بنگلا دیش پارلیمانی انتخابات میں ایک بڑی سیاسی تبدیلی
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ڈھاکا (صباح نیوز) بنگلا دیش میں 12 فروری 2026 کو ہونے والے قومی پارلیمانی انتخابات میں ایک بڑی سیاسی تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ مجموعی طور پر 80 اقلیتی امیدوار بھی انتخاب لڑ رہے ہیں، جن میں 10 خواتین اور 12 آزاد امیدوار شامل ہیں۔ بنگلا دیش جماعت اسلامی نے اپنی تاریخ میں پہلی بار کسی ہندو امیدوار کو ٹکٹ دیا ہے۔ کرشنا نندی (جو کہ ڈوموریا اپیزل میں پارٹی کی ہندو کمیٹی کے صدر ہیں) کو کھلنا-1 سے نامزد کیا گیا ہے۔ یاد رہے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کی جماعت عوامی لیگ کی رجسٹریشن معطل ہونے اور سرگرمیوں پر پابندی کے باعث وہ اس بار الیکشن میں حصہ نہیں لے رہیں۔ بنگلا دیش کی 22 سیاسی جماعتوں نے اقلیتی امیدوار کھڑے کیے ہیں۔ بنگلا دیش کمیونسٹ پارٹی (CPB) 17 امیدواروں کے ساتھ سرفہرست ہے جبکہ بی این پی (BNP) نے 6 امیدوار نامزد کیے ہیں۔گووندہ چندر پرامانک کا مقابلہ بنگلا دیش نیشنل ہندو مہاجوٹ کے سیکرٹری جنرل گووندہ چندر پرامانک گوپال گنج-3 سے آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن لڑ رہے ہیں۔ یہ وہی حلقہ ہے جو روایتی طور پر شیخ حسینہ کا گڑھ رہا ہے۔ ابتدا میں 88 اقلیتی امیدواروں نے کاغذات جمع کرائے تھے، جن میں سے 5 مسترد ہوئے اور 3 نے نام واپس لیلیے۔ اس وقت ملک میں کل 60 سیاسی جماعتیں رجسٹرڈ ہیں۔ یہ انتخابات 2024 کے طلبہ انقلاب کے بعد ملک کے سیاسی ڈھانچے میں آنے والی تبدیلیوں کا ایک بڑا امتحان ثابت ہوں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بنگلا دیش
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔