data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260126-01-18
گوادر( نمائندہ جسارت )امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ بلوچستان کے مسائل کا حل صوبہ کے نوجوان کو تعلیم، روزگار کی فراہمی میں ہے، ایران سے سرحدی تجارت پر پابندی ختم کی جائے، لاپتہ افراد کا مسئلہ حل کیا جائے، آپریشن سے صوبہ کے مسائل ختم ہوں گے نہ ہی امن قائم ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گوادر میں الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کے تحت بنو قابل تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔ ہزاروں بچوں اور بچیوں نے بنو قابل کے تحت مفت آئی ٹی کورسز میں داخلے کے لیے امتحان دیا۔ امیر جماعت اسلامی بلوچستان مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔ امیر جماعت اسلامی نے الخدمت فاؤنڈیشن کو پروگرام کے انعقاد پر مبارکبا دی اور کہا کہ صوبہ کے نوجوان بچوں اور بچیوں کو زی کنیکٹ پروگرام کے تحت نہ صرف مفت آئی ٹی کورسز کرائے جائیں گے بلکہ فنی تربیت اور بلاسود قرض کی فراہمی کا سلسلہ بھی شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بنوقابل کو وسعت دے کر زی کنیکٹ کی شکل دی گئی ہے، نوجوانوں کی اخلاقی تربیت اور کھیلوں کا فروغ بھی زی کنیکٹ کا حصہ ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ بلوچستان میں سکول جانے کے قابل پچاس فیصد بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ بے روزگاری ہوگی، بلوچ عوام کو حقوق نہیں ملیں گے تو عوام کا ریاست کے خلاف غم وغصہ فطری ہے۔ مسائل بندوق سے حل نہیں ہوتے، عوام کو ان کے حقوق دیے جائیں۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ سرحدی تجارت پر پابندی کی وجہ سے گوادر کے عوام کو بے شمار مسائل کا سامنا ہے، صوبہ میں سرحدی تجارت کو آئینی تحفظ دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا بلوچستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق صوبہ کے عوام کا ہے۔ مسلط اشرافیہ وسائل پر قابض ہے، پورے کا پورا نظام ہی فرسودہ ہے، گلے سڑے نظام سے چھٹکارا حاصل کرنا ہوگا۔ بلوچستان کا نوجوان جماعت اسلامی سے مل کر نظام بدلنے کی جدوجہد کرے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ زی کنیکٹ پروگرام ایک انقلابی اقدام ہے، جماعت اسلامی دستیاب وسائل سے اپنے حصہ کی شمع روشن کرر ہی ہے، ہم پورے ملک کے نوجوانوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔ بلوچستان کے مسائل حل ہوں گے تو ملک آگے بڑھے گا۔ صوبہ میں ڈیڑھ دولاکھ کے قریب ملازمتیں ہیں جبکہ چالیس لاکھ نوجوان بے روزگار ہے، معاشی بدحالی ہوگی، لوگوں کے پیاروں کا اٹھا لیا جائے گا تو عوام سے کیسے توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ قانون کی پاسداری کریں، آئین کی پاسداری کی سب سے اہم ذمہ داری ریاست کو چلانے والے طبقہ کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے بلوچستان کے عوام کے حقوق کے لیے لانگ مارچ کیا، ہم جدوجہد جاری رکھیں گے، بلوچستان کے عوام، خصوصی طور پر نوجوان نظام بدلنے کی جدوجہد کا حصہ بنے۔

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن ،گوادر میں بنو قابل تقریب سے خطاب کررہے ہیں

نمائندہ جسارت سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن بلوچستان کے نے کہا کہ زی کنیکٹ کے مسائل کے عوام صوبہ کے

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار