ایران کے حالیہ فسادات میں 10 غیر ملکی انٹیلی جنس سروسز ملوث تھیں، سپاہ پاسداران
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
بیان کے مطابق، ایک وسیع تر امریکی صیہونی منصوبے کا ایک حصہ جو ایران کے سیکیورٹی اداروں کی تیاری اور عوام کی بیداری کی وجہ سے ناکام ہو گیا، اس میں 10 بیرونی انٹیلی جنس سروسز پر مشتمل ایک "کمانڈ روم" کی تشکیل شامل تھی۔ اس کمانڈ روم کو 12 روزہ جنگ کے فوری بعد ایران کے اندر دہشت گردانہ کارروائیاں کرنے کا کام سونپا گیا تھا۔ اسلام ٹائمز۔ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی (IRGC) کے انٹیلی جنس ادارے نے کہا ہے کہ ایران میں حالیہ پرتشدد اور دہشت گردانہ فسادات کی منصوبہ بندی 10بیرونی انٹیلی جنس سروسز کے ایک مشترکہ کمانڈ اسٹرکچر نے کی تھی، جو جون 2025ء کی 12 روزہ جنگ میں اپنی اسٹریٹجک شکست کے بعد امریکی صیہونی سازش کا حصہ تھے۔ ایک بیان میں سپاہ پاسداران کے انٹیلی جنس ادارے نے وضاحت کی کہ یہ دہشت گردانہ واقعات جون 2025ء کی 12 روزہ جنگ کے تسلسل میں ڈیزائن کیے گئے تھے اور دشمن کی تزویراتی ناکامیوں کے زیرِ اثر جلد بازی میں انجام دیے گئے۔ بیان کے مطابق، ایک وسیع تر امریکی صیہونی منصوبے کا ایک حصہ جو ایران کے سیکیورٹی اداروں کی تیاری اور عوام کی بیداری کی وجہ سے ناکام ہو گیا، اس میں 10 بیرونی انٹیلی جنس سروسز پر مشتمل ایک "کمانڈ روم" کی تشکیل شامل تھی۔ اس کمانڈ روم کو 12 روزہ جنگ کے فوری بعد ایران کے اندر دہشت گردانہ کارروائیاں کرنے کا کام سونپا گیا تھا۔ سپاہ پاسداران کی انٹیلی جنس آرگنائزیشن نے کہا کہ اس کمانڈ روم سے حاصل شدہ دستاویزات اور انٹیلی جنس معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ دشمن کا آپریشن تین مقاصد پر مبنی تھا۔
پہلا اندرونی بدامنی کو ہوا دینا، دوسرا مسلح گرہوں کی عسکری تحریکوں کو فعال کرنا اور تیسرا مقصد ان تمام اقدامات کے ذریعے ایران میں ایک وجودی خطرے کی صورتحال ییدا کرنا۔ بیان میں کہا گیا کہ سپاہ پاسداران کے انٹیلی جنس ادارے نے ممکنہ خطرات اور بدامنی کی حد، گہرائی اور شدت کو روکنے اور اسے کنٹرول کرنے کے لیے جوابی اقدامات اور انٹیلی جنس آپریشنز کا ایک سلسلہ شروع کیا۔ بیان میں نوٹ کیا گیا کہ اندرونی بدامنی اور گروہی عسکریت پسندی کے ستونوں کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشنل منصوبے نافذ کیے گئے، جس کے نتیجے میں کئی اہم کامیابیاں حاصل ہوئیں، سیکیورٹی مخالف نیٹ ورکس سے وابستہ سینکڑوں افراد کی گرفتاری عمل مین آئی، سینکڑوں غیر قانونی ہتھیاروں کو ضبط کیا گیا، غیر ملکی انٹیلی جنس سروسز کے ساتھ تعاون کرنے والے نیٹ ورکس کے درجنوں ارکان کی شناخت ہو گئی۔ بیان میں حالیہ بدامنی کو اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف دشمن کی ہائبرڈ وارفیئر کا ایک کمزور اور نئے سرے سے ڈیزائن کردہ ورژن قرار دیا گیا، جس کا مقصد ایران کے قومی اتحاد، علاقائی سالمیت اور شناخت کو نقصان پہنچانا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انٹیلی جنس سروسز سپاہ پاسداران ایران کے کا ایک
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔