کراچی:

سانحہ گل پلازہ میں لا پتہ ہونے والے نیوکراچی گودھرا کے رہائشی حافظ عارف کے لواحقین کا کہنا تھا کہ وہ9دن سے مسلسل گل پلازہ کے چکر لگا رہے ہیں ان کا کہنا تھا کہ بیٹے کی کوئی نشانی مل جائے ہم چلے جائیں گے،لاش نہیں تو باقیات دے دیں ہمیں تسلی مل جائے گی۔

تفصیلات کے مطابق سانحہ گل پلازہ میں لا پتہ ہونے والے نیوکراچی گودھرا کے رہائشی حافظ عارف کے والد نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ گل پلازہ میں آگ لگنے کے واقعے کے بعد جب بیٹے سے آخری مرتبہ بات چیت ہوئی تو بیٹے نے بتایا کہ ابو امی میری جان بچا لو مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا۔

ہم نے بیٹے سے کہا کلمہ پڑھو ہم آرہے ہیں ہم پہنچے تو گل پلازہ ایک کونے میں آگ لگی تھی دیکھتے ہی دیکھتے آگ ایک جانب سے دوسری جانب تک پھیل گئی میرے قدم بوجھل ہوگئے۔

مزید پڑھیں

سانحہ گل پلازہ بوسیدہ نظام اور کرپشن کی داستان ہے، سینیٹر ایمل ولی خان

سانحہ گل پلازہ؛ سرچ آپریشن تقریباً مکمل، عمارت سروے کے بعد سیل کردی جائے گی، ڈی سی ساؤتھ

سانحہ گل پلازہ: انسانی باقیات کا ڈی این اے کہاں ہورہا ہے؟ ورثا کو اعتماد میں لیا جائے، فاروق ستار

حافظ عارف کے چچا نے بتایا کہ عارف کے دو بچے ہیں، سوا سال کی بیٹی اور ایک ماہ کا بیٹا ہے، ہم یہاں کیا بریانی کھانے آئے ہیں، ہمارے ووٹوں سے مرتضی وہاب مئیر بنے لیکن میئر کراچی بائیس تئیس گھنٹے کے بعد یہاں آئے، نہیں کرو اس طرح، کسی کی جانوں کے ساتھ ایسا نہ کرو۔

گل پلازہ میں پانچ چھ منٹ میں پوری آگ لگی چاروں طرف سے گل پلازہ کو آگ لگ جانا المیہ ہے، ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ اداروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سانحہ گل پلازہ گل پلازہ میں عارف کے

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • بدقسمت خواجہ سرا۔۔۔؟
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر