Daily Mumtaz:
2026-07-24@07:32:15 GMT

جنوبی افریقہ میں 60 ہزار سال پرانے زہریلے تیروں کی دریافت

اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT

جنوبی افریقہ میں 60 ہزار سال پرانے زہریلے تیروں کی دریافت

جنوبی افریقہ (ویب ڈیسک) دنیا کے قدیم ترین زہریلے تیروں کی شناخت ہو گئی ہے جو 60 ہزار سال پرانے ہیں۔

عالمی میڈیا کے مطابق یہ دریافت قدیم زمانے میں شکار کی تکنیکوں کی نشاندہی کرتی ہے۔ جنوبی افریقہ اور سویڈن کے سائنسدانوں کی ٹیم کے مطابق پتھر کے زمانے کے تیروں کی نوکوں پر جنوبی افریقی پودے ’’جفبول‘‘ کے زہر کے آثار ملے ہیں جو دنیا میں دریافت ہونے والا تیروں کا قدیم ترین معلوم زہر ہے۔

محققین نے کہا کہ یہ دریافت ظاہر کرتی ہے کہ 60 ہزار سال قبل جنوبی افریقہ کے باشندوں نے زہریلے مواد اور شکار میں ان کے استعمال کے بارے میں جدید معلومات حاصل کر لی تھیں۔ سائنسدانوں نے یہ دریافت کوازولو ناٹل میں امہلاتوزانا چٹانی پناہ گاہ سے ملنے والے 60 ہزار سال پرانے تیروں کی نوکوں پر کی۔ تحقیقاتی ٹیم نے ’’جفبول‘‘پودے کے زہر کی کیمیائی باقیات کی شناخت کی ہے، یہ ایک زہریلا پودا ہے جسے اس علاقے کے روایتی شکاری اب بھی استعمال کرتے ہیں۔

سٹاک ہوم یونیورسٹی کے پروفیسر اور قدیم اشیاء میں نامیاتی باقیات کے تجزیے کے ماہر سوین اساکسن نے کہا کہ یہ جنوبی افریقہ اور سویڈن کے محققین کے درمیان طویل مدتی اور قریبی تعاون کا ثمر ہے، دنیا کے قدیم ترین تیر کے زہر کی مل کر شناخت کرنا ایک پیچیدہ کام تھا جو تحقیق کو جاری رکھنے کے لیے بہت حوصلہ افزا ہے۔

جنوبی افریقہ کی جوہانسبرگ یونیورسٹی میں پیلیو بائیولوجی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی پروفیسر مارلیز لومبارڈ نے کہا کہ یہ انسانوں کی طرف سے تیروں کے زہر کے استعمال کا قدیم ترین براہ راست ثبوت ہے، دریافت شدہ شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ جنوبی افریقہ میں آباؤ اجداد نے تیر کمان پہلے کے خیال سے کہیں زیادہ پہلے ایجاد کر لیا تھا اور وہ شکار کی کارکردگی بڑھانے کے لیے فطرت کی کیمسٹری کے استعمال کو بھی سمجھتے تھے۔

جریدے ’’ سائنس ایڈوانسز‘‘ میں شائع ہونے والے کیمیائی تجزیے سے ان تیروں پر بوفانیڈرین اور ایپبیوفانیسین الکلائیڈز کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے جو دونوں ’’جفبول‘‘ پودے میں پائے جاتے ہیں۔ یہ پودا جسے زہریلا پیاز بھی کہا جاتا ہے، اپنی انتہائی زہریلی خصوصیات کی وجہ سے مقامی شکاریوں میں مشہور ہے۔ اس سے قبل سویڈش مجموعوں میں 250 سال پرانے تیروں کی نوکوں پر بھی اسی طرح کا مواد پایا گیا تھا جنہیں اٹھارویں صدی کے دوران ایک سیاح نے جمع کیا تھا۔

تحقیقاتی ٹیم کے مطابق تاریخی اور ماقبل تاریخ دونوں ادوار میں ایک ہی پودے کے زہر کا استعمال علم اور روایات کے طویل تسلسل کی نشاندہی کرتا ہے۔پروفیسر اساکسن نے کہا کہ ماقبل تاریخ اور تاریخی دور کے تیروں کی نوکوں پر ایک ہی زہر کے آثار ملنا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

مواد کی کیمیائی ساخت کا باریک بینی سے مطالعہ کر کے اور ان کی خصوصیات کے بارے میں نتائج اخذ کر کے ہم یہ تعین کرنے میں کامیاب ہوئے کہ یہ مخصوص مواد زمین کے اندر اتنے طویل عرصے تک رہنے کی کافی صلاحیت رکھتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: جنوبی افریقہ سال پرانے نے کہا کہ ہزار سال کے زہر

پڑھیں:

خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری

خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد صوے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا۔

نوٹیفکیشن میں بتایا کہ صوبے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا، نئے قانون کے تحت ہرویلج اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 40 ہزار ہوگی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبادی میں 10 فیصد تک کمی بیشی کی اجازت ہوگی۔

ترمیمی ایکٹ کے مطابق خصوصی حالات میں الیکشن کمیشن صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس شرط سے استثنیٰ دے سکے گا۔

متعلقہ مضامین

  • جوز بٹلر نے یونیورس باس کو بھی پیچھے چھوڑ دیا
  • میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی