Jasarat News:
2026-06-02@23:55:06 GMT

شہد کی مکھیوں کا کاروبار

اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کشمیر کی وادیوں میں گونجتی ہوئی شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ نے ایک نوجوان لڑکی کو نہ صرف ایک کامیاب کاروباری شخصیت بنایا بلکہ خواتین کی خود مختاری اور دیہی ترقی کی ایک زندہ مثال بھی بنا دیا ہے۔ یہ کہانی ہے ثانیہ زہرہ کی، جو آج ’بی کوئین آف کشمیر‘ کے نام سے جانی جاتی ہے۔ ثانیہ زہرہ کی عمر محض 20 سال ہے اور انہوں نے کم عمر میں ہی اپنے عزم، حوصلے اور وژن کے ذریعے اس بات کا ثبوت پیش کیا ہے کہ خواب اگر سچے ہوں اور ارادہ مضبوط ہو تو عمر کی کمی، ماحول کی رکاوٹیں اور معاشرتی تنگ نظری کوئی معنی نہیں رکھتی۔ان کے والد پہلے سے شہد کی مکھیوں کی پرورش اور شہد کے کاروبار سے وابستہ تھے، اسی لیے ثانیہ نے بچپن سے ہی شہد کی مکھیوں کو قریب سے دیکھا، سمجھا اور دھیرے دھیرے ان سے مانوس ہوتی چلی گئیں۔ شروع میں انہیں مکھیوں سے ڈر بھی لگتا تھا، ڈنک کا خوف بھی تھا، لیکن آہستہ آہستہ یہی خوف شوق اور پھر جذبۂ خدمت میں بدل گیا۔ یہاں تک کہ وہ ان چھوٹی چھوٹی مکھیوں کو اپنا ساتھی سمجھنے لگی۔ انہیں ’بی کوئین آف کشمیر‘ یعنی کشمیر کی شہد کی ملکہ کے لقب سے پکارا گیا۔ وہ اپنی وادی میں پہلی نمایاں نوجوان خاتون شہد پرورش کار کے طور پر سامنے آئیں، جس نے اس روایتی طور پر مردوں سے منسوب پیشے میں خواتین کی راہ ہموار کی۔

ویب ڈیسک گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: شہد کی مکھیوں

پڑھیں:

مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی

مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔

دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔

سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی