Jasarat News:
2026-06-03@05:35:59 GMT

بنگلا دیش پارلیمانی انتخابات میں ایک بڑی سیاسی تبدیلی

اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260126-08-8
ڈھاکا (صباح نیوز) بنگلا دیش میں 12 فروری 2026 کو ہونے والے قومی پارلیمانی انتخابات میں ایک بڑی سیاسی تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ مجموعی طور پر 80 اقلیتی امیدوار بھی انتخاب لڑ رہے ہیں، جن میں 10 خواتین اور 12 آزاد امیدوار شامل ہیں۔ بنگلا دیش جماعت اسلامی نے اپنی تاریخ میں پہلی بار کسی ہندو امیدوار کو ٹکٹ دیا ہے۔ کرشنا نندی (جو کہ ڈوموریا اپیزل میں پارٹی کی ہندو کمیٹی کے صدر ہیں) کو کھلنا-1 سے نامزد کیا گیا ہے۔ یاد رہے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کی جماعت عوامی لیگ کی رجسٹریشن معطل ہونے اور سرگرمیوں پر پابندی کے باعث وہ اس بار الیکشن میں حصہ نہیں لے رہیں۔ بنگلا دیش کی 22 سیاسی جماعتوں نے اقلیتی امیدوار کھڑے کیے ہیں۔ بنگلا دیش کمیونسٹ پارٹی (CPB) 17 امیدواروں کے ساتھ سرفہرست ہے جبکہ بی این پی (BNP) نے 6 امیدوار نامزد کیے ہیں۔گووندہ چندر پرامانک کا مقابلہ بنگلا دیش نیشنل ہندو مہاجوٹ کے سیکرٹری جنرل گووندہ چندر پرامانک گوپال گنج-3 سے آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن لڑ رہے ہیں۔ یہ وہی حلقہ ہے جو روایتی طور پر شیخ حسینہ کا گڑھ رہا ہے۔ ابتدا میں 88 اقلیتی امیدواروں نے کاغذات جمع کرائے تھے، جن میں سے 5 مسترد ہوئے اور 3 نے نام واپس لیلیے۔ اس وقت ملک میں کل 60 سیاسی جماعتیں رجسٹرڈ ہیں۔ یہ انتخابات 2024 کے طلبہ انقلاب کے بعد ملک کے سیاسی ڈھانچے میں آنے والی تبدیلیوں کا ایک بڑا امتحان ثابت ہوں گے۔

خبر ایجنسی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بنگلا دیش

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت بلتستان انتخابات: پی ٹی آئی پر مقامی سیاسی عمل کو متاثر کرنے اور افراتفری پھیلانے کا الزام
  • حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا ٹاس جیت کر بولنگ کرنے کا فیصلہ