جماعت اسلامی گھوٹکی کے تحت نئی ممبر شپ مہم کا آغاز کردیاگیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سکھر (نمائندہ جسارت) جماعت اسلامی ضلع گھوٹکی کے تحت نئی ممبرشپ مہم کا آغاز کردیا گیا جس کا سلوگن ” گھوٹکی لا وارث نہیں” ھے، اس سلسلے میں میرپور ماتھیلو سٹی میں بھٹائی چوک پر صدر جماعت اسلامی یوتھ ضلع گھوٹکی علی حسن منصوری کی زیر سرپرستی ممبر شپ کیمپ لگایا گیا، جماعت اسلامی ضلع گھوٹکی کے رھنما ، سندھی اردو ادب کے کالم نگار اور رٹائرڈ ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر ڈپارٹمنٹ سردار احمد تبسم گڈانی نے مہم اور جدوجھد کی حمایت کی بھرپور حمایت کرتے کہا ھے کہ ضلع گھوٹکی صوبہ سندھ کا منفرد بے مثال ضلع ہے جو بیک وقت صنعت سے مالا مال ہے اور زراعت میں بھی شاندار ضلع ہے مگر یہاں کے عوام محرومیوں کا شکار ھیں، ضلع گھوٹکی میں ان گنت قدرتی وسائل موجود ہیں جس کے تحت ملٹی نیشنل کمپنیاں تک موجود ہیں، پورے ایشیا کی کھاد کی سب سے بڑی فیکٹری بھی ضلع گھوٹکی میں موجود ھے، کراچی کے بعد سب سے زیادہ ٹیکس دینا والا ضلع گھوٹکی ہے ۔مگر ضلع گھوٹکی کی عوام کو روز گار نہیں ہے غریب عوام کے لیے معیاری تعلیم نہیں ہے ضلع میں پانچ ہیڈ کواٹر تحصیل ہسپتال ہیں مگر سب کے سب ریفر سینٹر بن چکے ہیں ضلع گھوٹکی کے عوام کو امن حاصل نہیں ھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی ضلع گھوٹکی گھوٹکی کے
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔