چیلنجنگ کنڈیشنز، بابراعظم کا ہونا ضروری ہے، رکن سلیکشن کمیٹی
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
لاہور(نیوزڈیسک) پی سی بی سلیکشن کمیٹی کےرکن عاقب جاوید نےکہاچیلنجنگ کنڈیشنز میں بابراعظم کا ہونا ضروری ہے ،ٹیم میں ایسا کھلاڑی ہونا چاہیےجوہرکنڈیشنزمیں کھیل سکے۔
پی سی بی سلیکشن کمیٹی کے رکن عاقب جاوید نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاہم نوےکی دہائی سےباہرنہیں آرہے ہیں،پچھلے کئی سال سے کرکٹ بہت بدل چکی ہے،بہترکمبینیشن کودیکھ کرٹیم بنائی جاتی ہے،سری لنکامیں میچ ہیں ان کو مدنظر رکھتےہوئےٹیم بنائی گئی،ٹی ٹونٹی،ون ڈےسب میں ایک جیسی چوائس نہیں ہوسکتی۔
قومی کرکٹ ٹیم کےکپتان سلمان علی آغا نےکہافتح کےلیے اچھی کرکٹ کھیلنا ہوگی، پچھلے تین ٹورنامنٹ میں ہماری پرفارمنس اچھی نہیں تھی، ورلڈکپ ہمیشہ چیلنجنگ ایونٹ ہوتا ہے،ریلکس نہیں ہو سکتے، ورلڈکپ کے لیے پرجوش اورتیار ہیں،سری لنکا کی کنڈیشنز میں ہائی اسکورنگ میچز نہیں ہوتے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔