اے این پی کو دھاندلی سے ہرایا گیا، ٹی ٹی پی اور پی ٹی آئی کو گھر بھیجنا ہوگا، ایمل ولی خان
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے سربراہ ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ ہے گزشتہ انتخابات میں اے این پی کو دھاندلی سے ہرایا گیا، خیبرپختونخوا سے پی ٹی آئی اور ٹی ٹی پی کو گھر بھیجنا ہوگا۔
چارسدہ میں باچا خان اور عبدالولی خان کی برسی کے موقع پر خطاب میں اے این پی کے صدر ایمل ولی خان نے کہا کہ بدقسمتی سے ملک میں ہر چیز ہائبرڈ ہو گئی ہے، جس میں چچا آصف زرداری اور ان کی پارٹی بھی شامل ہیں، نواز شریف، ان کی پارٹی بھی ہائبرڈ ہوگئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لوٹوں کی باتیں وہی کرتے ہیں جو خود لوٹوں کی توہین ہے، ایمل ولی خان
انہوں نے کہا کہ ہمیں صوبے میں دھاندلی سے ہرایا گیا، ٹی ٹی پی اور پی ٹی آئی کو گھر بھیجنا ہوگا۔ انہوں نے دہشتگردوں کے حامیوں کو سزا دینے اور دہشتگردوں کو لانے والوں کو قوم کا مجرم قرار دینے کا مطالبہ کیا۔
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے زیرِ اہتمام فخرِ افغان باچا خان کی ????????ویں اور قائدِ جمہوریت خان عبدالولی خان کی ????????ویں برسی کے موقع پر کراچی میں ایک عظیم الشان جلسہ عام کا انعقاد۔ مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان کا خطاب
???? آج پختونخوا کا سب سے بڑا مسئلہ تیراہ آپریشن ہے، مگر پورا ملک… pic.
— Awami National Party (@ANPMarkaz) January 25, 2026
ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ 8 فروری کے انتخابات میں انہیں دھاندلی کے ذریعے ہرایا گیا، اس لیے ٹی ٹی پی اور پی ٹی آئی کو گھر بھیجنا ضروری ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کے ساتھ ساتھ سہولت کاروں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔
کراچی میں باچا خان کی برسی کے جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ جو لوگ سمجھتے تھے کہ اے این پی ختم ہو گئی ہے، وہ دیکھ لیں کہ باچا خان اور ولی خان کو سیاست میں کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان ہائی کورٹ نے سینیٹر ایمل ولی خان کے انتخاب کو درست قرار دے دیا
انہوں نے کہا کہ آج کراچی کے پختونوں نے ثابت کیا ہے کہ وہ اے این پی کے ساتھ ہیں اور یہ کہنا درست نہیں کہ پختون قوم طالبان یا پی ٹی آئی کے ساتھ ہے۔
اے این پی سربراہ نے کہا کہ تیراہ کے لوگ بے یارو مددگار اپنے گھروں کو خالی کر رہے ہیں، اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وفاقی حکومت کے لیے خیبر پختونخوا کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کی تذلیل پر کوئی بات نہیں کر رہا۔
انہوں نے مزید کہا کہ تیراہ کے لوگوں کو ان کے مستقبل کی ذمہ داری دینا لازمی ہے اور دہشت گردوں کی سہولت کاری کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
یہ بھی پڑھیں: وفاق کے فیصلے کے برعکس کے پی حکومت نے ایمل ولی کو سیکیورٹی فراہم کردی
ایمل ولی خان نے کہا کہ وہ پورے پاکستان میں امن کا مطالبہ کرتے ہیں اور لاکھوں پختون کراچی، لاہور اور بلوچستان میں رہتے ہیں، ان کے حقوق کا دفاع کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پختون قوم کے لیے ایک پُرامن پاکستان ضروری ہے، کیونکہ دہشت گرد قوم اور ریاست کے دشمن ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news ایمل ولی خان اے این پی پی ٹی آئی ٹی ٹی پی خیبرپختونخوا
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایمل ولی خان اے این پی پی ٹی ا ئی ٹی ٹی پی خیبرپختونخوا انہوں نے کہا کہ کو گھر بھیجنا ایمل ولی خان ہرایا گیا اے این پی باچا خان ٹی ٹی پی خان کی
پڑھیں:
بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث معاشی بحران نے جنم لیا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے، گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں۔
اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کامیاب ہوں گی۔
مزید پڑھیں: کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، نواز شریف کا گلگت میں خطاب
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ ان کی جماعت ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی حقیقی نمائندہ ہے۔ ایسی ترقی اور معاشی پالیسی کا کیا فائدہ جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید مشکلات کا شکار ہو جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا واحد ایسا ادارہ ہے جو براہ راست مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے اور اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بدقسمتی اس ملک کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ایسے ہیں کہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے امیر دوستوں کی سبسڈی کیسے ختم کریں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ کاروباری طبقہ کتنا ٹیکس دے رہا ہے، وہ سیدھا اس پر پہنچتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرو، مگر ہم یہ… pic.twitter.com/ioZikOPLZU
— WE News (@WENewsPk) June 2, 2026
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حکمران عناصر اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا کردار نمایاں رہا۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا لیکن اس خطے کو موجودہ شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلتستان کی سرزمین سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا تھا۔
انہوں نے کہاکہ اگر 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات گلگت بلتستان کو بھی منتقل کر دیے جائیں تو خطے کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ حق حاکمیت کے بعد عوام کو حق ملکیت بھی ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ گلگت بلتستان اور نہ ہی پاکستان حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کیے گئے اور یہی عوامی خدمت پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔
ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ عام آدمی، مزدور اور محروم طبقات کے حقوق کی سیاست کرتی آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو بینظیر کارڈ کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک نے قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک پاکستان ہے اور اس صلاحیت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے پاکستان کے دفاع کی روایت جڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں غیر ملکی ممالک کو پاکستان میں اڈے حاصل تھے، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان اڈوں کو بند کروا دیا۔
انہوں نے سی پیک کے تحت تھرکول منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کی گئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت غریب نوجوانوں کو روزگار فراہم کرکے معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔
مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو
چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا صوبہ پانی میں ڈوب گیا ہو، تاہم حکومت 20 لاکھ متاثرہ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے اور اتنے ہی خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر سے پہلے متاثرین کو گھر دیے جائیں۔ اس منصوبے کے نتیجے میں قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔
انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو تیر کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی یہاں بھی سندھ طرز کے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی گلگت بلتستان الیکشن وی نیوز