حسن نصراللہ کی شہادت، اسرائیل کو خفیہ آپریشن 9.5ارب روپے میں پڑا‘ اسرائیلی اخبار
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
کراچی (نیوز ڈیسک) اسرائیلی اخبار ہارٹز نے انکشاف کیا ہے کہ 27ستمبر 2024کو حزب اللہ کے سابق سربراہ حسن نصراللہ کو شہید کرنے والا اسرائیلی فوجی آپریشن مالی طور پر بھی ایک بڑا اور مہنگا اقدام تھا، جس پر مجموعی طور پر تقریباً 9ارب 44 کروڑ روپے(34 ملین ڈالر) خرچ ہوئے۔83 ٹن بم، چھ عمارتیں اور ایک ہدف،امدادی ٹیموں کو روکنے کیلئے اضافی بمباری، ہتھیاروں پر 1ارب89کروڑ روپے خرچ ہوئے،غزہ جنگ کی قیمت166کھرب 59 ارب روپے ، یمن پر ہر حملہ 3ارب88کروڑ روپے تک، جنگی اخراجات پر اختلاف ۔ یہ حساب اسرائیلی جنرل اسٹاف، وزارتِ خزانہ اور بینک آف اسرائیل سے حاصل کردہ شیکل میں موجود مالی معلومات کی بنیاد پر لگایا گیا۔رپورٹ کے مطابق، اس دن دوپہر کے وقت اسرائیلی جنگی طیارے حاتسریم ایئر بیس سے پرواز کر کے کم از کم 83 ٹن بموں سے لیس تھے، جنہیں بیروت کے جنوبی مضافات میں واقع چھ عمارتوں کے ایک کمپلیکس پر گرایا گیا، جہاں حسن نصراللہ موجود تھے۔آپریشن کی کامیابی یقینی بنانے کے لیے اسرائیلی طیاروں نے علاقے میں اضافی بمباری کر کے ایک طرح کا محاصرہ قائم کیا تاکہ امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ تک نہ پہنچ سکیں، 34ملین ڈالر میں سے تقریباً 1 ارب 89کروڑ روپے(6.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: حسن نصراللہ خرچ ہوئے
پڑھیں:
نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے لبنان میں فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کو اپنی موجودگی اور آپریشنز بڑھانے کی ہدایت جاری کر دی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ بیوفورٹ قلعے پر قبضہ ایک “ڈرامائی قدم” اور اسرائیلی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ، مصر اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر سرگرم ہے۔ اور سرحدوں سے باہر سیکیورٹی زونز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ اسرائیلی آبادی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ لبنان میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جائے۔ خصوصاً ان علاقوں میں جہاں ماضی میں حزب اللہ کا اثر و رسوخ رہا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک حزب اللہ کے 8 ہزار جنگجو مارے جا چکے ہیں۔
دوسری جانب رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک متعدد اسرائیلی ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہیں، جن میں حالیہ ڈرون حملے میں مارا گیا ایک فوجی بھی شامل ہے۔