پنجگور، سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 3 مبینہ دہشتگرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
آئی ایس پی آر کے مطابق پنجگور میں خفیہ اطلاع پر آپریشن کے دوران دہشتگردوں کا مقامی کمانڈر فاروق عرف سورو، عدیل اور وسیم ہلاک ہوگئے۔ اسلام ٹائمز۔ سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع پنجگور میں خفیہ اطلاع کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے 3 مبینہ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا کہ سکیورٹی فورسز نے "بھارتی پراکسی فتنۃ الہندوستان" کے دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر انٹیلیجینس کی بنیاد پر کارروائی کی۔ بیان میں کہا گیا کہ سکیورٹی فورسز نے کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا، جس کے بعد فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور اس کے نتیجے میں 3 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ آئی ایس پی آر نے بتایا کہ کارروائی میں دہشت گردوں کا مقامی کمانڈر فاروق عرف سورو، عدیل اور وسیم ہلاک ہوگئے۔
بیان میں کہا گیا کہ دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ بارود اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد کر لیا گیا اور ہلاک دہشت گرد علاقے میں دہشت گردی کی کئی کارروائیوں میں ملوث تھے۔ مزید بتایا گیا کہ علاقے میں مزید کسی دہشت گردی کی موجودگی کے خاتمے کے لیے کارروائی جاری ہے۔ آئی ایس پی آر نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے نیشنل ایکشن پلان پر وفاقی ایپکس کمیٹی کی جانب کی منظور کردہ عزم استحکام وژن کے تحت انسداد دہشت گردی کی مہم جاری ہے۔ آئی ایس پی آر نے بتایا کہ ملک سے بیرونی اسپانسرڈ اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بھرپور انداز میں مہم جاری رہے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سکیورٹی فورسز آئی ایس پی آر گیا کہ
پڑھیں:
خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان ریلویز نے خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔ریلوے حکام کے مطابق سابق ڈویژنل انجینئر(ڈی ای این)ملتان عابد رزاق کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ سابق اسسٹنٹ انجینئر (اے ای این)خانیوال راجا یوسف کو بھی سروس سے برخاست کر دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ خانیوال پل حادثے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ عوامی جانوں کے نقصان پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔وزیر ریلوے کی ہدایت پر حادثے کی جامع انکوائری شروع کی گئی تھی۔(جاری ہے)
انکوائری رپورٹ میں متعلقہ افسران کی غفلت اور ذمہ داری کا تعین کیا گیا جس کی روشنی میں محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
ریلوے حکام کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے اپنے زیرو ٹالرنس مقف پر قائم رہے اور حادثے کا کیس منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔ وزارت ریلوے کا کہنا ہے کہ احتساب کا عمل جاری رہے گا اور غفلت، لاپروائی یا نااہلی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسافروں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔