سانحہ گل پلازہ:پی پی اور ایم کیوایم کی الزام تراشی سے لواحقین کے غم میں اضافہ ہورہا ہے،ایمل ولی
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے لیے اچھے اور برے کی نہیں بلکہ مکمل خاتمے کی پالیسی بنائیں۔اگر ریاست نے طے کر لیا یے کہ دہشت گرد خوارج اور فتنہ الہندوستان ہیں تو ماضی میں طالبان اور دہشت گردوں کو پاکستان میں لاکر آباد کرنے پر سابقہ جرنیلوں سمیت عمران خان اور عارف علوی کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ان کو پھانسی دی جائے۔ آپریشن کے بجائے وفاق۔کے پی حکومتیں اور اسٹیک ہولڈرز خیبر پختونخوا میں قیام امن کے لیے مربوط پالیسی بنائیں۔پختونوں کا ٹی ٹی پی اور پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔پختون امن پسند ہیں۔عوامی مسائل کا حل خود مختار بلدیاتی نظام اور 18 ویں آئینی ترمیم کی مضبوطی سے ممکن ہے۔غزہ پیس بورڈ میں پاکستان کی شمولیت سے پارلیمان کو اعتماد میں لیں۔سانحہ گل پلازہ بوسیدہ نظام اور کرپشن کی داستان ہے۔پیپلز پارٹی اور ایم کیوایم الزام تراشی کے بجائے شہدا کے زخموں پر مرہم رکھیں۔کراچی کی ترقی کے لیے اے این پی سب کے ساتھ مل کام کرنے کو تیار یے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کوعوامی نیشنل پارٹی سندھ کے زیر اہتمام فخر افغان خان عبدالغفار خان (باچا خان) کی 38ویں اور رہبر تحریک خان عبدالولی خان کی 20ویں برسی کی مناسبت سے شاہراہ قائدین پر جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ایمل ولی خان نے کہا کہ اے این پی کے کارکنان کو سرخ سلام کرتا ہوں۔پختون قوم ایک پارٹی نہیں تحریک ہے۔باچا خان اور ولی خان کے فلسفہ اور امن کے مشن کو جاری رکھیں گے۔کراچی کے پختونوں نے ثابت کردیا یے کہ وہ اے این پی کے ساتھ ہیں۔پختون قوم نے واضح کردیا یے کہ وہ ٹی ٹی پی۔پی ٹی آئی اور انتہا پسندی کے ساتھ نہیں ہیں۔ ایمل ولی خان نے کہا کہ ہم امن کے باسی ہیں۔پختونوں کا دہشت گردی اور انتہا پسندی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ایمل ولی خان نے کہا کہ تیراہ میں آج پختون لاوارث ہیں۔تیراہ آپریشن سے پختون پریشان ہیں۔خیبر پختونخوا کے معاملے پر وفاق سو رہا ہے۔کے پی کے حکومت مسخرہ پن کرر ہی ہے۔کیا وفاق کے پی کے کو پاکستان کا حصہ نہیں سمجھتی یے ؟۔میاں نواز شریف صاحب۔ زرداری صاحب۔ حکومت۔ پارلیمان سیاست دان سب ہائبرڈ نظام کا حصہ ہیں۔پختون کا جرگہ یہ مطالبہ ہے کہ تیراہ میں آپریشن کے نام پر پختونوں کا انخلا بند کیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایمل ولی خان نے کہا کے ساتھ
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔