جنوبی افریقہ میں 60 ہزار سال پرانے زہریلے تیروں کی دریافت
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
جنوبی افریقہ (ویب ڈیسک) دنیا کے قدیم ترین زہریلے تیروں کی شناخت ہو گئی ہے جو 60 ہزار سال پرانے ہیں۔
عالمی میڈیا کے مطابق یہ دریافت قدیم زمانے میں شکار کی تکنیکوں کی نشاندہی کرتی ہے۔ جنوبی افریقہ اور سویڈن کے سائنسدانوں کی ٹیم کے مطابق پتھر کے زمانے کے تیروں کی نوکوں پر جنوبی افریقی پودے ’’جفبول‘‘ کے زہر کے آثار ملے ہیں جو دنیا میں دریافت ہونے والا تیروں کا قدیم ترین معلوم زہر ہے۔
محققین نے کہا کہ یہ دریافت ظاہر کرتی ہے کہ 60 ہزار سال قبل جنوبی افریقہ کے باشندوں نے زہریلے مواد اور شکار میں ان کے استعمال کے بارے میں جدید معلومات حاصل کر لی تھیں۔ سائنسدانوں نے یہ دریافت کوازولو ناٹل میں امہلاتوزانا چٹانی پناہ گاہ سے ملنے والے 60 ہزار سال پرانے تیروں کی نوکوں پر کی۔ تحقیقاتی ٹیم نے ’’جفبول‘‘پودے کے زہر کی کیمیائی باقیات کی شناخت کی ہے، یہ ایک زہریلا پودا ہے جسے اس علاقے کے روایتی شکاری اب بھی استعمال کرتے ہیں۔
سٹاک ہوم یونیورسٹی کے پروفیسر اور قدیم اشیاء میں نامیاتی باقیات کے تجزیے کے ماہر سوین اساکسن نے کہا کہ یہ جنوبی افریقہ اور سویڈن کے محققین کے درمیان طویل مدتی اور قریبی تعاون کا ثمر ہے، دنیا کے قدیم ترین تیر کے زہر کی مل کر شناخت کرنا ایک پیچیدہ کام تھا جو تحقیق کو جاری رکھنے کے لیے بہت حوصلہ افزا ہے۔
جنوبی افریقہ کی جوہانسبرگ یونیورسٹی میں پیلیو بائیولوجی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی پروفیسر مارلیز لومبارڈ نے کہا کہ یہ انسانوں کی طرف سے تیروں کے زہر کے استعمال کا قدیم ترین براہ راست ثبوت ہے، دریافت شدہ شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ جنوبی افریقہ میں آباؤ اجداد نے تیر کمان پہلے کے خیال سے کہیں زیادہ پہلے ایجاد کر لیا تھا اور وہ شکار کی کارکردگی بڑھانے کے لیے فطرت کی کیمسٹری کے استعمال کو بھی سمجھتے تھے۔
جریدے ’’ سائنس ایڈوانسز‘‘ میں شائع ہونے والے کیمیائی تجزیے سے ان تیروں پر بوفانیڈرین اور ایپبیوفانیسین الکلائیڈز کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے جو دونوں ’’جفبول‘‘ پودے میں پائے جاتے ہیں۔ یہ پودا جسے زہریلا پیاز بھی کہا جاتا ہے، اپنی انتہائی زہریلی خصوصیات کی وجہ سے مقامی شکاریوں میں مشہور ہے۔ اس سے قبل سویڈش مجموعوں میں 250 سال پرانے تیروں کی نوکوں پر بھی اسی طرح کا مواد پایا گیا تھا جنہیں اٹھارویں صدی کے دوران ایک سیاح نے جمع کیا تھا۔
تحقیقاتی ٹیم کے مطابق تاریخی اور ماقبل تاریخ دونوں ادوار میں ایک ہی پودے کے زہر کا استعمال علم اور روایات کے طویل تسلسل کی نشاندہی کرتا ہے۔پروفیسر اساکسن نے کہا کہ ماقبل تاریخ اور تاریخی دور کے تیروں کی نوکوں پر ایک ہی زہر کے آثار ملنا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
مواد کی کیمیائی ساخت کا باریک بینی سے مطالعہ کر کے اور ان کی خصوصیات کے بارے میں نتائج اخذ کر کے ہم یہ تعین کرنے میں کامیاب ہوئے کہ یہ مخصوص مواد زمین کے اندر اتنے طویل عرصے تک رہنے کی کافی صلاحیت رکھتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: جنوبی افریقہ سال پرانے نے کہا کہ ہزار سال کے زہر
پڑھیں:
سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
عالمی و مقامی مارکیٹوں میں منگل کو سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
عالمی بلین مارکیٹ میں سونا 46 ڈالر کے اضافے سے 4540 ڈالر فی اونس کی سطح پر پہنچ گیا۔
بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کے نرخ میں اضافے کے باعث مقامی سطح پر بھی فی تولہ سونا 4600 روپے کے اضافے سے 4 لاکھ 76 ہزار 362 روپے پر جاپہنچا۔
مزید پڑھیںسونے کی قیمت میں بڑی کمی، چاندی کے نرخ بڑھ گئے
سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
اسی طرح دس گرام سونے کی قیمت بھی 3944 روپے کے اضافے سے 4 لاکھ 8 ہزار 403 روپے ہوگئی۔
دوسری جانب چاندی کی فی تولہ قیمت 94 روپے کے اضافے سے 8153 روپے ہوگئی۔