امریکی ریاست منیاپولس میں وفاقی اہلکاروں کی جانب سے دوسری ہلاکت خیز فائرنگ کے واقعے نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت گیر امیگریشن پالیسی کو ایک بار پھر امریکی قومی سیاست کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔

اس پیش رفت نے ری پبلکن جماعت کو انتظامیہ کی جارحانہ حکمتِ عملی کا دفاع کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جبکہ ڈیموکریٹس اسے انتخابی سال میں ایک نہایت اہم اور فوری مسئلہ قرار دے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: منیاپولس میں وفاقی امیگریشن ایجنٹس کے ہاتھوں ایک اور امریکی شہری ہلاک، ملک بھر میں شدید احتجاج

اس ماہ منیاپولس  میں وفاقی اہلکاروں کے ہاتھوں 2 امریکی شہری ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں ہفتے کے روز آئی سی یو میں خدمات انجام دینے والے نرس الیکس پریٹی بھی شامل ہیں۔

یہ ہلاکتیں ان مظاہرین کے ساتھ جھڑپوں کے دوران ہوئیں جو ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امیگریشن قوانین کے سخت نفاذ کے خلاف سراپا احتجاج تھے، اس سے قبل 7 جنوری کو رینی گُڈ بھی ایسی ہی ایک جھڑپ کے دوران جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

 https://Twitter.

com/japantimes/status/2015634297114259738

امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹس کے قائد چک شومر نے اعلان کیا ہے کہ ان کی جماعت اس قانون سازی کے خلاف ووٹ دے گی جس میں محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے لیے فنڈز شامل ہوں، کیونکہ یہی محکمہ امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ یعنی آئس کی نگرانی کرتا ہے۔

 کانگریس کو 30 جنوری تک حکومتی اخراجات کی منظوری دینا ہے، بصورت دیگر جزوی حکومتی شٹ ڈاؤن کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ شومر نے اتوار کو جاری بیان میں ری پبلکنز سے مطالبہ کیا کہ وہ عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ اور کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن میں اصلاحات کے لیے ڈیموکریٹس کے ساتھ تعاون کریں۔

مزید پڑھیں: ’ٹرمپ کی دوسری ٹرم میں امریکا کے حالات مزید خراب‘، امریکی ووٹرز کی اکثریت شدید بدظن

دلچسپ امر یہ ہے کہ وہ اعتدال پسند ڈیموکریٹ رہنما بھی اس مطالبے میں شامل ہو گئے ہیں جو ماضی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں پر تنقید سے گریز کرتے رہے ہیں۔

نیواڈا سے سینیٹر کیتھرین کورتیز ماسٹو نے کہا کہ یہ کارروائیاں امریکیوں کو محفوظ بنانے کے بجائے امریکی شہریوں اور قانون کی پاسداری کرنے والے تارکینِ وطن کو نشانہ بنا رہی ہیں۔

 https://Twitter.com/AFP/status/2015537289183568100

ٹرمپ انتظامیہ نے منیاپولس  میں اب تک کی سب سے بڑی امیگریشن کارروائی شروع کی ہے، جس کے نتیجے میں کئی ہفتوں سے شہر میں مظاہرے اور وفاقی اہلکاروں کے ساتھ پرتشدد جھڑپیں جاری ہیں۔

اس کے باوجود صدر ٹرمپ نے کسی قسم کی پسپائی کا عندیہ نہیں دیا، انہوں نے اتوار کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ یہ کارروائی ان کی 2024 کی صدارتی فتح اور کانگریس پر ری پبلکن کنٹرول کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے، جبکہ 2 امریکی شہریوں کی ہلاکت کا الزام انہوں نے اپنے سیاسی مخالفین پر عائد کیا۔

مزید پڑھیں: ICE کے خلاف احتجاج شدت اختیار کر گیا، ٹرمپ نے فوج تعینات کرنے کی دھمکی دیدی

ہفتے کے روز ایک ایسے امریکی شہری کی ہلاکت جس کے پاس قانونی طور پر اسلحہ موجود تھا، ری پبلکن پارٹی کے لیے ایک حساس سیاسی مسئلہ بن گئی ہے، کیونکہ یہ جماعت خود کو اسلحہ رکھنے کے حق کی سب سے بڑی حامی تصور کی جاتی ہے۔

الیکس پریٹی نہ صرف سابق فوجی تھے بلکہ کمیونٹی میں بے حد مقبول سمجھے جاتے تھے، ان کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں تھا اور وہ قانونی طور پر اسلحہ رکھنے کے مجاز تھے۔

مزید پڑھیں: آئی سی ای ایجنٹ کے ہاتھوں خاتون کا قتل، یہ ادارہ کیا ہے، اسے کتنے اختیارات حاصل ہیں؟

اسلحہ رکھنے کے حق کی حامی تنظیموں نے انتظامیہ کی جانب سے پریٹی کو احتجاج میں اسلحہ لے جانے پر موردِ الزام ٹھہرانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے، منی سوٹا گن اونرز کاکس نے واضح کیا کہ ریاست کے ہر پُرامن شہری کو احتجاج کے دوران بھی اسلحہ رکھنے کا آئینی حق حاصل ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے حالیہ سروے کے مطابق، ڈیموکریٹ ووٹرز بڑی حد تک ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیوں کے مخالف ہیں، جبکہ خود ٹرمپ کے 39 فیصد ری پبلکن حامی بھی ان کارروائیوں پر تحفظات رکھتے ہیں۔

مزید پڑھیں: آئی سی ای  اہلکار کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والی ’رینی نیکول گڈ‘ کون تھیں؟

ان کا کہنا ہے کہ گرفتاریوں کی تعداد کم ہو جائے تب بھی انسانی جانوں کو نقصان سے بچانا ترجیح ہونی چاہیے، آزاد ووٹرز میں سے اکثریت نے بھی اسی مؤقف کی حمایت کی ہے۔

منیاپولس  کے رہائشی اور مظاہرین میں شامل 50 سالہ ایرک گرے کا کہنا ہے کہ جو کچھ ان کے شہر میں ہو رہا ہے وہ پورے ملک میں کہیں بھی ہو سکتا ہے، اور ان کے بقول منی سوٹا اب ایک آزمائشی میدان بنتا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں:امیگریشن کے قوانین میں سختی کے بعد امریکی شہریوں کے غیر ملکی بیویاں گرفتار

وفاقی اہلکاروں اور شہریوں کے درمیان جھڑپوں کی وائرل ویڈیوز نے بعض ری پبلکن قانون سازوں کو بھی بے چین کر دیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب وہ مہنگائی اور عوامی غصے کا سامنا کر رہے ہیں۔

لوئیزیانا کے سینیٹر بل کیسڈی نے اس واقعے کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ اور محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی ساکھ داؤ پر لگ گئی ہے، جبکہ الاسکا کی سینیٹر لیزا مرکوسکی کے مطابق یہ ہلاکتیں امیگریشن نافذ کرنے والے اداروں کی تربیت پر سنگین سوالات اٹھاتی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسلحہ الاسکا الیکس پریٹی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ ڈٰیموکریٹ ری پبلیکن کانگریس کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن منیاپولس ہوم لینڈ سیکیورٹی

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: الاسکا الیکس پریٹی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ ڈ یموکریٹ ری پبلیکن کانگریس کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن منیاپولس ہوم لینڈ سیکیورٹی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ وفاقی اہلکاروں امریکی شہری اسلحہ رکھنے مزید پڑھیں ری پبلکن کے لیے کیا ہے

پڑھیں:

حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا

وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔

متعلقہ مضامین

  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل