یشما گل کا دوستوں کے ساتھ ڈانس سوشل میڈیا پر وائرل
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
پاکستانی ٹیلی ویژن کی معروف اداکارہ یشما گل کا دوستوں کے ہمراہ ڈانس سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا جس پر صارفین کی جانب سے ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
یشما گل کا شمار پاکستان کی مقبول اداکاراؤں میں ہوتا ہے اور وہ انسٹاگرام پر 1.6 ملین سے زائد فالوورز رکھتی ہیں۔ انہوں نے ’’اب دیکھ خدا کیا کرتا ہے، کس دن میرا ویاہ ہو گا، صدقے تمہارے، بے باک، تیرے عشق کے نام، پھانس اور حق مہر‘‘ جیسے کامیاب ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں۔
یشما گل کو شوبز انڈسٹری کی خوش مزاج شخصیت سمجھا جاتا ہے اور وہ اکثر دوستوں کی تقریبات میں شرکت کرتی دکھائی دیتی ہیں۔
حال ہی میں وہ اپنی قریبی دوست گلالئی اور علی کی میوزیکل نائٹ میں شریک ہوئیں جہاں انہوں نے زرمینے اور اداکارہ زویا ناصر سمیت دیگر دوستوں کے ساتھ پرفارم کیا۔
View this post on Instagramتقریب کے موقع پر یشما گل نے گہرے سبز رنگ کا خوبصورت اور بھاری کام والا لہنگا زیب تن کیا، جبکہ ان کے بال آدھے کھلے ہوئے تھے۔ یشما گل اور زرمینے نے مقبول پاکستانی گانے "گال سن" پر ڈانس کیا، اس کے علاوہ یشما گل نے گرو رندھاوا کے گانے "سیرا" پر بھی پرفارمنس دی۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ان ڈانس ویڈیوز نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، کچھ مداحوں نے یشما گل کی انرجی اور دوستانہ ماحول کو سراہا، وہیں متعدد صارفین نے ان کے ڈانس پر تنقید بھی کی۔
ایک صارف نے اپنے تبصرے میں لکھا کہ ’’انہیں نہ ڈانس آتا ہے اور نہ شرم‘‘۔ ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ ’’پتا کرو یہ مخلوق کس چڑیا گھر سے بھاگی ہے۔‘‘ ایک صارف نے تبصرے میں لکھا کہ ’’ یہ کیسے مردانہ مووز ہیں‘‘۔
تاہم کئی مداحوں نے اداکارہ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس ڈانس کو تفریح کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: یشما گل
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔