Jasarat News:
2026-06-02@22:38:33 GMT

ہم فلسطینی بچے بڑے نہیں ہوتے

اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

یہ جملہ کسی ادبی نشست میں کہا گیا کوئی علامتی فقرہ نہیں، نہ کسی فلسفی کی تحریر کا اقتباس ہے۔ یہ ایک فلسطینی بچے کی زبان سے نکلا ہوا وہ سچ ہے جس نے پوری دنیا کے جھوٹے ضمیروں کو ننگا کر دیا ہے۔ چند سیکنڈ کی ایک ویڈیو میں جب اس بچے سے سوال کیا گیا کہ ’’تم بڑے ہو کر کیا بننا چاہتے ہو؟‘‘ تو اس نے ڈاکٹر، انجینئر، استاد یا کسی روشن مستقبل کا خواب بیان نہیں کیا، بلکہ ایک ایسی حقیقت کہہ دی جس نے انسانیت کے تمام دعوؤں کو زمین بوس کر دیا: ’’ہم فلسطینی بچے بڑے نہیں ہوتے، ہم کسی بھی لمحے گولی کا نشانہ بن سکتے ہیں‘‘۔

یہ جواب دراصل ایک بچے کا نہیں، ایک پوری نسل کا نوحہ ہے۔ یہ اس قوم کے بچوں کی اجتماعی آواز ہے جن کے لیے بچپن تحفظ کا نام نہیں بلکہ خطرے کی ایک طویل زنجیر ہے۔ دنیا کے بچے مستقبل کے خواب دیکھتے ہیں، فلسطین کے بچے اگلے لمحے کی زندگی کی دعا مانگتے ہیں۔ دنیا کے بچے کھلونوں سے کھیلتے ہیں، فلسطین کے بچے ملبے میں دبے اپنے بہن بھائیوں کو تلاش کرتے ہیں۔ دنیا کے بچے کہانیوں میں شہزادے بنتے ہیں، فلسطینی بچے خبروں میں شہید بن جاتے ہیں۔ غزہ کے بچے اس دنیا کے شاید واحد بچے ہیں جو پیدا ہوتے ہی موت سے آنکھ مچولی کھیلنا سیکھ لیتے ہیں۔ ان کی ماؤں کی لوریوں میں نیند نہیں، خدشات ہوتے ہیں۔ ان کے باپوں کی دعاؤں میں ترقی نہیں، بقا کی التجا ہوتی ہے۔ ان کے اسکول محفوظ عمارتیں نہیں بلکہ ممکنہ قبرستان ہوتے ہیں۔ ان کے بستوں میں کتابوں کے ساتھ یہ سوال بھی ہوتا ہے کہ ’’کیا آج واپس آ سکیں گے؟‘‘

یہ بچے بہت جلد سمجھ جاتے ہیں کہ یہاں بڑے ہونے کا مطلب کیا ہے۔ یہاں بڑا ہونا دراصل مرنے کے قریب ہونا ہے۔ یہاں جوانی خوابوں کی تعبیر نہیں بلکہ جنازوں کی قطار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک فلسطینی بچہ کہتا ہے: ہم بڑے نہیں ہوتے کیونکہ بڑے ہونے سے پہلے ہی ہمیں مٹا دیا جاتا ہے۔ فلسطینی بچوں کی شہادت کوئی حادثہ نہیں، یہ ایک منظم ظلم کا نتیجہ ہے۔ یہ وہ قتل ہیں جو ’’دفاع‘‘ کے نام پر کیے جاتے ہیں، وہ بم ہیں جو ’’سیکورٹی‘‘ کے نام پر گرائے جاتے ہیں، وہ لاشیں ہیں جنہیں ’’کولیٹرل ڈیمیج‘‘ کہہ کر فائلوں میں دفن کر دیا جاتا ہے۔ دنیا نے ظلم کے لیے نئی زبان ایجاد کر لی ہے تاکہ قاتل کو شرمندگی نہ ہو اور مقتول کی چیخ دب جائے۔

اقوامِ متحدہ ہر سال بچوں کے حقوق کا دن مناتی ہے، قراردادیں منظور ہوتی ہیں، رپورٹیں شائع کی جاتی ہیں، مگر جب غزہ کے بچے مارے جاتے ہیں تو یہی ادارے محض ’’تشویش‘‘ کا اظہار کر کے خاموش ہو جاتے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اعداد و شمار جمع کرتی ہیں، مگر قاتل کا ہاتھ روکنے کی ہمت نہیں کرتیں۔ عالمی میڈیا چند دن تصاویر دکھاتا ہے، پھر اگلی خبر پر چلا جاتا ہے۔ یوں فلسطینی بچوں کی لاشیں خبروں کی بھیڑ میں گم ہو جاتی ہیں۔ اصل سانحہ یہ نہیں کہ فلسطینی بچے مارے جا رہے ہیں، اصل سانحہ یہ ہے کہ ان کا قتل معمول بنا دیا گیا ہے۔ دنیا نے اس ظلم کو قبول کر لیا ہے۔ اسکرینوں پر بچوں کی لاشیں اب چونکاتی نہیں، دل نہیں ہلاتیں، جیسے یہ سب ’’نارمل‘‘ ہو چکا ہو۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسانیت دم توڑتی ہے۔ اسلامی تاریخ میں بچوں کا قتل فرعونیت کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ فرعون نے بنی اسرائیل کے بچوں کو قتل کروایا تاکہ اقتدار محفوظ رہے۔ آج وہی فرعونیت جدید ٹیکنالوجی، جدید ہتھیاروں اور جدید بیانیے کے ساتھ فلسطین میں دہرائی جا رہی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ آج فرعون کے ساتھ دنیا کی بڑی طاقتیں بھی کھڑی ہیں، اور موسیٰؑ کی ماں کی طرح بچے کو دریا میں چھپانے کی کوئی جگہ باقی نہیں رہی کیونکہ پورا فلسطین ہی آگ میں گھرا ہوا ہے۔ غزہ کے بچے صرف بموں سے نہیں مرتے، وہ خوف، بھوک، محاصرے اور عالمی بے حسی سے بھی مارے جاتے ہیں۔ ان کی زندگی ایک مسلسل انتظار ہے۔ اگلے دھماکے کا، اگلی لاش کا، اگلی تباہی کا۔ یہ بچے کھیل کے دوران بھی آسمان کی طرف دیکھتے ہیں، کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ موت زمین سے نہیں، فضا سے اُترتی ہے۔

فلسطینی ماں جب بچے کو جنم دیتی ہے تو وہ صرف زندگی کو خوش آمدید نہیں کہتی، بلکہ شہادت کے امکان کو بھی قبول کرتی ہے۔ اس کی دعاؤں میں لمبی عمر کی خواہش کم اور ثابت قدمی کی التجا زیادہ ہوتی ہے۔ وہ اپنے بچے کو یہ نہیں سکھاتی کہ بڑے ہو کر کیا بننا ہے، بلکہ یہ سکھاتی ہے کہ اگر وقت آ جائے تو کیسے ڈٹ جانا ہے۔ یہ وہ خطہ ہے جہاں بچوں کی شہادت پر تعزیت کے بجائے جواز پیش کیے جاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ فلاں عمارت کے نیچے ’’ممکنہ خطرہ‘‘ تھا، اس لیے پورا خاندان مٹا دیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ غزہ میں بچوں کے لیے محفوظ جگہ آخر کہاں ہے؟ فلسطینی بچوں کی قبریں خاموش نہیں ہوتیں، وہ سوال کرتی ہیں۔ وہ عالمی طاقتوں سے پوچھتی ہیں کہ تمہاری جمہوریت کہاں گئی؟ تمہارے انسانی حقوق کہاں دفن ہو گئے؟ وہ مسلم دنیا سے بھی سوال کرتی ہیں کہ تمہاری تعداد کا فائدہ کیا، اگر تم ایک بچے کے جنازے پر بھی متحد نہیں ہو سکتے؟ یہ المیہ صرف فلسطین کا نہیں، یہ پوری امتِ مسلمہ کے زوال کا آئینہ ہے۔ وہ امت جس کے نبیؐ نے فرمایا کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں، آج اس جسم کا ایک حصہ کٹ رہا ہے اور باقی حصے محض تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے اپنے بچوں کی حفاظت کھو دی، انہوں نے اپنا مستقبل بھی کھو دیا۔ فلسطین میں مستقبل کو دانستہ نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اسکولوں پر بم، اسپتالوں پر حملے، پناہ گاہوں کی تباہی یہ سب محض عسکری کارروائیاں نہیں، یہ نسل کشی کی واضح علامات ہیں۔

’’ہم فلسطینی بچے بڑے نہیں ہوتے‘‘ یہ جملہ ہماری تہذیب، ہماری سیاست، ہماری اخلاقیات اور ہماری خاموشی کا محاسبہ ہے۔ یہ ہم سے سوال کرتا ہے کہ کیا ہم واقعی انسان ہیں؟ یا صرف مفادات کے اسیر؟ اگر آج بھی دنیا نے فلسطینی بچوں کے خون کو نظرانداز کیا، تو آنے والی نسلیں ہم سے پوچھیں گی کہ جب بچوں کو مارا جا رہا تھا تو تم کہاں تھے؟ تم نے کیا کہا؟ تم نے کیا کیا؟

یہ کالم محض آنسوؤں کے لیے نہیں، احتساب کے لیے ہے۔ فلسطینی بچے بڑے نہیں ہوتے، مگر وہ تاریخ سے بڑے ہو جاتے ہیں۔ وہ اپنے خون سے وہ سوال لکھ جاتے ہیں جس کا جواب کبھی مٹایا نہیں جا سکتا۔ کیونکہ یاد رکھنا چاہیے: فلسطینی بچے بڑے نہیں ہوتے، لیکن وہ ہماری انسانیت کا فیصلہ ضرور کر جاتے ہیں۔ جب ہم فلسطین کی دہلیز پر موجود اس المیے پر غور کرتے ہیں تو ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ یہ صرف ایک علاقائی تنازع نہیں ہے بلکہ انسانیت کے ضمیر کا امتحان ہے۔ ہر وہ شخص جو اس ظلم کے خلاف آواز نہیں اٹھاتا، وہ درحقیقت ظالم کا ساتھی بن جاتا ہے۔ عالمی عدالت انصاف، بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے چارٹر صرف کاغذوں کی زینت بن کر رہ گئے ہیں جب انہیں فلسطینی بچوں پر لاگو ہونا ہوتا ہے۔ ہمارے زمانے کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم معلومات کے دور میں جی رہے ہیں مگر حساسیت کے بحران کا شکار ہیں۔ ہماری آنکھوں کے سامنے بچوں کے اعضاء بکھر رہے ہیں اور ہم اپنی روزمرہ مصروفیات میں ملوث ہیں۔ ہمارے سوشل میڈیا پر فلسطین کے حوالے سے پوسٹیں اور اسٹوریز ضرور وائرل ہوتی ہیں مگر کیا یہ سب ہماری ذمے داری سے فرار کا راستہ نہیں بن گیا ہے؟ کیا ہم محض ایک ’’لائک‘‘ یا ’’شیئر‘‘ کر کے اپنے ضمیر کو مطمئن کر لیتے ہیں

اور سمجھتے ہیں کہ ہم نے اپنا فرض ادا کر دیا؟
فلسطینی بچوں کا مسئلہ محض ایک انسانی مسئلہ ہی نہیں، یہ ہماری مشترکہ انسانیت کا مسئلہ ہے۔ ان بچوں کی معصوم آنکھوں میں ہماری اپنی اولاد کا عکس نظر آتا ہے۔ ان کے خوف میں ہماری اپنی بے بسی کی کہانی پنہاں ہے۔ اگر آج ہم ان کے لیے کھڑے نہیں ہوتے تو کل ہماری اپنی نسلیں ہم سے یہی سوال کریں گی کہ تم نے خاموشی کیوں اختیار کی؟ اس تناظر میں ہمیں اپنے رویوں کا ازسرنو جائزہ لینا ہوگا۔ کیا ہماری دعائیں صرف زبانی جمع خرچ ہیں یا ہم ان کے لیے عملی اقدامات بھی کر رہے ہیں؟ کیا ہم نے اپنی طاقت کے مطابق ان کی مدد کے لیے کوئی راستہ تلاش کیا ہے؟ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ تاریخ ہمیشہ ان لوگوں کو خراج تحسین پیش کرتی ہے جو مظلوم کی آواز بنے، نہ کہ خاموش تماشائی بن کر رہ گئے۔ فلسطینی بچے ہمارے زمانے کے سب سے بڑے انسانی المیے کا نشان ہیں۔ ان کی زندگیاں ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ ظلم کبھی دور دراز کا واقعہ نہیں ہوتا، وہ ہماری دہلیز پر دستک دے سکتا ہے۔ آج اگر ہم فلسطین میں ہونے والے مظالم کے خلاف نہیں اٹھیں گے تو کل یہی ظلم کسی اور شکل میں ہمارے سامنے آ سکتا ہے۔

آئیے، ہم عہد کریں کہ فلسطینی بچوں کی آواز بنیں گے۔ ہم صرف آنسو بہانے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ہر ممکن طریقے سے ان کے حقوق کے لیے آواز اٹھائیں گے۔ ہم اپنی طاقت کے مطابق ان کی مدد کریں گے اور دنیا کے ہر فورم پر ان کی بات پہنچائیں گے۔ کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر ہم اپنی انسانیت کو بچا سکتے ہیں۔ یہ کالم ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ فلسطینی بچے بڑے نہیں ہوتے، مگر وہ ہماری انسانیت کے پیمانے ہیں۔ ان کی زندگیاں ہمارے ضمیر کا امتحان ہیں۔ آئیے، ہم اس امتحان میں پاس ہونے کی کوشش کریں اور ان معصوم روحوں کے ساتھ کھڑے ہو کر دکھائیں۔

میر بابر مشتاق سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: فلسطینی بچوں کی ہم فلسطین جاتے ہیں یہ ہے کہ بچوں کے دنیا کے کے ساتھ جاتا ہے رہے ہیں ہے کہ ا بڑے ہو ہیں کہ کے بچے کیا ہم کے لیے کر دیا

پڑھیں:

سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک

حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔

ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔

اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔

آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔

موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔

یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔

حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔

عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔

بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔

وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟