ایران میں ہونے والی گڑبڑ،ذمے دار کون؟
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
ہمارے ملک کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور جب آبادی بڑھتی ہے تو وسائل میں کمی واقع ہونا شروع ہوجاتی ہے ۔ پاکستانی ہینگر میپ بتاتا ہے کہ پاکستان کے 35سے 40 فیصد لوگ رات کو بھوک سوتے ہیں ۔ 1850ء میں دنیا کی آبادی ایک ارب سے زیادہ تھی اور آج دنیا کی آبادی 8ارب سے بھی زیادہ بڑھ چکی ہے ۔
دنیا کا 33فیصد ایریا ریگستان پر مشتمل ہے ۔ اور ان جگہوں پر ہی لوگ زیادہ بھوک میں مبتلا ہیں ۔ اس کا ایک ہی حل ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ رقبہ زیر کاشت لائیں اور اس کے ساتھ ہمیں اپنے پانی کا صحیح استعمال کرنا ہوگا کیونکہ پانی کے حوالے سے بھی ہم انتہائی قلت کا شکار ہیں نہ صرف آبپاشی کے معاملے میں بلکہ عنقریب پینے کے پانی کا قحط بھی پڑنے والا ہے ۔ سونے پہ سہاگہ کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو بھی متنازعہ بنا دیا ہے ۔
امریکا کی کولمبیا یونیورسٹی کے معروف پروفیسر جیفری سیکس نے ایران میں حالیہ فسادات کا ذمے دار امریکا اور اسرائیل کو قرار دیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران میں جو صورت حال پیدا ہورہی ہے وہ کسی داخلی ناکامی کا نتیجہ نہیں بلکہ بیرونی مداخلت کا شاخسانہ ہے ۔ پروفیسر جیفری نے کہا کہ ایران میں یہ غیر معمولی پر تشدد اور سفاک کھیل جاری ہے ۔ جب کہ امریکی مین اسٹریم میڈیا اس حقیقت کو نظر انداز کر رہا ہے ۔ امریکی پروفیسر کے مطابق مغربی میڈیا یا تاثر دیتا ہے کہ ایرانی حکومت نے معیشت پر اپنا کنٹرول کھودیا ہے ۔ لیکن یہ نہیں بتایا جاتا ہے کہ دراصل ایرانی معیشت کو شدید نقصان امریکی پابندیوں نے پہنچایا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہمیشہ کی طرح امریکی عوام کو بتایا جاتا ہے کہ ایرانی حکومت اپنے عوام پر ظلم کر رہی ہے جب کہ اصل حقائق چھپائے جا رہے ہیں ۔ پروفیسر جیفری کے مطابق ایران میں عوامی مشکلات کی بنیادی وجہ بیرونی دباؤ اور معاشی پابندیاں ہیں امریکی پروفیسر کا کہنا تھا کہ امریکا اور اسرائیل کا اصل ہدف ایرانی عوام کی زندگی کو بدترین بنانا ہے تاکہ ملک میں رجیم چینج کی راہ ہموار کی جا سکے ۔ امریکی پروفیسر کا کہنا ہے کہ خریدا ہوا اور جانبدار مین اسٹریم امریکی میڈیا یہ نہیں بتاتا کہ ایرانی معیشت کو تباہ کرنے والا ہی امریکا ہے ہمیشہ کی طرح امریکی عوام سے جھوٹ بولا جارہا ہے کہ ایرانی حکومت اپنے عوام پر ظلم کر رہی ہے۔
کلمہ حق اسی کو کہتے ہیں جس کی توفیق امریکی سامراجی گڑھ میں پروفیسر جیفری کو ہوئی۔
ایران کے خلاف پروپیگنڈے کا بھانڈا الجزیرہ کی سوشل میڈیا انویسٹی گیشن ٹیم نے بیچ چوراہے میں ایسا پھوڑا کہ اس نے امریکی اسرائیلی اور ان کے دنیا بھر میں حمایتیوں کے منہ سے نقاب اتار دیا۔ فری دی پر شین پیپل بیش ٹیگ کے عنوان کی بیشمار پوسٹوں میں سے صرف چار ہزار کا جائزہ لیا گیا تو اوریجنل صرف ایک سوستر پائے گئے باقی سب فیک تھے ۔
ایرانی عوامی تحریک کے بارے میں نامعلوم اکاؤنٹ سے ہی اکثر پیغامات نہ صرف جنریٹ ہوتے رہے بلکہ فلسطینیوں کے نسل کشی کے ایک مرکزی کردار اسرائیلی وزیر نے فارسی میں ٹویٹ کیا کہ آزادی کی جدوجہد میں ہم ایرانی عوام کے شانہ بشانہ ہیں ۔ رضا شاہ پہلوی کی حمایت کے پیچھے بھی اسرائیل تھا۔ لیکن پہلوی کو قبولیت نہ ملنے پر یہ ڈیجیٹل مہم بھی ختم کرنا پڑی ۔ آخر میں الجزیرہ کی ڈیجٹیل انوسٹی گیشن ٹیم نے مجموعی طور پر یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہ اطلاعاتی آپریشن ایران سے باہر ترتیب دیا گیا اوراس کے بنیادی محرکین اسرائیلی اور ان کے ہمدرد اکاؤنٹس ہیں ۔ بہرحال ایرانی عوام کے خلاف یہ سازشیں سن پچاس کے آغاز سے ڈاکٹر محمد مصدق کے دور میں ہی شروع ہو گئی تھیں یہاں تک کہ چند سال کے اندر برطانوی ایم آئی سکس اور امریکن سی آئی اے نے کرائے کے ہجوم کے ذریعے ان کی حکومت کا خاتمہ کردیا۔
پتہ نہیں ہماری عقلوں پر ہمیشہ کی طرح پتھر کیوں پڑ جاتے ہیں ۔ ہمیں یادنہیں پڑتا چاہے پاکستان میں نظام مصطفی کی تحریک ہو یا افغان طالبان پر منشیاتی سرمایہ کاری ہو سوویت یونین کے خاتمے کے لیے ۔یا عراق میں ماس ڈسٹرکشن ہتھیاروں کے خاتمے کے نام پر لاکھوں انسانوں کا قتل عام ۔ داعش ، القاعدہ طالبان جیسے مذہبی شدت پسند گروہ اسرائیل سے لڑنے کے بجائے شام عراق سے لے کر پاکستان تک سامراجی ایجنڈے کے تحت کلمہ گو مسلمانوں کا قتل عام کر رہے ہیں ۔امریکا، یورپ، برطانیہ ، فرانس ، جرمنی سمیت ستر ملکوں کے ذریعے داعش کا قیام عمل میں لایا گیا تاکہ داعش عراق اور شام میں ایک سنی مسلم بڑے حصے پر قبضہ کرکے گریٹر اسرائیل کی تکمیل میں مدد گار بن سکے۔ کابل پر ایک گولی چلائے بغیر افغان طالبان کو قبضہ دلوانا بھی اسی طویل سامراجی ایجنڈے کا حصہ ہے ۔ اور ہمارا مذہبی شدت پسند طبقہ خوشی سے سرشار اس کو اسلام کی نشاۃ ثانیہ سے تعبیر کررہا ہے ۔ ایک طرف امریکی سامراج سائنس اور ٹیکنالوجی کی معراج پر جس نے مسلم دنیا تو ایک طرف یورپ کو بھی اپنا غلام بنا لیا ہے ۔ ہم کب ہوش میں آئینگے ۔
پرائی سرزمینوں اور قدرتی وسائل کے لیے کروڑوں انسانوں کا قتل عام امریکی سامراج کی صدیوں پرانی عادت ہے ۔
ٹرمپ کا زوال بھی دور کی بات نہیں ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پروفیسر جیفری ایرانی عوام ہے کہ ایران ایران میں کہ ایرانی
پڑھیں:
امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لندن (آئی پی ایس )امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کے لیے برطانوی ائیربیس کے استعمال پر ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی دی ہے۔برطانوی میڈیا کے مطابق نئے وزیراعظم اینڈی برنہم کے عہدہ سنبھالنیکے بعد امریکی فوج نے گلوسیسٹرشائر میں واقع رائل ائیر فورس کے آر اے ایف فیئرفورڈ فضائی اڈے سے ایران کے خلاف B-1 اسٹریٹجک بمبار طیاروں سے بمباری کی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق اس حملے میں امریکی طیاروں نے ایران عراق سرحدی علاقے شلمچہ بارڈرکراسنگ کو نشانہ بنایا جس میں 2 افراد شہید اور 11 زخمی ہوئے۔ ایران نے اس کے جواب میں آنکھ کے بدلے آنکھ کی بنیاد پر جوابی کارروائیوں کی دھمکی دی۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نیکہا کہ ہماری دفاعی پالیسی واضح ہے، آنکھ کے بدلے آنکھ۔ جو لوگ کسی بھی قسم کی مدد کے ذریعے ایران کیخلاف جارحیت میں شریک ہوں گے، انہیں بھی جائز ہدف سمجھا جائیگا۔اب ایرانی پاسداران انقلاب نے امریکی طیاروں کے برطانوی فضائی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو خبردار کیا ہے۔
پاسداران انقلاب کا کہنا ہیکہ حالیہ کارروائیوں میں امریکی افواج نے ابتدا میں بحر ہند میں موجود بحری جہازوں سے کروز میزائل داغے اور جب ان کے ذخائر کم ہوگئے تو برطانیہ کے آر اے ایف فیئرفورڈ فضائی اڈے سے اڑنے والے B-1 بمبار طیاروں کا استعمال کیا۔پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہیکہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت میں استعمال ہونے والا ہر فوجی اڈہ ایک جائز فوجی ہدف سمجھا جائے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرجدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا اگلی خبرآزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم