Jasarat News:
2026-07-24@01:09:59 GMT

میرپورخاص، 22جوڑوں کی اجتماعی شادی کی تقریب کا انعقاد

اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

میرپورخاص(جسارت نیوز)فلاحی جذبے کی شاندار مثال 22 جوڑوں کی اجتماعی شادی کی تقریب، ہر جوڑے کو الگ الگ جہیز بھی دیا گیا ، تقریب میں رشتہ داروں عزیز و اقارب کی بھی شرکت تفصیلات کے مطابق میرپورخاص میں اللہ کے نیک بندوں کے تعاون سے گاؤں عاشق الدین ہالیپوٹو پھلاڈیوں کے قریب 22 جوڑوں کی اجتماعی شادی کی بابرکت اور پروقار تقریب منعقد کی گئی اس فلاحی اقدام کے ذریعے 22 مستحق خاندانوں میں خوشیاں بانٹی گئیں اور ان کی ازدواجی زندگی کے ایک نئے سفر کا آغاز آسان بنایا گیا۔اس اجتماعی شادی کی تقریب میں مخیر حضرات، سماجی شخصیات اور علاقہ مکینوں نے بھرپور شرکت اور تعاون کیا منتظمین کا کہنا تھا کہ یہ تقریب صرف شادی نہیں بلکہ مستحق خاندانوں کی عزتِ نفس کو بحال کرنے اور معاشرے میں باہمی ہمدردی کو فروغ دینے کی ایک عملی کوشش ہے منتظمین نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس نیک خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور تمام نومسلم جوڑوں کی ازدواجی زندگی کو خوشحال، پْرسکون اور محبتوں سے بھرپور بنائے۔تقریب کے موقع پر خصوصی طور پر ڈاکٹر احمد سعید، وڈیرا عبدالسلام ہالیپوٹو، مظفر علی جعفری اور منصور علی جعفری کی خدمات کو سراہا گیا جن کے مالی اور اخلاقی تعاون سے یہ فلاحی کام ممکن ہو سکا شرکاء نے ان شخصیات کے کردار کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے لوگ معاشرے میں امید کی کرن ہیں شرکاء اور مقامی افراد کا کہنا تھا کہ اجتماعی شادیاں معاشرے میں مستحق افراد کے لیے بڑی سہولت ثابت ہوتی ہیں اخراجات میں کمی لاتی ہیں اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیتی ہیں آخر میں مقامی لوگوں نے منتظمین اور معاونین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس اقدام کو قابلِ تقلید قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی ایسے فلاحی پروگرام منعقد ہوتے رہیں گے۔

جسارت نیوز گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اجتماعی شادی کی

پڑھیں:

کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج

کراچی:

شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔

اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔ 

23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔ 

مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔ 

مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔ 

واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔ 

واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ 

گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی