فروری 2026 میں پاکستان اور بھارت کی کرکٹ ٹیمیں 3 مختلف ایونٹس میں ایک دوسرے کے مدمقابل آئیں گی، جن کی تاریخیں بھی سامنے آگئی ہیں۔

روایتی حریف پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں آئی سی سی انڈر 19 ورلڈ کپ کے سپر سکس مرحلے، ٹی20 ورلڈ کپ 2026 اور ویمنز ایشیا کپ رائزنگ اسٹارز میں آمنے سامنے ہوں گی۔

یہ بھی پڑھیں: انڈر19 ایشیا کپ، ایک بار پھر پاک بھارت ٹاکرے کا امکان

آئی سی سی انڈر 19 ورلڈ کپ میں پاکستان نے گروپ مرحلے میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جس کے بعد سپر سکس مرحلے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان مقابلہ یکم فروری کو شیڈول کیا گیا ہے۔

ٹی20  ورلڈ کپ 2026 کے اہم میچ میں پاکستان اور بھارت 15 فروری کو سری لنکا کے شہر کولمبو میں مدِ مقابل ہوں گے۔

اسی طرح ویمنز ایشیا کپ رائزنگ اسٹارز کے تحت بھی پاکستان اور بھارت کی ویمنز ٹیمیں 15 فروری کو میدان میں اتریں گی۔

یہ بھی پڑھیں: ’کھیل جاری رہنا چاہیے‘، گنگولی کا پاک بھارت ایشیا کپ ٹاکرے پر تبصرہ

پاک بھارت میچز کو عالمی سطح پر غیر معمولی دلچسپی سے دیکھا جاتا ہے، کرکٹ شائقین کی توجہ دونوں ٹیموں کی حکمت عملی، کھلاڑیوں کی فارم اور ایونٹس کی صورتحال پر مرکوز رہے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news پاکستان بھارت ٹی 20ورلڈ کپ رائزنگ اسٹار ایشیا کپ کرکٹ ویمنز ایشیا کپ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستان بھارت ٹی 20ورلڈ کپ رائزنگ اسٹار ایشیا کپ کرکٹ ویمنز ایشیا کپ پاکستان اور بھارت کی میں پاکستان ایشیا کپ ورلڈ کپ

پڑھیں:

کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے

کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔ 

محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔ 

مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔

محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔

جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ 

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • پاکستان میں سریے کی قیمت آج 23 جولائی 2026، تازہ ریٹس جاری
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف