data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260126-01-22
کراچی (اسٹاف رپورٹر) امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفرخان نے گزشتہ روز آتشزدگی کا شکار گل پلازہ میں ایک ہی گھر کے شہید ہونے والے 6افراد میں سے چار کی شناخت کے بعد دہلی کالونی عید گاہ گراؤنڈ میں نماز جنازہ میں شرکت کی۔ نماز جنازہ میں امیر ضلع جنوبی سفیان دلاور، سیکرٹری اطلاعات زاہد عسکری ،سیکرٹری پبلک ایڈ کمیٹی نجیب ایوبی و دیگر ہمراہ موجود تھے ۔بعد ازاں منعم ظفر خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت گزشتہ 18 برس سے اقتدار میں ہے، بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور تمام متعلقہ ادارے انہی کے ماتحت ہیں۔ ان کے پاس وسائل کی کمی نہیں، اصل مسئلہ نااہلی، بدانتظامی اور کرپشن ہے۔ اگر حکمرانوں میں عوام کو تحفظ دینے کی نیت اور ارادہ موجود نہیں ہوگا تو ایسے سانحات بار بار ہوتے رہیں گے۔جماعت اسلامی کراچی کے شہریوں کو جینے کا حق دلانے کے لیے یکم فروری کو شارع فیصل پر عظیم الشان ’’جینے دو کراچی کو‘‘مارچ کرے گی۔ کراچی کے عوام بڑی تعداد میں نکلیں گے اور ظالم حکمرانوں سے اپنے بنیادی حق کے حصول کا مطالبہ کریں گے۔جماعت اسلامی کراچی کے عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور ان کے دکھ میں برابر کی شریک ہے۔ جماعت اسلامی متاثرہ خاندانوں کے زخموں پر مرہم رکھ رہی ہے اور ہر سطح پر ان کے حقوق کے لیے آواز بلند کرے گی۔منعم ظفر خان نے کہا کہ ہم آج چار شہداء کے جنازے اٹھا رہے ہیں، لیکن 9دن گزرنے کے باوجود کئی خاندان آج بھی اپنے پیاروں کی لاشوں یا باقیات کے منتظر ہیں۔ یہ صورتحال کراچی کے ساتھ بدترین ظلم ہے۔ نہ لوگوں کی جان محفوظ ہے اور نہ مال۔انہوں نے کہا کہ گل پلازہ سانحہ نے سندھ حکومت اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی کو بے نقاب کر دیا ہے۔ آج سوال یہ ہے کہ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کہاں تھی؟ فائر الارم سسٹم کیوں ناکام ہوا؟ اور حفاظتی ایس او پیز پر عمل کیوں نہیں کرایا گیا؟امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ گزشتہ 16سال میں شہر کراچی میں آتشزدگی کے 2ہزار سے زائد واقعات پیش آ چکے ہیں لیکن اس کے باوجود حکمرانوں نے کوئی سنجیدہ اقدامات نہیں کیے۔ نہ بلڈنگ قوانین پر عمل درآمد کرایا گیا، نہ تجارتی مراکز میں ایمرجنسی ایگزٹ راستے بنائے گئے، جس کا نتیجہ آئے روز قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔آج بھی متاثرہ خاندان ایدھی سینٹر اور مختلف سرکاری دفاتر کے چکر کاٹنے پر مجبور ہیں۔ کسی سے کہا جا رہا ہے کہ سرٹیفکیٹ لائیں، کسی سے دیگر دستاویزات مانگی جا رہی ہیں، جبکہ غم زدہ خاندانوں کے لیے یہ سب کچھ ناقابل برداشت ہے۔ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ شہداء کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور شہر کراچی کو آئندہ ایسے دلخراش سانحات سے محفوظ رکھے اوراہلِ کراچی کی جان و مال کی حفاظت فرمائے۔

امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان گزشتہ روز آتشزدگی کا شکار گل پلازہ میں ایک ہی گھر کے شہید ہونے والے 6افراد میں 4کی شناخت کے بعد دہلی کالونی عیدگاہ گرائونڈ میں نماز جنازہ میں شرکت جبکہ دوسری جانب میڈیا سے گفتگو کررہے ہیں

اسٹاف رپورٹر سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کراچی کراچی کے

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف