تیراہ میں بے امنی اور دہشتگردوں کی موجودگی کی وجہ سے لوگ نقل مکانی کررہے ہیں، احسن اقبال
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
وفاقی وزیر ترقی و منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ وادی تیراہ میں بے امنی اور دہشتگردوں کی موجودگی کی وجہ سے لوگ نقل مکانی کررہے ہیں۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ وادی تیراہ میں کوئی بڑا فوجی آپریشن نہیں ہونے جا رہا، دہشتگردوں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز معمول کی بات ہے جو جاری رہیں گے۔
مزید پڑھیں: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی وادی تیراہ آپریشن کی مخالفت کیوں کر رہے ہیں؟
انہوں نے کہاکہ خیبرپختونخوا حکومت کو جواب دینا چاہیے کہ یہ لوگ دہشتگردوں کے ساتھ ہیں یا پاکستان کے عوام کے ساتھ، پی ٹی آئی پاکستان کے اداروں کے خلاف منظم مہم چلا رہی ہے۔
انہوں نے کہاکہ خیبرپختونخوا میں قیام امن صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے، ہم دہشتگردی کے خاتمے کے لیے صوبائی حکومت سے ہرممکن تعاون کے لیے تیار ہیں۔
احسن اقبال نے کہاکہ ہم نے 2018 میں ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ کردیا تھا، لیکن بعد میں پی ٹی آئی نے ایک بار پھر دہشتگردوں کو یہاں لا کر بسایا، جس کے نتائج آج سامنے آرہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ وفاقی حکومت نے ایسی کوئی اپیل نہیں کی کہ لوگ وادی تیراہ سے نکل جائیں، لوگ بے امنی اور دہشتگردوں کی موجودگی کی وجہ سے نقل مکانی کررہے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ یہ لوگ مجھے دہشتگردوں کے حمایتی نظر آتے ہیں۔
قبل ازیں وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ وادی تیراہ سے لوگوں کی نقل مکانی کو فوج سے جوڑنا سراسر غلط ہے، حکومت نے اس کا سختی سے نوٹس لیا ہے۔
مزید پڑھیں: وادی تیراہ سے لوگوں کی نقل مکانی کو فوج سے جوڑنا سراسر غلط ہے، وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ
کوٹ مومن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ موسم کی شدت کے باعث ہر سال لوگ وادی تیراہ سے انخلا کرتے ہیں۔
عطااللہ تارڑ نے کہاکہ وادی تیراہ سے نقل مکانی کرنے والے لوگوں کے لیے خیبرپختونخوا حکومت نے خود 4 ارب روپے کی رقم مختص کی ہے، اب اس معاملے کو کیسے فوج سے جوڑا جا سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews احسن اقبال دہشتگردی فوجی آپریشن وادی تیراہ وزیر منصوبہ بندی وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: احسن اقبال دہشتگردی فوجی ا پریشن وادی تیراہ وی نیوز انہوں نے کہاکہ کہ وادی تیراہ وادی تیراہ سے احسن اقبال نقل مکانی سے لوگ کے لیے
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔