سندھ حکومت نے سانحۂ گل پلازہ میں 17 منٹ پر رسپانس دیا: جاوید ناگوری
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
جاوید ناگوری—تصویر بشکریہ سوشل میڈیا
پیپلز پارٹی کے رہنما جاوید ناگوری نے کہا ہے کہ اس شہر میں بلدیہ فیکٹری، ٹمبر مارکیٹ سمیت بہت سارے سانحات ہوئے۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جاوید ناگوری نے کہا کہ سندھ حکومت نے ہمیشہ فوری رسپانس دیا ہے، سانحۂ گل پلازہ میں بھی 17 منٹ پر رسپانس دیا گیا، وزیرِ اعلیٰ نے بھی یہی کہا کہ سانحۂ گل پلازہ کی شفاف تحقیقات ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ یہاں لوگ کہہ رہے ہیں کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کر دیا جائے، یہ وہی لوگ کہہ رہے ہیں جن کے پاس پہلے اس شہر کی ذمے داری تھی۔
جاوید ناگوری نے کہا کہ جو غلطیاں جس سے ہوئی ہیں اس کو سزا ملے گی، میں سمجھتا ہوں وہاں کی یونین کو بھی تفتیش میں شامل کیا جائے، جو گل پلازہ گیا ہو اس کو پتہ ہے وہاں 4 فٹ کی سیڑھیاں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے پہلے گل پلازہ اسی جگہ پر دوبارہ کھڑا کیا جائے، فائر بریگیڈ کے اور دفتر بننا چاہئیں، شہر کی آبادی کے لحاظ سے یہ کم ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔