خارج کرتے ہیں، جس سے زیرِ زمین پانی کی سطح میں اضافہ ہوتا ہے اور کسانوں کے کنوؤں کو فائدہ پہنچتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: قدرتی تنوع اور ثقافتی ورثے کے ساتھ جازان شہر سعودی عرب کا اہم سیاحتی مرکز
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق وادی الاحسبہ تازہ پانی اور زرخیز زمین کی بدولت الباحہ کے اہم ترین زرعی علاقوں میں شامل ہے اور یہ ماحولیاتی تحفظ اور ترقی کے درمیان توازن کی ایک بہترین مثال ہے، جو اسے تہامہ میں ایک نمایاں آبی وسیلہ اور ماحولیاتی سیاحت کا مرکز بناتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سعودی عرب سیاحت قدرتی مناظر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سیاحت قدرتی مناظر وادی الاحسبہ کے لیے
پڑھیں:
اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔