ترکیہ اسرائیل کو تیل کی تجارت میں سہولت فراہم کر رہا ہے، رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
جہازوں کی نقل و حرکت سے باخبر ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق اسرائیل کو غزہ میں اس کے جرائم پر پابندیوں کے باوجود اپنی توانائی کی فراہمی کو برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شپ ٹریکنگ اینڈ انرجی مارکیٹ اینالیسس کمپنی کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ اسرائیل غزہ میں اپنے جرائم پر پابندیوں اور بین الاقوامی دباؤ کے باوجود انقرہ اور باکو کی بدولت اپنی توانائی کی فراہمی کو محفوظ بنانے میں کامیاب رہا ہے۔ آذربائیجان سے ترکیہ کی سیہان بندرگاہ کے ذریعے اسرائیلی تیل کی درآمد 2025 میں تین سالوں میں اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ جہازوں کی نقل و حرکت سے باخبر ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق اسرائیل کو غزہ میں اس کے جرائم پر پابندیوں کے باوجود اپنی توانائی کی فراہمی کو برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ اگرچہ ترکیہ نے کہا ہے کہ سیہان کے ذریعے آذربائیجانی تیل برآمد کنندگان نے اسرائیل کے ساتھ تجارت ختم کرنے کے انقرہ کے فیصلے کا احترام کیا ہے اور یہ کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے لیے سرکاری طور پر کوئی تیل لوڈ نہیں کیا جا رہا ہے۔
اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ اسرائیل کو آذربائیجانی خام تیل کی برآمدات 2025 میں 31 فیصد بڑھ کر 94,000 بیرل یومیہ ہو گئیں۔ یہ اعداد و شمار اسرائیل کے ان ممالک کے ساتھ تجارت جاری رکھنے کی تازہ ترین مثال ہیں جن کی حکومتوں نے غزہ میں حکومت کے اقدامات کی مذمت کی ہے۔ رائٹرز کے مطابق جنوبی افریقہ، جس نے اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت میں نسل کشی کا مقدمہ کھولا تھا، 2025 میں تل ابیب کو کوئلہ فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک تھا۔ کیپلر کے اعداد و شمار کے مطابق، آذربائیجانی خام تیل نے گزشتہ سال اسرائیل کی تیل کی درآمدات کا 46.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے اعداد و شمار اسرائیل کو کے مطابق تیل کی
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔